| |
Home Page
منگل 27 ذوالحج 1438ھ 19 ستمبر 2017ء
August 18, 2017 | 12:00 am
خاموش ہیرو، ڈاکٹر رُتھ فائو! خصوصی مراسلہ…سیدمحمود شیرازی

Todays Print

’’قران حکیم میں ارشاد ربانی ہے کہ ’’جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی‘‘ اور اگر اس دور میں ہمیں کوئی اس آیت پر عمل پیرا نظر آیا تو وہ یقیناً ڈاکٹر رُتھ فائو تھیں جنہوں نے اپنی جوانی اور زندگی کو انسانیت کی خدمت اور لوگوں کی جان بچانے میں صرف کیا۔ ڈاکٹر رتھ فائو دس اگست کو 88سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئیں لیکن ہمارے لئے ایک پیغام چھوڑ گئیں جس پر عمل کر کے ہم بھی انسانیت کے کام آ سکتے ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ خاموش رہ کر بھی بڑے بڑے کام بغیر کسی نمود و نمائش کے انجام دیئے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر رتھ فائو نو ستمبر 1929کو مشرقی جرمنی کے شہر لیپزگ میں پیدا ہوئیں۔ مادام رتھ فائو دوسری جنگ عظیم کی ہولناکیوں میں پلی بڑھیں اور انہوں نے انسانیت کو سسکتے مرتے ہوئے دیکھ کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا۔ مشرقی جرمنی پر روسی تسلط کی وجہ سے رتھ فائو اور ان کے خاندان کو ہجرت کا درد سہنا پڑا اور بہتر مستقبل کیلئے مغربی جرمنی منتقل ہونا پڑا۔ مغربی جرمنی آکر رتھ فائو نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور 1949-50 میں یونیورسٹی آف مینز سے میڈیکل کی ڈگری مکمل کی۔ ڈاکٹر روتھ فائو پہلی بار 1960میں 31سال کی عمر میں حادثاتی طور پر پاکستان آئیں۔ مادام رتھ فائو پاکستان آنے سے قبل ہی ایک مشنری تنظیم سے وابستہ ہو چکی تھیں، اور انہیں بھارت میں کام کرنے کی غرض سے جانا تھا لیکن ویزے کے مسائل کی وجہ سے انہیں کراچی میں پڑائو کرنا پڑا۔ اسی دوران انہیں جذام سے متاثرہ افراد کی ایک کالونی میں جانے کا موقع ملا۔ مریضوں کی حالت زار دیکھتے ہوئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان میں ہی رہیں گی اور ایسے مریضوں کی مدد کریں گی۔ انہوں نے اس بیماری کے خاتمے کو اپنا مشن بنا لیا اور اپنی بقیہ زندگی پاکستان سے جذام کے خاتمے کیلئے وقف کر دی۔ اس دوران انہوں نے بھارت سے جذام سے متعلق تربیت بھی حاصل کی۔ ڈاکٹر رتھ فائو نے جذام کے مریضوں کو گلے لگایا اور اُن لوگوں کے مرض کا مداوا کیا جن کے اپنے گھر والے بھی ان سے دوری اختیار کر لیتے تھے بلکہ انہیں اچھوت سمجھ کر معاشرے کا عضو معطل بنا دیا جاتا تھا۔ اس طرح کے دھتکارے ہوئے لوگ ڈاکٹر رتھ فائو کی عنایات کا مرکز بن گئے۔ انہوں نے 1960میں ہی کراچی میں کوڑھیوں کی بستی میں جذام سینٹر قائم کیا اور اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور پورے پاکستان میں جہاں بھی انہیں جذام کے مرض کے بارے میں پتا چلتا وہاں پہنچ جاتیں اور جذام کے مریضوں کو جو رفتہ رفتہ موت کی جانب رینگ رہے ہوتے ہیں، انہیں ایک بار پھر زندگی کی جانب گامزن کر کے اپنے نئے سفر پر روانہ ہو جاتیں۔ ڈاکٹر رتھ پاکستان میں جذام کے علاج کے سینٹر بناتی چلی گئیں یہاں تک کہ ان سینٹرز کی تعداد 170تک پہنچ گئی۔ یہ سینٹرز اب تک ہزاروں بلکہ لاکھوں مریضوں کی زندگیاں بچا چکے ہیں۔ ڈاکٹر رتھ فائو کو 1988میں پاکستانی شہریت دی گئی، ان کی کوششوں کی بدولت پاکستان کو 1996میں جذام فری ملک قرار دیا گیا اور پاکستان ایشیا کا پہلا ملک بن گیا جہاں سب سے پہلے جذام اور کوڑھ جیسے موزی مرض کا خاتمہ ہوا تھا۔ اس کا تمام سہرا مادام رتھ فائو کو جاتا ہے۔ تقریباً 57سال تک ڈاکٹر رتھ فائو نے پاکستانیوں کی خدمت کی اور اس دوران انہیں ان کے جذبہ انسانیت کی وجہ سے پاکستان سمیت پوری دنیا سے سراہا گیا۔ ڈاکٹر رتھ فائو کو 2012میں جرمنی میں ’’خاموش ہیرو‘‘ کا بین الاقوامی میڈیا ایوارڈ ’’بامبی‘‘ بھی دیا گیا۔ ڈاکٹر رتھ فائو کے اعزاز میں جرمنی کے شہر ڈوسلڈورف ميں منعقدہ اس تقريب ميں دنیا بھر سے ٹیلی وژن اور فلم کی ایک ہزار سے زائد شخصیات جمع ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر رتھ فائو واقعتاً ایک خاموش ہیرو تھیں اور انہوں ساٹھ سال ایک ایسے ملک میں گزارے جہاں عورتوں کے گھروں سے باہر نکل کر کام کرنے کو بُرا سمجھا جاتا تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے پاکستانی معاشرے میں خاموشی سے اپنے مشن کو جاری رکھا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کے جانے سے جو نقصان پہنچا ہے، اُس کا ازالہ ممکن نہیں۔ وہ محض جذام کا علاج کرنے والی ڈاکٹر نہیں تھیں بلکہ وہ ایک مضبوط کردار کی حامل ایسی شخصیت تھیں جسں نے مذہب اور عقیدے سے بالاتر ہو کر انسانوں کی خدمت کی ، اس طرح کے انسان چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ ڈاکٹر رتھ فائو کسی مادی جسم کا نہیں بلکہ ایک مشن اور ایک نظریے کا نام تھیں اور نظریے کبھی مرا نہیں کرتے۔