| |
Home Page
اتوار 29 صفر المظفر 1439ھ 19 نومبر 2017ء
مظہر بر لاس
August 18, 2017 | 12:00 am
یہ اچھی بات نہیں

Yeh Achi Baat Nahi

دانیال عزیز نے وہی کیا جو ان کے والد نے کیا تھا، وہ بھی جونیجو دور میں وزیر مملکت بننے کے لئے تیار نہیں ہوئے تھے۔ دانیال عزیز کے والد انور عزیز چوہدری، ڈاکٹر عبدالعزیز کے صاحبزادے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالعزیز اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر سرگودھا میں آباد ہو گئے تھے، انہوں نے سرگودھا میں مسیحائی کرتے کرتے عمر گزار دی۔ انور عزیز چوہدری پہلے گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھے پھر امریکہ میں پڑھتے رہے۔ وہیں انہوں نے شادی کی، انور عزیز چوہدری اور ان کی امریکی اہلیہ دونوں تیراکی کے مقابلے جیتے تھے پھر جب عورتوں اور مردوں کے مقابلے میں انور عزیز جیت گئے تو ان کی اہلیہ کیتھلین کو پاکستان آنا پڑا۔ اس کی بڑی وجہ ایک شرط تھی۔ اگر کیتھلین جیت جاتی تو انور عزیز کو عمر بھر امریکہ میں رہنا پڑتا، کیتھلین کی ہار انہیں پاکستان لے آئی۔ انور عزیز نے سیالکوٹ میں وکالت شروع کی اور پھر سیاست میں آ گئے۔ ان کی اہلیہ نے لاہور کو مسکن بنایا، وہ لاہور کے امریکن سکول میں پڑھاتی تھیں۔ خیر انور عزیز ایوبی دور میں بطور ممبر اسمبلی سیاست میں داخل ہوئے۔ 1970ء میں وہ پیپلز پارٹی کے ملک سلیمان سے ہار گئے، جب ملک سلیمان کے بھٹو سے اختلافات ہوئے تو انور عزیز پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ 1977ء کے انتخابات کے بعد وہ بھٹو کی کابینہ میں خوراک و زراعت کے وفاقی وزیر بن گئے۔ وہ بھٹو کی کابینہ میں ان لوگوں میں شامل تھے جن کا موقف تھا کہ فوراً الیکشن کروا دیئے جائیں، بھٹو صاحب نے دیر کی اور تاخیر ہمیشہ مروا دیتی ہے۔ بھٹو کی حکومت ختم ہو گئی، جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالا، ملک میں مارشل لا نافذ ہو گیا، بھٹو کو پھانسی دے دی گئی، ضیاء الحق کی کابینہ میں جاوید ہاشمی جیسے جمہوریت کے کئی چیمپئن شامل تھے، ووٹ کی قدر کا رونا رونے والے نواز شریف بھی 1981ء میں پنجاب کے وزیر خزانہ بن گئے تھے، بعد میں انہوں نے ضیاء الحق کی موت تک بیعت کئے رکھی۔ ان کا یہ سفر ضیاء الحق کی موت کے بعد بھی جاری رہا، وہ ہر سال مرحوم جرنیل کی برسی پر جاتے، ان کے مشن کی تکمیل کا اعادہ کرتے، ایک عرصے تک میاں نواز شریف کا یہی چلن رہا۔ وہ تو اب ان کی آنکھ کھلی ہے اور انہیں پتہ چلا ہے کہ ضیاء الحق مردِ مومن مردِ حق نہیں بلکہ ڈکٹیٹر تھے۔ یہ بات تو سب کو پتہ ہے کہ نواز شریف، ضیاء الحق کے طفیل وزیر بنے پھر وزیر اعلیٰ بنے اور ضیاء الحق کے نقش قدم پر چلنے والوں کے طفیل وزیر اعظم بنے۔ بعد میں جو کچھ ہوتا رہا، اس کے تذکرے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ ماضی قریب سے سب لوگ واقف ہیں۔
بات ہو رہی تھی دانیال عزیز کے والد انور عزیز چوہدری کی، ضیاء الحق کے مارشل لا میں جب پیپلز پارٹی نے ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کا آغاز کیا تو انور عزیز نے لاہور کے ریگل چوک میں گرفتاری دی۔ 1985ء میں جب ضیاء الحق نے غیر جماعتی الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا تو پیپلز پارٹی نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا مگر انور عزیز سمیت کچھ لوگوں نے پارٹی پالیسی کے خلاف ان غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ان انتخابات کے لئے تیار کئے گئے پوسٹرز میں انہوں نے ضیاء الحق کو محبت کا پیغام دیا، پوسٹرز پر پنجابی کا شعر درج تھا ؎
کر منظور گدائی نوں
اساں آکڑ غصہ تھکیا
ترجمہ:ہماری گدائی کو منظور کرو، ہم نے ناراضی چھوڑ کر عاجزی اختیار کر لی ہے، اب ہم میں اکڑن ہے نہ غصہ ۔
