| |
Home Page
پیر 04 محرم الحرام 1439ھ 25 ستمبر 2017ء
منصور آفاق
September 13, 2017 | 12:00 am
فورتھ شیڈول سےرحمان بابا تک

Fourth Schedule Se Rehman Baba Tak

مولانا مسرور نواز جھنگوی کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے کے معاملے پر دائر درخواست کی سماعت سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کے بعد جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بھی معذرت کر لی۔میرا عدالت ِ عالیہ سے سوال ہے کہ سلامتی اور عافیت کا نگر کونسا ہے۔رحمان بابا نےچار سو سال پہلے کہا تھا
روشنی گلیوں میں ہے دانشوروں کے فیض سے
صاحبان علم دنیا کے ہوئےہیں پیشوا
جو تلاش حق میں ہیں
علم والوں کو کریں وہ رہنما
جاہلوں کی زندگی تو مردہ لوگوں کی طرح ہے
کتنے ستم کی بات ہے کہ جب یہی سوال رحمان بابا کے مزار کی ٹوٹی ہوئی محرابوں نے کیا تھاجن کی کرچیاں تاریخ کی آنکھوں میں پیوست ہوگئی ہیں۔تو ابوجہلوں کی بارود بھری مردہ نسل نے کہا تھارحمان باباکون تھے۔؟
میں کل دیکھ رہا تھا کہ قذافی اسٹیڈیم میں ورلڈ الیون کی ٹیم پریکٹس کر رہی تھی اور ہمارے فوجی جوان بالکل اُسی طرح ایستادہ تھے جیسے وہ دشمن کے مقابلے میں محاذِ جنگ پر تیار کھڑے ہوں اورمجھے افلاطون یاد آ گیاجس نے کہا تھا کسی معاشرہ پر اس سےبڑا اورکوئی عذاب نازل نہیں ہو سکتا کہ اس کےلوگ عقل و خرد کے دشمن ہو جائیں۔ہم عقل و خرد کے دشمن کیوں ہو گئے ہیں۔کیا ہمیں معلوم نہیں کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسا نیت کا قتل ہے۔رنگ، نسل، وطن، مذہب، اور زبان کا اختلاف کسی بھی انسان کے قتل کا جواز نہیں بن سکتا۔انسان کا خون مقدس ہے۔انسانی لہو بلوچ پہاڑوں کی ڈھلوانوں پربہے یا کراچی کی گلیوں میں۔چاہے برما میں روہنگیا کے مسلمانوں کا قتل عام ہو یا فرانس کے کسی اسٹیڈیم میں انسانی لاشیں پڑی ہوں۔اُس کے تقدس میں کوئی فرق نہیں آتا۔قاتل خانقاہوں سے نکلیں یاجمہوریت نوازممالک سے آئیں وہ قاتل ہی ہوتے ہیں امریکہ افغانستان میں پھر خون کی ہولی کھیلے یابھارت سرحدوں پر بے وجہ آگ اُگلے۔انسانیت کا جسم ہی زخم زخم ہونا ہے۔(کل سارا دن فاروڈ کہوٹہ کا علاقہ بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے گونجتا رہا ہے ) افسوس کہ میری گلیوں میں یہ کہنے والا کوئی رحمان بابا موجود نہیں کہ لہو کی کوئی داستان اب کہیں نہیں لکھی جائے گی۔ کسی ماں کا کلیجہ ٹکڑے ٹکڑے نہیں کیا جائے گا۔کسی بچے کے مقدر پر یتیمی کی مہر نہیں لگائی جائے گی۔کبھی کبھی مجھےایسا لگتا ہے کہ انسان ابھی تک پوری طرح بالغ نہیں ہوا۔جسمانی ارتقا کے اختتام پر شروع ہونے والا ذہنی ارتقا ابھی کسی لہو رنگ خواب میں رکا ہوا ہے۔ستاروں کو تسخیر کرنے والا انسان اپنی جبلتوں میں کسی بچے کی مثال ہے۔زندگی کی چلتی پھرتی باتیں خانہ شعور کی سیڑھیوں سے زینہ زینہ اتر رہی ہیں مگرفہم کے تہہ خانے میں رہنے والوں نے اپنی سماعتوں میں پگھلا ہوا سیسہ بھر لیا ہے۔آنکھوں میں سلائیاں پھیر لی ہیں۔ پھررحمان بابا یاد آگئے۔وہ اِس اندھی بہری معاشرت کا پوری طرح ادراک رکھتے تھےاسی لئےتوفرما گئے ہیں
