| |
Home Page
اتوار 29 صفر المظفر 1439ھ 19 نومبر 2017ء
September 13, 2017 | 12:00 am
چوہدری نثار کے انٹرویو کا چونکا دینے والا حصہ نظر انداز کر دیا گیا

Todays Print

چوہدری نثار کے انٹرویو کا چونکا دینے والا حصہ نظر انداز کر دیا گیا

اسلام آباد (انصار عباسی) سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کا یہ بیان کہ ملک کی قومی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں، سننے میں چونکا دینے والا معلوم ہوتا ہے لیکن یہ بات زیادہ مایوس کن ہے کہ وزیراعظم سمیت کابینہ کے کسی بھی رکن کو ان چیلنجز کا علم نہیں ہے۔

جیو نیوز کو دیئے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں چوہدری نثار نے سینئر اینکر پرسن سلیم صافی کو بتایا کہ ملک میں صرف چار سے پانچ افراد ایسے ہیں جنہیں ملک کو درپیش سنگین خطرات کا علم ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ان کے علاوہ سابق وزیراعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل نوید مختار کو ان خطرات کا علم ہے۔ چوہدری نثار کے بیان کو جو بات چونکا دینے والی بناتی ہے وہ یہ ہے کہ دستاویزی صورت میں حکومت کے پاس اس طرح کی انٹیلی جنس رپورٹس موجود ہیں کہ پاکستان کی سلامتی کو ’’سنگین‘‘ خطرات درپیش ہیں۔ جب سلیم صافی نے پوچھا تو چوہدری نثار نے بتایا کہ یہ خطرات اس قدر حساس نوعیت کے ہیں کہ جو لوگ ان سے آگاہ ہیں ان کے علاوہ کسی کے ساتھ یہ معلومات شیئر نہیں کی جا سکتیں۔

تاہم، جو بات ناقابل یقین ہونے کے ساتھ مایوس کن بھی ہے وہ یہ ہے کہ سابق وزیر داخلہ کو بھی شک ہے کہ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو شاید ہی ان خطرات کا علم ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف موجودہ وزیراعظم ہی نہیں بلکہ ان کی کابینہ کے کسی بھی رکن بشمول وزیر دفاع، وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کو پاکستان کو درپیش سنگین خطرات کا علم نہیں۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے قومی سلامتی، جس میں اہم وزرا اور دفاعی شعبے سے تعلق رکھنے والے اہم عہدیدار شامل ہوتے ہیں (ماسوائے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی) کو بھی سنگین خطرات کا علم نہیں۔ یہ مباحثے کے لائق ایک موضوع ہو سکتی ہے کہ پارلیمنٹ یا تمام کابینہ ارکان کو قومی سلامتی کو درپیش خطرات کی نوعیت کے حوالے سے اعتماد میں لینا چاہئے یا نہیں۔ لیکن یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کو اس بارے  میں علم ہے بھی یا نہیں، یا پھر اس معاملے کو کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی سے بھی خفیہ رکھا گیا ہے۔

خطرات کی نوعیت کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے لیکن جس طرح سابق وزیر داخلہ نے یہ بات افشا کی ہے اس سے خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئی ہیں۔ اسی وجہ سے اس معاملے پر سینیٹ میں مختصراً بحث ہوئی جہاں سینیٹر اعتزاز احسن نے ملک کو سنگین خطرات کا سامنا ہے لیکن صرف چار افراد کو اس کا علم ہے جن میں وزیراعظم پاکستان شامل نہیں ہیں۔

اعتزاز احسن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سینیٹ کو ان خطرات کی نوعیت سے آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کاہ کہ وہ یہ جان کو چونک گئے کہ وزیراعظم کو بھی اس بارے میں کوئی معلومات نہیں۔ اعتزاز احسن ایوانِ بالا میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔ انہوں نے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی سے درخواست کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وزیر داخلہ احسن اقبال ایوان میں اس معاملے پر بیان جاری کریں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چوہدری نثار کے انٹرویو کے سیاسی پہلوئوں کو وسعت کے ساتھ زیر بحث لایا گیا اور میڈیا اور سیاست دانوں نے ان کے بیان پر تبصرے بھی کیے لیکن سابق وزیر داخلہ کے اس چونکا دینے سے انکشاف کو عموماً نظرانداز کر دیا گیا۔