| |
Home Page
منگل 27 ذوالحج 1438ھ 19 ستمبر 2017ء
منصور آفاق
August 20, 2017 | 12:00 am
نواز شریف کے بعد پاکستان

Nawaz Sharif K Bad Pakistan

ابھی تھوڑی دیر پہلے میں مانچسٹر کے پاکستان کمیونٹی کے سینٹر ہال میں بیٹھا ہوا تھا۔سامنے دو تین سو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ جن کے چہروں پر ہی نہیں دلوں پر بھی ’’پاکستان زندہ باد‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اچھے اچھے سلوگن والے بینر دیواروں پر آویزاں تھے ۔یہ سب وہی لوگ تھے جنہوں نے دامن کی دھجیاں سنبھال رکھی تھیں کہ اگست آیا تو جھنڈیاں بنائیں گے۔ وہ جھنڈیاں ہال میں لہرا رہی تھیں۔ شاید دیارِ غیر
میں رہنے والے پاکستانیوں کو پاکستان سے اس لئے بھی بہت زیادہ محبت ہے کہ ان کے اندر سے اِس بات کا دکھ نہیں جاتا ہے کہ وہ اپنا وطن چھوڑ آئے ہیں۔ وہ وطن جس کی بنیاد ان کے اجداد نے اپنی خون آلودہ ہڈیوں پر رکھی تھی۔ آگ کا ایک دریا چیر کر دوسرے کنارے آئے تھے۔ اقبال کے خواب کو دیوتا بنا کر اُس پر لاکھوں جانیں وار دی تھیں۔ اسٹیج پرمیرے ساتھ دائیں طرف مسلم ہینڈز کے چیئرمین لخت حسنین بیٹھے ہوئے تھے ان کے آگے سہیل وڑائچ تشریف فرما تھے ۔ان کے بعد ڈاکٹر اکبر ملک بیٹھے ہوئے تھے ۔میرے بائیں طرف والی نشست پر پی ٹی آئی کے رہنما اور قومی اسمبلی کے ممبر امجد خان براجماں تھے ۔ان کے ساتھ چوہدری سکندر کی نشست تھی ۔سامنے میز پرایک خواب رکھا ہوا تھا ۔لہو سے لتھڑا خواب ۔سید کاشف سجاد کی تخلیق ’’میری پہچان پاکستان ‘‘اس تقریب کا اہتمام طاہر چوہدری نے کیا تھا صابر رضااُن کے معاون ِ خصوصی تھے۔لندن سے خاص طور پر احسان شاہد آئے تھے۔جنہیں میں جب بھی ملتا ہوں تو عطاالحق قاسمی یاد آجاتے ہیں ۔اگرچہ اِس تقریب کا عنوان ’’استحکام ِ پاکستان ‘‘تھا مگرمقررین کی گفتگو سے ایسا لگتا تھا جیسے اِس تقریب کا موضوع ’’نواز شریف کے بعد پاکستان ‘‘ ہو۔منوبھائی کی نظم ’’احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر‘‘ ایک گمبھیر آواز میں جب اِس بند پر پہنچی۔ (بینکاں تے اشراف دے ڈاکے۔۔سب توں وَڈی دشمن ساڈی۔۔اَن مُل تے بے جوڑ ترقی۔۔‘‘ موٹر وے ’’توں پنج قدماں تے۔۔پنج صدیاں پہلے دا چرخہ۔۔چھ صدیاں پہلے دی چکی۔۔کیہڑی ہور شہادت لبھئے۔۔ کیہڑی ہور گواہی پایئے۔ ایس تباہی، بربادی دا۔ کیہڑا ہور ثبوت لیایئے۔ احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر)۔ تو مجھے لگا کہ واقعی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہی پاکستان کا اصل مسئلہ ہے۔ جب ایک مقرر نے کہا کہ (امریکہ کی آرمی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈنگ جنرل،لیفٹیننٹ جنرل مائیکل گیریٹ کی قیادت میں چھ رکنی وفد نےپاکستان کا تین روزہ دورہ نواز شریف کے نا اہل ہونے کے فوراً بعد کیوں کیا۔کیا پاکستان کو پھر کسی نئی جنگ میں جھونکنے کی پلاننگ کی جارہی ہے ) تو میں سوچنے لگا کہ جی ایچ کیو میں پینٹاگان کے اس اہم ترین دورے کو نوازشریف کی نااہلی کے ساتھ جوڑا جائے یا نہ جوڑا جائے لیکن اس کاتعلق افغانستان میں نئی امریکی پالیسی کے ساتھ ضرور ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک دو ہفتے پہلےمشاہد حسین نے کہا تھا کہ ’’ میں اِس خیال کو سختی سے مسترد کرتا ہوں کہ مستقبل میں پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کے امکانات کم ہیں۔پاکستان افغان مسئلے کے حل میں امریکہ کی مدد کرنے کو تیار ہے۔