| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
September 13, 2017 | 12:00 am
حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت

Todays Print

حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت

اسلام آباد(رپورٹ: عمرچیمہ)حج کا تمام تر تعلق مشقت اورسختیاں جھیلنے سے ہے۔ اگر آپ عازم حج ہیں تو صبرو استقامت سے کام لیں۔ جو تکالیف پیش آئیں ان کی شکایت نہ کریں۔ بلکہ بخوشی اور خندہ پیشانی سے انہیں قبول کرلیں۔ اس طرح کے مشورے عازمین حج کو دیئے جاتے ہیں۔

جب میں بھی سرکاری اسکیم کے تحت حج کیلئے روانہ ہوا تو کوئی ان سے مختلف مشورے نہیں دیئے گئےتاہم ان ممکنہ مشکلات نے مجھے ان کی نوعیت پرغور کے لئے مجبور کردیا۔ کیونکہ عبادات میں کوئی زیادہ محنت و مشقت نہیں ہوتی۔ مکہ مکرمہ پہنچنے پر پہلے عمرہ اداکرنا ہوتاہے۔احرام باندھے بیت اللہ کاسات بار طواف اورصفاء و مرّوہ کے درمیان سعی عمرہ ہے۔ مرکزی مناسک حج 5 دنوں میں ادا ہوتے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے حج کیلئے مناسب انتظامات کئے۔ بیت اللہ یامسجد نبوی میں سعودی اسکائوٹس اور سیکورٹی حکام کے خراب رویئے تربیت کے فقدان کانتیجہ ہے۔ حجاج کے ساتھ معاملات میں ان کا تکبر نمایاں تھا۔

سرکاری اسکیم کے تحت گزشتہ سال 71800کے مقابلے میں امسال 107526حجام کرام نے فریضہ حج ادا کیا۔ پاکستان کے ڈائریکٹوریٹ آف حج نے حاجیوں کے قیام کے لئے مدینہ منورہ میں ہوٹلوں اور مکہ مکرمہ میں عمارتوں کاانتظام کیا۔ ہوٹل مسجد نبوی کےپڑوس میں ہونے کے باعث وہاں ٹرانسپورٹ کی ضرورت نہیں پڑی۔ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ سے 5-6کلو میٹر ز کے فاصلے پررہائش کے لئے عمارتیں فراہم کی گئیں۔ جس کے لئے مناسب تعداد میں بسیں فراہم کی گئیں۔ گزشتہ سال دو کے مقابلے میں اس بار تین وقت کا کھانا فراہم کیاگیا۔

چند برس قبل تک طعام کا بندوبست نہ تھا۔منٰی، عرفات،مذدلفہ ، جمرات اورطواف زیارت کے لئے حج کے 5دنوں میں یہ عرصہ جو مشاہیر کہلاتا ہے، اسی دوران پیش آنے والی مشکلات مذکورہ  چھوٹی موٹی شکایات سے کہیں زیادہ رہیں۔ پورا انتظام سعودی حکومت نے کیا تھا۔ حجاج سے مکتب کے ذریعہ نمٹا گیا جو ایک طرح سے ٹھیکیدار ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد 32تھی۔ ان کی بدانتظامی اور عدم تیاری نے حجاج کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ مصیبت حاجیوں کے منٰی روانگی سے شروع ہوئی۔ بسیں ناکافی تھیں بزرگ اوربیمار حجاج کو شدید مشکلات سہنا پڑیں۔ منٰی پہنچنے پرایک اور پریشان کن حیرانی میں رکھا گیا۔

