| |
Home Page
جمعہ 05 ربیع الاوّل 1439ھ 24 نومبر 2017ء
عطا ء الحق قاسمی
August 18, 2017 | 12:00 am
نواز شریف، شہباز شریف اور طاہر القادری

Nawaz Shareef Shahbaz Shareef Aur Tahir Al Qadri

ڈاکٹر طاہر القادری نے 3مارچ1989 کو لاہور کے علاقہ ماڈل ٹائون کی جامع مسجد اتفاق میں اپنا آخری خطبہ دیا۔ اس خطبے میں انہوں نے شریف خاندان، نواز شریف اور شہباز شریف سے محبت، شفقت اور چاہنے کے تعلق کا خاص طور سے ذکر کیا۔ اسی خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ اس محبت کا بھرم زندگی بھر رکھیں گے۔ آپ ان کا یہ خطبہ پڑھیں گے اور اس کے ایک ایک جملے پر نواز شریف، شہباز شریف اور ان کے والد گرامی کی اعلیٰ ظرفی اور طاہر القادری صاحب کی کم ظرفی پر حیران ہوں گے۔ پہلے آپ قادری صاحب کا خطاب لفظ بہ لفظ پڑھ لیں، اس کے بعد صرف چند باتیں کروں گا۔ لیجئے ان کا خطبہ حاضر ہے۔
’’نومبر 1982کی بات ہے دل کی تکلیف ہوگئی پھر میں میوہسپتال داخل ہوگیا دو ایک ماہ وہاں داخل رہا۔ اس اثنا میں میں نے میاں صاحب کی محبت کو، شفقت کو ان کی چاہت کو مزید قریب سے دیکھا۔ مجھے ان کی وہ محبت کے دن آج تک یاد ہیں اور اس کا حیا ہمیشہ میرے دل میں رہا ہے اور ان شاء اللہ مرتے دم تک رہے گا۔ یہ صبح شام ایک ایک گھنٹہ آکے میرے سرہانے یا بستر کے قریب یا دروازے کے باہر کھڑے دیکھتے رہتے۔ اسی محبت کا اظہار کرتے ہیں جس طرح باپ اولاد کے لئے کرتا ہے۔ میں بھی جانتا تھا کہ اس قدر مصروف زندگی جو ایک منٹ بھی کسی اور کے لئے صرف نہیں کرپاتے وہ صبح شام گھنٹہ گھنٹہ آتے ہیں، کھڑے رہتے ہیں اسی طرح نواز صاحب بھی آتے تھے، شہباز صاحب ان کے چھوٹے بھائی سارے احباب آتے، میاں صاحب کی اس محبت سے اس شفقت سے میں بڑا متاثر ہوا۔
میں تو بیماری کی وجہ سے معذور تھا ، صاحب فراش تھا ،بستر پر تھا میاں صاحب نے فی الفور اپنے منجھلے بیٹے شہباز شریف صاحب کو حکم دے کر میرے ساتھ امریکہ روانہ کردیا۔ اس دور میں شہباز شریف نے جو برتائو میرے ساتھ کیا وہ بھی یاد گار ہے مجھے ہمیشہ اس کابھی احساس اور پاس اور حیا رہا ہے، رہے گا ان شاء اللہ۔ یعنی اب میں سمجھتا ہوں کہ میاں صاحب کی ہدایت ہی تھی یقیناً میں علیل تھا کمزور تھا میرے جوتے تک وہ کھولتے تھے، پہناتے تھے، تسمے اپنے ہاتھ سےباندھتے تھے، کھولتے تھے۔ کہیں جھکنے سے تکلیف نہ ہو،چھوٹا سا آپریشن ہوا تھا، انجیو گرافی کا معمولی سا، بہر حال دن رات ہر ممکن خدمت کرتے، میں جب بھی منع کرتا کہتے ہمیں تو میاں صاحب کا حکم ہے ہم تو اسی طرح کا ادب احترام کرتے ہیں جس طرح اپنے والد صاحب کا کرتے ہیں۔ آپ ہمیں نہ روکیں ہمارے لئے سعادت ہے!