اسی دوران میرے موبائل فون کی اسکرین پر ایک میسج نمودار ہوا کہ’’خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے اپنا ایک نیا مشن خلا میں بھیج دیا ہے جس کی مدد سے ایک سوال کو دنیا بھر کی زبانوں میں ترجمہ کر کے خلامیں سگنلز کی شکل میں پھیلایا جا رہا ہے اور خلائی مخلوق کی جانب سے دیئے گئے کسی ممکنہ جواب کو سننے کی کوشش کر رہے ہیں،ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس سوال کا جواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ کائنات کے چھپے رازوں سے پردہ اٹھانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ناسا کی طرف سے پوچھا گیا سوال اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کاترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے، اگر دنیا کے کسی بھی باسی کو اس سوال کا جواب پتا ہو تو ناسا کو اطلاع کریں ۔سوال یہ ہے ۔مجھے کیوں نکالا گیا؟‘‘اور میں سوچنے لگا کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم کے ایک ’’اہم ترین سوال ‘‘کا لوگ کس طرح مذاق اڑاتے ہیں۔ سو اپنی باری پر میں نےلوگوں سے اس میسج کے متعلق ان کا خیال پوچھاتو پتہ چلا کہ یہ سوال تو اتنا اہم ہے کہ کئی اداروں کے سینئر ترین لوگوں نے اس سوال پر غور کرنے کے لئے باقاعدہ اجلاس طلب کئے ہیں کہ سابق وزیراعظم کو ابھی تک اتنے آسان سے سوال کا جواب کیوں نہیں مل رہا ۔جب کہ بچے بچے کومعلوم ہے کہ نواز شریف کو کیوں نکالا گیا ۔اجلاس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک ادارے کے صاحبان ِ علم و دانش ایک طویل بحث کے بعد بھی اس نتیجے پر نہ پہنچ سکے کہ سابق وزیر اعظم کو کس طرح سمجھایاجائے کہ انہیں کیوں نکالا گیا تو اُسی ادارے کا ملازم ایک فائل لے کر آیااور کہنے لگا‘‘ جناب یہ فائل نواز شریف کو بھجوا دیجئے انہیں اپنے سوال کا جواب مل جائے گا جب فائل کا کور اٹھایا گیاتو اُس میں فیصلے کا اردو ترجمہ رکھا ہوا تھا۔چہروں پر مایوسی پھیل گئی ۔ انہوں نے کہا’’ یہ کام تو تحریک انصاف والے پہلے کرا کے نواز شریف کو بھیج چکے ہیں ۔‘‘ تو ملازم بولا ’’اُس ترجمے میں دراصل ایک جملے کاترجمہ غلط ہوگیا تھا جس کے سبب سابق وزیر اعظم کو اپنے سوال کا جواب نہیں مل سکا ۔وہ جملہ یہ تھا کہ ’’یہ فیصلہ گزشتہ فیصلےکا تسلسل ہے‘‘ اس ترجمے میں اس بات کا ابہام چھوڑ دیا گیا تھا کہ کیا یہ ’’تسلسل‘‘ گزشتہ فیصلے کی تصدیق بھی کرتا ہے یا نہیں جس میں سابق وزیراعظم کو گاڈ فادر قرار دیا گیا تھا یعنی تمام جرائم کا سربراہ۔ اس ترجمہ میں باقاعدہ یہ لکھ دیا گیاہےکہ یہ فیصلہ گزشتہ فیصلہ کا تسلسل ہے یعنی اُس کی تصدیق کرتا ہے ۔‘‘
تقریب میں سہیل وڑائچ کے کالم
The party is Over اور ’’وزیر اعظم بو۔ وزیراعظم بو‘‘ بھی زیر بحث آئے۔ اُن کے نقطہ نظر کے حق میں اور اُس کے خلاف باتیں بھی ہوئیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایک صحافی کو سہیل وڑائچ کی طرح غیر جانب دار ہونا چاہئے۔ اسے پوری دیانت کے ساتھ اپنے پروفیشن کےلئے کام کرنا چاہئے۔ رات کو رات اور دن کو دن کہنا چاہئے۔ اپنے مفادات کےلئے سورج کو سیاہ گولہ کہنے والے لوگ تاریخ کے ماتھے پر بد نما داغ کی مثال ہوتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ کام بہت مشکل ہے۔ برسوں سے اہل ِ صحافت کا یہی تجربہ ہے کہ یہ غیر جانب داری صحافی کو ہمیشہ نقصان میں رکھتی ہے شاید اسی لئے اِس وقت کم ہی سہیل وڑائچ جیسےلوگ رہ گئے ہیں۔ تقریباً تمام میڈیا تقسیم ہوچکا ہے۔ اپنے اپنے نقطہ نظر کادام ِ ہمرنگ ِ زمین سب کے پائوں جکڑ چکا ہے ۔میں اس عمل کا کریڈٹ بھی سابق وزیراعظم نواز شریف کو دیتا ہوں۔ نجانے سہیل وڑائچ کسے دیں گے۔