| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
September 13, 2017 | 12:00 am
پارلیمان لاپتہ افراد کے معاملے میں ناکام ہو چکی،چیئرمین سینیٹ

Todays Print

پارلیمان لاپتہ افراد کے معاملے میں ناکام ہو چکی،چیئرمین سینیٹ

اسلام آباد(نمائندہ جنگ)صدرمملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب پر سینٹ اجلاس میں بحث کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمان لاپتہ افراد کے معاملے میں ناکام ہو چکی ہے ۔

چیئرمین سینیٹ نے حال میں بگرام جیل سے رہا ہونے والے پاکستانیوں کا معاملہ انسانی حقوق کمیٹی کے سپرد کردیا ہے۔ سنیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ عمومی طور پر صدرمملکت کی تقریراس وقت کی حکومت کی جانب سے لکھی جاتی ہے اور صدر کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کے دوران توقع تھی کہ وہ فاٹا سے متعلق بھی کوئی اظہارِخیال کریں گے لیکن لکھی ہوئی تقریر میں صرف ایک جگہ فاٹا کا ذکر تھا اور صدرمملکت نے خود بھی اس پر کوئی اظہار خیال نہ کیا حالانکہ ایوان صدر فاٹا کا انتظامی دفتر ہے۔

صدر مملکت فاٹا اصلاحات سے متعلق دوررس بات کرکے اس کی سمت متعین کریں، حکومت نے فاٹا کا اصلاحاتی پیکج واپس لیا اور معاملے کو داخل دفتر کر دیا جبکہ وزیراعظم نے چار روز قبل وزیر قانون کوفاٹا میں انتظامی و قانونی اصلاحات کی بات کی اور ایک حاضر سروس گریڈ 22کے لیفٹیننٹ جنرل کو فاٹا کا چیف ایگزیکٹو بنانے کے لیے غور کرنے کا کہا گیاحالانکہ فاٹا میں چیف ایگزیکٹو لانا کسی صورت صحیح نہیں۔ پرویز مشرف نے بھی چیف ایگزیکٹو کے طور پر ریاست کے ڈھانچے پر قبضہ کیا تھا اس طرح فاٹا میں ایک فوجی کو چیف ایگزیکٹو بنا کر سویلین معاملات میں آنے کا راستہ دے رہے ہیں۔

ایک فوجی جنرل جی ایچ کیو سے ہدایات لے گا اور اس سے وہاں پر سویلین بالادستی ختم ہو جائے گی۔ فرحت اللہ بابرنے کہا کہ صدر مملکت سپریم کمانڈر ہیں اس کے باوجود ان کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ گزشتہ صدر کے خلاف آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔وزیراعظم نے وزیر قانون کو فاٹا انتظامی اور قانونی اقدامات کی جو ہدایات دیں ان کو ایوان میں لایا جائے جس پر چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی نے کہاکہ بزنس ہائوس ایڈوائزری کمیٹی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ فاٹا سے متعلق پورے ایوان کی کمیٹی میں معاملے کو زیر بحث لایا جائیگا۔

سنیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ صدر مملکت بطور سپریم کمانڈر ایک جانب پارلیمنٹ کے ذریعے دنیا کو یہ باور کرارہے ہیں کہ پاکستان نیوکلیئرعدم پھیلائو پریقین رکھنے والی ریاست ہے اور ہم نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کے حق دار ہیں لیکن دوسری جانب ایک ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے لندن میں انٹرویو میں کہا کہ ہم نے کئی ٹن نیوکلیر میٹریل شمالی کوریا، ایران اور لیبیا کو بھیجا اوراس  کا ذمہ دار صرف ایک شخص ہے۔

جنرل مشرف بتائیں کہ کس طرح ایک شخص اتنے ٹن میٹریل دیگر ممالک لے کرگئے، پھر دنیا کیسے تسلیم کرے گی کہ ہم نیوکلیئرعدم پھیلائو پر یقین رکھتے ہیں اور ہم  نے کوئی نیوکلیئر مواد کسی ملک کو نہیں بھیجا، یہ معاملہ بہت سنگین ہے۔ملک کی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ ایسے بندے کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ درج کرکے معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔

سنیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ صدرمملکت نے اپنے خطاب میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک قومی بیانیہ بنانے پر زور دیا جبکہ قومی بیانیہ کا مسودہ نیکٹا  بناچکی ہے اور وزارت داخلہ میں تین ماہ سے پڑا ہے اور اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔

قومی بیانیئے کو ترتیب دینے کے لیے پورے ایوان کی کمیٹی بنائے جانے تاکہ دہشتگردوں اور انتہاپسندوں کے بنیانیئے کو رد کیا جاسکے۔