یہ درخواست منظور ہوئی، الیکشن ہوا اور انور عزیز جیت گئے۔ 1985ء کے غیر جماعتی الیکشن میں خواجہ صفدر کا میاں نعیم الرحمٰن سے بڑا سخت مقابلہ ہوا، اسمبلی میں پہنچ کر انور عزیز کی سیاست رنگ دکھانے لگی، انہوں نے خواجہ صفدر کو ضیاء الحق کی حمایت کے باوجود اسپیکر نہ بننے دیا بلکہ نوجوان سید فخر امام اسپیکر بن گئے۔ حکومت بنی تو پیر پگارو کی مرضی سے محمد خان جونیجو وزیر اعظم بن گئے، غیر جماعتی الیکشن کے نتیجے میں بننے والی اسمبلی میں مسلم لیگ بن گئی۔ محمد خان جونیجو نے کابینہ تشکیل دی تو انہوں نے انور عزیز کو وزیر مملکت بننے کی پیشکش کی، انور عزیز نے وزیر مملکت بننے کے بجائے پیر پگارو کے در پر حاضری دی اور کہنے لگے ’’پیر صاحب! جو لوگ ہمارے گھٹنوں کو چھو کر ملتے ہیں وہ بھی چھوٹے وزیر اور ہم بھی چھوٹے وزیر، بس میں وزیر نہیں بنتا‘‘ پیر پگارو کی مداخلت کے بعد انور عزیز کو بلدیات کا وفاقی وزیر بنایا گیا، اس کابینہ میں ظفر اللہ جمالی پانی اور بجلی کے وزیر تھے، حامد ناصر چٹھہ اطلاعات جبکہ یوسف رضا گیلانی ہائوسنگ کے وزیر تھے، کچھ عرصے بعد انور عزیز کو کرپشن کے الزامات کے تحت فارغ کر دیا گیا۔
انکوائری کمیٹی نے ان کی بے گناہی کی رپورٹ تیار کی مگر یہ رپورٹ دھری کی دھری رہ گئی اور وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو گھر بھیج دیا گیا۔ اسمبلی توڑ دی گئی۔ اس دور میں اپوزیشن کے لوگ بھی کمال تھے، حاجی سیف اللہ، ڈاکٹر شیر افگن نیازی، عابدہ حسین، شیخ رشید احمد، سید فخر امام اور ڈاکٹر شفیق چوہدری، اسی زمانے میں جاوید ہاشمی بھی جاگ کر مردِ مومن سے منکر ہو چکے تھے۔
انور عزیز نے 1988ء کا الیکشن آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے لڑا اور پھر ایک مرحلے پر پیپلز پارٹی میں چلے گئے۔ 1990ء میں ان پر قتل کا مقدمہ بنا تو میاں نواز شریف نے ان پر زمین تنگ کر دی مگر پرانے مراسم کی بنا پر انہوں نے نواز شریف ہی کے ایک وزیر اعلیٰ جام صادق علی کے ہاں پناہ لے رکھی تھی۔
دانیال عزیز کا سیاسی سفر بھی بلدیاتی الیکشن سے شروع ہوا پھر وہ ایم این اے بن گئے۔ 1977ء کے زمانے میں وہ قومی اسمبلی کے آزاد گروپ میں تھے، جب پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو دانیال عزیز این آر بی کے ممبر بن گئے، اس زمانے میں جنرل تنویر نقوی این آر بی کے چیئرمین تھے، 2002ء کے الیکشن کے بعد دانیال عزیز چیئرمین این آر بی بن گئے، انہیں وفاقی وزیر کا درجہ بھی مل گیا۔ اب ایک مرتبہ پھر وہ وفاقی وزیر بن گئے ہیں۔ یہ وزارت انہیں اپنے والد کی سنت پر عمل پیرا ہو کر ملی ہے۔ یہ انوکھی کابینہ ہے جس میں چار اہم وفاقی وزراء خواجہ آصف، زاہد حامد، احسن اقبال اور دانیال عزیز کے حلقے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
میاں نواز شریف، ضیاء الحق کے دور میں اقتدار میں آئے، انہوں نے ہی میاں صاحب کی سیاست کو دوام بخشا مگر اب میاں نواز شریف نے عجیب و غریب باتیں شروع کر دی ہیں۔ مثلاً سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد انہوں نے ریلی کا فیصلہ کیا، ریلی پنڈی میں دم توڑ گئی تو انہوں نے جی ٹی روڈ پر دو تین شہروں میں جلسے کئے۔ گجرات میں چند ہزار لوگ تھے، گوجرانوالہ میں پندرہ بیس ہزار ہو گئے، گوجرانوالہ کے جلسے کو کامیاب بنانے میں سب سے اہم کردار مسلم لیگ یوتھ ونگ کے صدر شعیب بٹ کا تھا چونکہ اس جلسے میں زیادہ تر نوجوان ہی نظر آ رہے تھے، لاہور میں پورے پنجاب سمیت وفاق اور تین اور اکائیوں کے سرکاری وسائل استعمال کئے گئے مگر لوگ توقع سے کم جمع ہوئے۔ جب میاں نواز شریف نے بجلی کا ذکر کیا تو گو نواز گو کے نعرے بھی لگ گئے۔ اس دوران میاں صاحب معزز ججز کو پانچ افراد کہتے رہے۔ اب انہوں نے اور ان کے داماد نے بنگلہ دیش کی باتیں شروع کر دی ہیں۔ مریم نواز کی طرف سے حسینہ واجد کا روپ اپنائے جانے کی بات خود مسلم لیگیوں کے لئے ایک بڑا سوال ہے کیونکہ یہ بات کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ سعدیہ بشیر کے اشعار یاد آ رہے ہیں۔
روانی وقت کی ہے پر کہانی اور ہے کوئی
یہ جو اشکوں کی صورت ہے یہ پانی اور ہے کوئی
میرا دل محو ماتم ہے محبت کے جنازے پر
جہاں جذبوں کی بندش میں نشانی اور ہے کوئی
مجھے کوئی علاقہ ہی نہیں اب نام سے تیرے
مگر دل کے اقامے کی کہانی اور ہے کوئی