| |
Home Page
منگل 27 ذوالحج 1438ھ 19 ستمبر 2017ء
ادارتی نوٹ
August 18, 2017 | 12:00 am
غیرت کے نام پر قتل:آخر کب تک؟

Ghairat Ke Naam Par Qatal Aakhir Kab Tak

پاکستان ترقی پذیر اسلامی ملک ہے مگر آج بھی لوگ یہاں بعض فرسودہ روایات میں جکڑے ہوئے ہیں۔ آج کے اِس ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارے معاشرے میں عورت کو آئے روز کارو کاری، ونی یا غیرت کے نام پر قتل یا کسی ظالمانہ رسم کی نذر کر دیا جاتا ہے بالخصوص غیرت کے نام پر قتل معمول بن چکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پچھلے پانچ سال میں تقریباً پانچ ہزار خواتین غیرت کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر کا تعلق پنجاب اور سندھ سے تھا۔ بدھ کے روز لاہور میں بھی ایسا ہی درد ناک واقعہ پیش آیا جہاں نوجوان بیٹے نے اپنی بیوہ ماں کو دوسری شادی کرنے کی وجہ سے اپنی بہن سمیت غیرت کے نام پرقتل کر دیا حالانکہ ہمارا دین ایک بیوہ کو دوسری شادی کی مکمل اجازت دیتا ہے۔ اوکاڑہ میں بھی چچا نے اپنی بھتیجی کو بدچلنی کے شبہ میں قتل کر دیا۔ ایک طرف تو ہم خواتین کے حقوق کی پاسداری کی باتیں کرتے ہیں اور اُن کیلئے مخصوص دِن بھی مناتے ہیں، مگر دوسری طرف خواتین مظالم کا شکار ہیں اُن کا استحصال کیا جاتا ہے۔ اِن واقعات کی ایک بڑی وجہ خواتین میں آگاہی کا نہ ہونا بھی ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر قتل اور ریپ سے متعلق بل متفقہ طور پر منظور کئے تھے۔ بل کے تحت غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات کو ناقابل تصفیہ قرار دیا گیا اور طے پایا تھا کہ مجرم قرار دیے جانے والے شخص کو عمر قید سے کم سزا نہیں دی جا سکے گی۔ اس کے باوجود آئے دن ایسے واقعات کا رونما ہونا ملک میں قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ خواتین کمزور صنف ہیں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے اِن قوانین سے استفادہ نہیں کر پاتیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اِن قوانین کے نفاذ کو یقینی بناتے ہوئے غیرت کے نام پر قتل کرنیوالوں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ خواتین پر ہونے والا ظلم روکا جا سکے اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