مجھے جو خیمہ ملا،اس میں 20افراد کی گنجائش تھی لیکن 51افراد کو چٹائیاں فراہم کردی گئیں۔ پنکھوں کی بھی کمی رہی۔ مشکل اس وقت دوہری ہوگئی جب مرد اور خواتین کو ایک ہی خیمے میں ٹھونس دیا گیا۔ اس طرح خواتین کیلئے بیت الخلاء تک پہنچنے میں شدید دشواری رہی۔ متعدد حجاج جوخیموں میں سمو نہیں سکے، انہیں تپتی دھوپ میں بیت الخلاء کے باہر ہی چٹائیاں بچھا لینی پڑیں۔ خیموں میں دیاجانے والا کھانا بدمزہ تھا۔ عید کے دن اَدھ پکی سبزی دی گئی۔ عرفات کی جانب سفر شروع ہوا تو کئی حاجیوں کے پاس ٹرین کے ٹکٹ ہی نہیں تھے اس کامطلب یہ ہوا کہ انہیں بسوں کے لئے انتظار کرنا پڑا یا پیدل ہی رخت سفر باندھا۔ صرف 45ہزار کو ٹرین ٹکٹ جاری کئے گئے تھے۔

عرفات میں بھی خیمے کم پڑ گئے۔ عرفات سے مزدلفہ کی جانب سفر میں ایک اور مشکل کاسامنا کرنا پڑا۔ وہ یہ کہ کئی افراد اپنے ساتھیوں سے محروم ہو گئے۔ جس کو جہاں جگہ ملی اس نے وہاںرات بسر کی۔ کئی توفٹ پاتھ پر ہی سو گئے۔ مکتب کوئی مدد فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ انہیں اگلی صبح اپنے ہی تحت مذدلفہ سے منٰی پہنچنا پڑا۔ ایک لاکھ سعودی سیکورٹی اہلکارحج ڈیوٹی پر تعینات تھے لیکن ان کاکوئی فائدہ نہ تھا۔ انہیں عربی کے سواکوئی دوسری زبان نہیں آتی تھی۔

وہ بڑے غرور اورتکبر کے ساتھ پیش آئےگوکہ حکومت پاکستان نے خدام الحجاج  کے نام سے رضاکار تعینات کئے تھے لیکن وہ اپنی متعینہ جگہوں پر غیرحاضر تھے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حاجیوں کی سہولت کیلئے رضا کاروں نے پاکستانی پرچموں کے ساتھ کیمپ قائم کئے تھےجو سعودی سیکورٹی اہلکاروں نے اکھاڑ ڈالے حاجیوں کومذدلفہ سے منٰی پہنچنے کے لئے جمرات کے راستے پیدل چلنا پڑا۔ سفر کاکوئی ذریعہ نہ تھا مجھے اپنی والدہ کی وہیل چیئر لے کر منٰی پہنچنے میں ساڑھے پانچ گھنٹے لگے۔

یہ مصیبت جھیلنے والا میں اکیلا نہ تھا ،بیت اللہ کا طواف زیارت فرائض حج کے تین اہم جزو میں سے ایک ہے۔ جس عمارت میں میں مقیم تھا وہاں نماز کی امامت کرنے والے ایک مولانا نے پاکستانی حجاج کو تلقین کی کہ وہ واپس جاکران مشکلات کا ذکر نہ کریں جب میں نے مکتب کی بدانتظامی کیلئے کسی احتسابی نظام کے بارے میں پاکستانی حکام سے دریافت کیاتو ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف آپ کی شکایات پہنچا سکتے ہیں۔

یہ ذمہ داری کسی غیر سعودی کو دیئے جانے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ اگر سعودی حکام اتنے ہی اہل ہیں تو انہیں بہتر انتظامات کے ساتھ آگے آنا چاہئے۔ ورنہ انتظامات حاجیوں کے متعلقہ ممالک کے حوالے کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا چلا جائے گا۔

بیت اللہ کے لئے طواف زیارت، سعودی حکام نے ٹریفک معمول پر رکھنے کے لئے ایک لاکھ سے زائد سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا، لیکن انہیں حاجیوں سے حسن سلوک کی تربیت دینے کی ضرورت ہے یا پھر معاونت کے لئے رضاکاروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جائے۔