| |
Home Page
منگل 27 ذوالحج 1438ھ 19 ستمبر 2017ء
September 13, 2017 | 12:00 am
سپریم کورٹ، عمران سے سخت سوالات، آپ کی کوئی دستاویز دوسری سے نہیں ملتی، جائیداد کی خریداری میں خلا ہے

Todays Print

سپریم کورٹ، عمران سے سخت سوالات، آپ کی کوئی دستاویز دوسری سے نہیں ملتی، جائیداد کی خریداری میں خلا ہے

اسلام آباد (نمائندہ جنگ؍نیوزایجنسیز) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میںجسٹس عمرعطابندیال اورجسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نااہلی سے متعلق مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی دائرکردہ درخواست پر سماعت کی ۔

سماعت کے دوران عمران خان کی بنی گالا جائیداد کی منی ٹریل کے حوالے سے عدالت نے سخت سوالات کیے اور کہا کہ آپ کی کوئی دستاویز دوسری سے نہیں ملتی، جائیداد کی خریداری میں خلاء ہے، جمائما نے بنی گالہ اراضی سے متعلق جو رقم بھیجی اس کی دستاویزات کہاں ہیں؟۔منگل کو سماعت کے دوران درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے اپنے دلائل پیش کئے۔

عدالت نے عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کو مزید دستاویزات جمع کرانے کیلئے 10روز کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 26ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔ نعیم بخاری نے عدالت سے کہا کہ میں نے آپ کے حکم کے مطابق اپنا جواب جمع کرادیا ہے ، چیف جسٹس نے نعیم بخاری سے کہا کہ آپ نے بنی گالہ جائیداد سے متعلق اپنے موقف میں موجود خلاء کی وضاحت دینی ہے ،اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان کے پاسپورٹ کا ریکارڈ بھی جمع نہیں کرایا گیا ہے  ،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم معاملہ کی باریکیوں کوسمجھنے کیلئے سوالات کرتے ہیں ، اس موقع پر آبزرویشنز نہیں دینا چاہتے ، آئین کے آرٹیکل   184(3) کے تحت دائر  مقدمات میں صرف تسلیم شدہ حقائق پر فیصلہ ہوتا ہے ،اس حوالے سے کئی عدالتی فیصلے موجود ہیں،اکرم شیخ  نے کہا کہ عمران خان کے وکیل پسند و ناپسند کی بنیاد پر عدالت کو دستاویزات فراہم کر رہے ہیں، ایک کمپیوٹر کی دستاویز اور راشد خان کا بیان حلفی دستاویزات سے ہٹا دیا گیا ہے.

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ شواہد ریکارڈ نہیں کر رہی  ، نیازی سروسز لمیٹڈ کے دو بینک اکائونٹس ہیں، ایک  سے پیسے بھیجے  اور دوسرے سے وصول ہوتے رہے ہیں لیکن صرف رقوم وصول کرنیوالے بینک اکائونٹ کی تفصیلات عدالت کو فراہم کی گئی ہیں، عمران  خان دستاویزات میں ردوبدل کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس  دیئے کہ  درخواست میں نیازی سروسز ،بنی گالہ اراضی اور گرینڈ حیات فلیٹ ،منی ٹریل اور غیرملکی فنڈنگ کا معاملہ اٹھایا گیا ہے،  دیکھنا ہوگا کہ کس فورم کو ان معاملات کی سماعت کا اختیار ہے ؟  عدالت اس مقدمہ کی سماعت کے دوران ہر نکتے کا الگ الگ جائزہ لے گی ، بہت سے نکات  وضاحت طلب ہیں،قانون کی حکمرانی کی پاسداری ہمارے فرائض میں شامل ہے،   متنازعہ حقائق پر انکوائری یا تحقیقات کرانے کا حکم دے سکتے ہیں.

