| |
Home Page
اتوار 03 محرم الحرام 1439ھ 24 ستمبر 2017ء
مرزا اشتیاق بیگ
September 13, 2017 | 12:00 am
روہنگیا کے مسلمان کسی مسیحا کے منتظر

Rohangiya Ke Musalman Kisi Maseeha Kay Muntazir

گزشتہ دنوں جب اسلامی ممالک میں عیدالاضحی جوش و خروش سے منائی جارہی تھی اور مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کو ذبح کررہے تھے، اِسی دوران بدھ مذہب کے پیروکار ملک میانمار (برما) میں روہنگیا مسلمانوں کو قربانی کے جانوروں کی طرح بے دردی سے ذبح کیا جارہا تھا۔ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام، خواتین اور بچوں کو زندہ جلانے کی یہ ویڈیوز جب سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئیں تو اِن ویڈیوز نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو صدمے سے دوچار کردیا۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام اور اُن پر ظلم و ستم کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے لیکن گزشتہ دنوں اس بربریت میں شدت دیکھنے میں آئی اور صرف ایک ہفتے میں برمی فوج اور بودھ انتہا پسندوں نے سینکڑوں روہنگیا مسلمانوں کو قتل کرکے زندہ جلادیا جبکہ ہزاروں افراد کوزخمی کردیا گیا۔ بربریت سے بچنے کیلئے دو لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان پڑوسی ملک بنگلہ دیش ہجرت کرچکے ہیں جبکہ ہزاروں روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش اور برما کی سرحدوں پر بے یار و مدد گار پڑے ہیں۔
5 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میانمار میں اکثریت کا تعلق بدھ مت مذہب سے ہے جبکہ 22 لاکھ سے زائد مسلمان کئی نسلوں سے میانمار میں آباد ہیں جن میں سے اکثریت روہنگیا میں مقیم ہے۔ 1982ء میں روہنگیا مسلمانوں کو یہ کہہ کر میانمار کی شہریت سے محروم کردیا کہ وہ غیر قانونی بنگلہ دیشی ہیں اور جب 2012ء میں آنگ سانگ سوچی کی جماعت برسراقتدار آئی تو مسلمانوں اور بدھ مت کے درمیان فسادات پھوٹ پڑے جس کی بڑی وجہ میانمار کے حکمرانوں اور دیگر قومیوں کا روہنگیا مسلمانوں کو کھلے دل سے تسلیم نہ کرنا تھا۔ 2013ء میں اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی اُن اقوام میں شامل کیا جن کی سب سے زیادہ نسل کشی کی جارہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران میانمار میں سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کیا جاچکا ہے جبکہ مسلمانوں کے سینکڑوں مکانات اور دیگر املاک بھی نذر آتش کئے جاچکے ہیں جس کے باعث دو لاکھ سے زائد مسلمان دوسرے ممالک میں جابسے ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ میانمار میں برسراقتدار جماعت کی سربراہ اور نام نہاد نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی جب قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہی تھیں تو وہ اپنے ہر ٹی وی انٹرویو اور خطاب میں انسانی حقوق کی پاسداری، ظلم و ستم کے خاتمے اور مظلوموں کو اُن کا حق دلانے کی باتیں کیا کرتی تھیں مگر افسوس کہ جب سے انہوں نے ملک کا اقتدار سنبھالا ہے، روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے بہیمانہ ظلم و ستم پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور اُن پر انسانیت سوز مظالم کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہیں۔ سوچی کا یہ موقف ہے کہ جھوٹی معلومات کی بنیاد پر روہنگیا بحران کی غلط تصاویر پیش کی جارہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سوچی ایوان اقتدار میں پہنچ کر انسانی حقوق کی پاسداری اور انصاف کا سبق بھول چکی ہیں جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کی نسل کشی کے گھنائونے منصوبے میں برابر کی شریک ہیں۔
حال ہی میں اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور سعودی عرب نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے میانمار حکومت سے مسلمانوں کا قتل عام بند کرنے اور اُنہیں بنیادی حقوق دینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر تشویش کا اظہار کیا ہے مگر حکومت پاکستان روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور ان پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم پر صحیح طرح صدائے احتجاج بلند نہیں کرپارہی تاہم نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے سوچی سے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم بند کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے قبل ایک درجن سے زائد نوبل انعام یافتہ شخصیات بھی اِسی طرح کا مطالبہ کرچکی ہیں جبکہ سوچی سے نوبل انعام واپس لینے کیلئے دائر کی گئی آن لائن پٹیشن پر 3 لاکھ سے زائد افراد دستخط کرچکے ہیں۔ اسلامی ممالک میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے آبدیدہ ہوکر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ اُن کے بقول مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش رہنے والا ہر شخص جرم میں برابر کا شریک ہے۔ واضح رہے کہ ترکی وہ واحد اسلامی ملک ہے جو گزشتہ 5 سالوں کے دوران روہنگیا مسلمانوں کی 70 ملین ڈالر کی امداد کرچکا ہے جبکہ حال ہی میں ترک صدر نے میانمار سے ہجرت کرکے بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمانوں کے تمام اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
میانمار میں ظالم فوج کے ہاتھوں درندگی کا شکار ہونے والے مسلمانوں بالخصوص اعضا کٹے بچوں میں ہمارے اپنے بچوں کی جھلک دکھائی دے رہی ہے۔ روہنگیا کی مسلمان خواتین اپنے مسمار شدہ گھروں کی دیواروں پر خون سے تحریر کررہی ہیں کہ ’’کب کوئی عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور محمد بن قاسم اُن کی مدد کیلئے آئیں گے؟‘‘ مگر آج مسلمان اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ ایک طرف ہماری مائوں بہنوں، بھائیوں اور بچوں کو کاٹ کر درختوں پر لٹکایا جارہا ہے، دوسری طرف ہم تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ مجھ سمیت اب کسی پاکستانی سے یہ مناظر نہیں دیکھے جاتے۔ تقریباً دو سال قبل 40 اسلامی ممالک پر مشتمل اسلامی فوجی اتحاد جس کے سربراہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف ہیں، دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے تشکیل دیا گیا تھا مگر آج یہ اتحاد بھی خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا میانمار میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا بہیمانہ سلوک دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا؟
اسلامی ممالک کو چاہئے کہ وہ روہنگیا کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا فوری نوٹس لے کر اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اگر آج اسلامی ممالک نے متحد ہوکر میانمار کے خلاف اقدامات نہ اٹھائے تو پھر مسلمانوں پر ہونے والے مظالم و زیادتیوں کا سلسلہ یونہی چلتا رہے گا اور مسلمانوں کا ارزاں خون یونہی بہتا رہے گا۔ حال ہی میں عالمی عدالت انصاف میں میانمار کی حکمراں جماعت کی سربراہ آنگ سان سوچی اور بدھ مت مذہب کے انتہا پسند مذہبی پیشوا آشن وارتھو کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ عالمی عدالت انصاف کو چاہئے کہ جس طرح ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کے قاتل ریڈووان کرازک پر مقدمہ چلاکر سزا دی گئی تھی، اُسی طرح آنگ سوچی، آشن وارتھو، میانمار کی افواج کے سربراہ اور مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث دیگر افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے۔