اپنے رحمان بابا کی باتیں۔۔ یاد آئیں گی جس وقت تیرا
ایک دیوار کی سمت چہرہ۔۔دوسری کی طرف پیٹھ ہوگی
رحمان بابا صرف اہل مشرق سے نہیں۔اہل مغرب سے بھی مخاطب ہوئے۔ان کےنزدیک مغرب اور مشرق کا فرق و امتیاز کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ان کا خدا تو رب المشرقین بھی ہے اور رب المغربین بھی جسے کسی بھی بے گناہ انسان کا خون گرانا کسی طرح گوارانہیں۔ دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر امریکی طیاروں کے ناروا حملے ہوں یا خود کش دھماکے کرنے والے اچھے برے طالبان۔دونوں ملعون فعل ہیں۔داعش کو اسلحہ فراہم کرنے والے خفیہ ادارے ہوں یاورلڈبنک کی رزم گاہ میں معیشت کی عالم گیر جنگ لڑنے والےدھوکے باز ذہن ہوں وہ کسی طرح انسان دوست نہیں ہو سکتے۔رحمان بابا کا کہا پتھر پر لکیر ہے
صاحب مال۔ جہاں بان نہیں ہو سکتا سونے کا بت کبھی انسان نہیں ہو سکتا
میں عمران خان کو بھی رحمان بابا کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔وہ خیبر پختون خوا میں اگر ان کی فکر پھیلا دیں تو تنگ نظری اور تشدد کا خاتمہ ہونے میں کوئی دیر نہیں ہوگی۔ وہ پشتو زبان کے ایسے عظیم شاعر ہیں۔بے شک جنہیں بےپناہ عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔ان کی شاعری میں انسان اور انسانی مسائل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کے پاس محبت کا ایک لامتناہی جذبہ موجود ہے۔جو دشت مجاز سے آسمان حقیقت تک پہنچتے پہنچتے بے کنار ہو جاتا ہے۔فطرت سے ان کا رابطہ بہت گہرا ہے۔صوفی کے کدو سے نکلے ہوئے حسی تجربے نے ان کے لفظ کو ایسی گیرائی عطا کی ہےکہ وہ ساری کائنات پر محیط ہو گیا ہے۔
میں نے ان کے مزار پر ایک مشاعرہ پڑھا تھا۔بہت عرصہ کی بات ہے میں ان کے عرس کی تقریب میں شریک ہونے کےلئے گیا تو پتہ چلا کہ کل یہاں ان کی یاد میں مشاعرہ ہورہا ہے۔میں نےاس مشاعرے کےلئے ان کے مزار پر بیٹھ کر ایک نظم کہی تھی اسی کے کچھ اشعار پر گفتگو تمام کرتا ہوں
محیط جہاں یہ اجالوں کا گنبد
یہ انسانیت کے حوالوں کا گنبد
یہ علم و قلم کا ثمر دار برگد
یہ رحمان بابا کی پُر نور مرقد
یہ مرقد نہیں کوئی پارینہ قصہ
یہ مرقد ہے تاریخ کا ایک حصہ
تصوف کی جولانیاں ہیں اسی سے
قلم کی فراوانیاں ہیں اسی سے
یہاں سورہا ہے فقیروں کا شاعر
جہاں بھر کے زندہ ضمیروں کا شاعر
یہ علم و قلم کا ثمر دار برگد
یہ رحمان بابا کی پُر نور مرقد