عمرے پر گئے تو نواز شریف صاحب بھی تھے میاں صاحب کی اپنی اولاد کو میں سمجھتا ہوں یہ ہدایت تھی جس کے پیش نظر وہ اس طرح کا سلوک عزت کا، عقیدت کا، محبت کا کرتے تھے اور مجھے چونکہ کمزوری تھی علالت تھی اس ہارٹ ٹربل کے بعد صحت یابی کے باوجود بھی آپ نے سن رکھا غار حرا پر چڑھنے کا وقت آیا تو وہ پہاڑ پر میں چڑھ نہیں سکتا تھا نواز شریف صاحب نے اللہ ان کو اجر دے اور اختر رسول صاحب نے اپنے کندھوں پر اٹھا کر مجھے دو اڑھائی میل کا سفر غار حرا تک پہاڑ پر چڑھ کرکیا۔ اکثر نواز شریف کندھوں پر اٹھاتے تھے اختر رسول صاحب سہارا دیتے تھے۔ ‘‘
خطبہ آپ نے پڑھ لیا اور قادری صاحب کافی عرصے سے میاں برادران کے بارے میں جو کچھ ارشاد فرما رہے ہیں اور ان کے حوالے سے کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی جوزبان استعمال کر رہے ہیں، یقیناً آپ دل ہی دل میں اس پر داد دیتے ہوں گے، شہباز، نواز دل کی ذرا سی تکلیف پر انہیں علاج کے لئے خود امریکہ لے کر گئے اور انہیں جوتے پہناتے اور اتارتے رہے۔ حالانکہ ان جوتوں کا ایک تیسرا استعمال بھی موجود تھا۔ آج کل پتہ نہیں ان کے جوتے کون اتارتا ہے یا وہ کس کے جوتے اتارتے ہیں، مگر اس سے قطع نظر اسی شہباز شریف کو گزشتہ روز انہوں نے غنڈہ، بدمعاش اور اس کے علاوہ بھی منہاج القرآن کی ڈکشنری میں اس نوع کے جو الفاظ وافر تعداد میں ملتے ہیں ،وہ بھی استعمال کر ڈالے۔ اللہ جانے ’’ ان کی محبت کا حیا ہمیشہ میرے دل میں رہا ہے اور ان شاء اللہ مرتے دم تک رہے گا!‘‘قادری صاحب کے ان الفاظ کی روشنی میں ان کا شمار زندوں میں کرنا تو مشکل ہے لیکن وفات کے بعد چونکہ بہت سی رسومات ادا کرنا ہوتی ہیں وہ شاید ابھی باقی ہیں!
قادری صاحب جب عمرے پر گئے تو نواز شریف صاحب بھی ان کے ساتھ تھے۔ اس کے بعد کیا ہوا، وہ قادری صاحب ہی کی زبان سے سنیے۔’’غار حرا پر چڑھنے کا وقت آیا تو وہ پہاڑ میں چڑھ نہیں سکتا تھا، نواز شریف صاحب نے ،اللہ ان کو جزا دے اور اختر رسول صاحب نے اپنے کاندھوں پر بٹھا کر مجھے دو اڑھائی میل تک کا سفر غار حرا تک پہاڑ پر چڑھ کر کیا۔ اکثر نواز شریف صاحب کاندھوں پر اٹھاتے تھے، اختر رسول صاحب سہارا دیتے تھے۔‘‘اللہ جانے ان دنوں وہ کس کے کاندھوں پرسوار ہو کر اپنا سیاسی سفر طے کر رہے ہیں۔ اس کو چھوڑیں مگر یہ دیکھیں کہ اسی نواز شریف کو ڈاکو، لٹیرا، چور اور کسی گندی زبان سے جو کچھ غلاظت کسی پر پھینکی جا سکتی ہے ، موصوف وہ پھینکتے چلے جا رہے ہیں!حضرت صاحب کو جب پاکستان بلانا ہو، آواز دے کر انہیں طلب کیا جا سکتا ہے، اس دفعہ وہ ماڈل ٹائون کے حادثے میں جاں بحق ہونے والو ں کا قصاص لینے آئے ہیں، وہ بار بار کہتے ہیں کہ ہم ان کا بدلہ لیں گے حالانکہ وہ پاکستان بدلہ لینے نہیں بھتہ لینے تشریف لاتے ہیں اور پھر مرادیں پوری ہونے پر واپس چلے جاتے ہیں۔ وہ متذکرہ سانحہ کے حوالے سے کورٹ کی کسی رپورٹ کا ذکر بھی کرتے ہیں، کہیں ہائی کورٹ کے وہ ریمارکس سامنے نہ آجائیں جس میں قادری صاحب کو جھوٹا اور کذاب کہا گیا ہے، چنانچہ حضرت کو چاہیے کہ وہ تقریر کے دوران احتیاط سے کام لیا کریں۔ وما علیناالاالبلاغ۔