انہوں نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ جمائما نے بنی گالہ اراضی سے متعلق جو رقم بھیجی تھی اس کی دستاویزات کہاں ہیں؟ آپ نے مختلف درخواستوں میں مختلف مؤقف پیش کئے ہیں، جمائما کے نام پر کس طرح جائیداد لی گئی تھی ،اس حوالے سے آپ کے جواب میں کچھ بیان نہیں کیا گیا  ؟   ایک لاکھ 26ہزار ڈالرز اور دستاویزات سے متعلق عدالت کو مطمئن کریں، تصدیق شدہ دستاویزات فراہم کرنا آپ کا کام ہے ، جمائمہ خان نے جو16 ہزار ڈالرز بھجوائے تھے ، اس کے ثبوت کہاں ہیں؟  ، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کچھ دستاویزات کا جائزہ لیا ہے جن کی وضاحت ملنا ضروری ہے،  نعیم بخاری نے اعتراف کیا کہ وہ ایک لاکھ ڈالرز کی دستاویزات حاصل کرنے میں  ناکام رہے ہیں ،  1 لاکھ 26 ہزار ڈالر کی ترسیلات کے معاملہ پر نعیم بخاری نے تفصیلات  جمع کرانے کیلئے ایک روز کی مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ کوشش کرونگا کل عدالت میں تفصیلات پیش کر دوں،دوبارہ کوشش کرونگا کہ عدالت کو مطمئن کر سکوں،جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ عدالت کو مطمئن نہ کر سکے تو؟

چیف جسٹس  نے کہا کہ کیا 2002 کے انتخابات میں جمائما سے لیا  قرض ظاہر کیا گیا تھا؟   نعیم بخاری نے کہا کہ 2002 میں لندن فلیٹ ظاہرکیا گیا تھا ،چیف جسٹس نے نعیم  بخاری سے پوچھا کہ اگر کل اصل دستاویزات نہ ملیں تو کیا نتائج ہونگے؟ ،عمران خان نے بیان حلفی میں کہا  ہے کہ جمائمہ نے انہیں جائیداد تحفے میں دی تھی ،اگر جائیداد بے نامی تھی تو تحفہ میں کیسے دی جا سکتی ہے ؟ نعیم بخاری نے کہا کہ جائیداد تحفہ میں نہیں بلکہ عمران خان نے جمائمہ کیلئے خریدی تھی ، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی دستاویزات میں موجود پاور آف اٹارنی کا معاملہ بھی مشکوک ہے، بے نامی جائیداد خریدنے کا جواب نہیں ملا ، عمران خان اب اپنے تحریری جواب کو واپس نہیں لے سکتے ہیں،  یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ وضاحت دینا پڑیگی،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے دستاویزات میں لکھا ہے کہ بنی گالہ جائیداد بے نامی تھی، جبکہ یہ تحریری جواب کے موقف سے مختلف ہے، انہوں نے کہا کہ نیازی سروسز کے کتنے اکائونٹس تھے، جس پر فاضل وکیل نے کہا کہ میرے خیال میں نیازی سروسز کے دو بنک  اکائونٹس تھے، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ بارکلے بھی نیازی سروسز میں شامل تھا.

چیف جسٹس نے نعیم بخاری کو کہا کہ وہ اپنے موکل کے ساتھ ملاقات کرکے اس حوالے سے عدالت کو آگاہ کریں ، جسٹس فیصل عرب  نے کہا کہ عمران خان پر جس وقت کا الزام لگا ہے ،اس وقت وہ عوامی عہدہ نہیں رکھتے تھے،  جبکہ ان پر اس وقت منی لانڈرنگ کا الزام بھی نہیں تھا،اکرم شیخ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک 5 رکنی بینچ کا فیصلہ موجود ہے جس کے مطابق میاں بیوی اور باپ بیٹے کو الگ نہیں کیا جاسکتا ،سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے قوم کیلئے ایک قانون طے کرلیا ہے،  انہوں نے استدعا کی کہ عدالت عمران خان کے 1997کے کاغذات نامزدگی کا ریکارڈ منگوانے کا حکم جاری کرے ،جس پرچیف جسٹس  نے کہا کہ آپ نے اپنی درخواست میں یہ استدعا نہیں کی ۔