| |
Home Page
اتوار 29 صفر المظفر 1439ھ 19 نومبر 2017ء
وجا ہت مسعود
September 14, 2017 | 12:00 am
کے جی بی کیوں ناکام ہوئی؟

Kgb Kion Nakam Huee

دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں دو بڑی طاقتوں، امریکہ اور سوویت یونین کا راج تھا۔ امریکہ نے سی آئی اے قائم کر رکھی تھی۔ مارچ 1954 میں سوویت یونین نے کے جی بی قائم کی۔ آپ اردو میں ’کمیٹی برائے قومی سلامتی‘کہہ لیجیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مارچ 1954 سے پہلے سوویت یونین میں چین کی بنسری بجائی جا رہی تھی۔ لینن نے ’’چیکا‘‘بنائی تھی۔ اسٹالن’این کے وی ڈی‘پر بھروسہ کرتے تھے۔ 1991کے بعد سوویت یونین میں ’’ایف ایس ایس ‘‘بنائی گئی۔ روس کے موجودہ صدر ولادی میر پیوٹن دسمبر 1999 میں صدر بننے سے پہلے اسی ادارے کے سربراہ تھے۔
دنیا کی ہر ریاست میں خفیہ ادارے موجود ہوتے ہیں۔ ان اداروں میں کام کرنے والے افراد کی اپنی ایک نفسیات ہوتی ہے۔ عام انسانوں پر اعتماد نہیں کرتے۔ سازش کرتے رہنے اور سازش کا سراغ لگاتے رہنے کے باعث ان کا ذہن مسلسل تشویش، شک شبے اور انہونی کے خوف میں رہتا ہے۔ خفیہ اطلاعات جمع کرنا اور ان اطلاعات کی بنیاد پر بنائی گئی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانا خفیہ ادارے کے اہلکاروں کا پیشہ ورانہ فرض ہے۔ مخالفین کو غائب کر دینا، عقوبت خانوں میں اذیتیں دینا، ریاستی پالیسیوں کے مخالفین کو ہراساں کرنا، ان کی نجی زندگیوں میں مداخلت کرنا، ان کے خلاف رائے عامہ بنانا، افواہیں پھیلانا، سرکاری پالیسی سے اختلاف کرنے والوں کو پیشہ ورانہ طور پر نقصان پہنچانا، فیصلہ سازی سے بے دخل کرنا اور اگر ضروری ہو تو قتل کر دینا۔ یہ سب معاملات خفیہ اداروں کے کام کا حصہ ہیں۔ بھیس بدل کر مخالفین میں جا بیٹھنا، کنسوئیاں لینا، خود کو مخالف نظریات کا حامی ظاہر کرنا، سرکاری موقف کے مخالفین کے ارادے معلوم کرنا، گویا ہمہ وقت پنجوں کے بل چلتے رہنا۔ کے جی بی اپنا کام اسی طرح کرتی تھی۔ سی آئی اے میں بھی فرشتے کام نہیں کرتے تھے۔ ایشیا، افریقہ، مشرق بعید اور لاطینی امریکہ میں جہاں آمریت قائم ہوتی ہے، اسے کسی بڑی طاقت کی سرپرستی میسر ہوتی ہے۔ بڑی طاقتیں دنیا میں نیکی اور خوشحالی بانٹنے کے لئے یتیم پروری نہیں کرتیں۔ اس دوران امریکہ میں میکارتھی ازم نے فروغ پایا، نسل پرست سوچ بھی موجود تھی۔ امریکہ کا کوئی صدر ایسا نہیں جس غریب کی خلوت کیمرے میں محفوظ نہ کی گئی ہو۔ روپے پیسے کی بھی کمی نہیں۔ جنس مخالف کو چارے کے طور پر استعمال کرنا بھی جائز سمجھا جاتا ہے۔ ادیب، شاعر اور صحافیوں کو شک و شبے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک فرد کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ریاست کے مالی، قانونی اور انتظامی وسائل کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ تو پھر کےجی بی کیوں ناکام ہوئی؟ جاننا چاہیے کہ دنیا میں ذہانت، محبت اور انصاف کی حدود ہوتی ہیں۔ حماقت، ظلم اور ناانصافی کی کوئی حد نہیں ہوتی۔
سرد جنگ کے جی بی اور سی آئی اے میں براہ راست کشمکش کی کہانی تھی۔ دونوں ادارے ایک خاص اجتماعی نمونے کی فتح چاہتے تھے۔ کے جی بی کو مرکزی سیاسی حاکمیت اور مداخلت کار معیشت کا دفاع کرنا تھا۔ سی آئی اے کو جمہور یت اور کھلی منڈی کی حفاظت کرنا تھی۔ پچاس برس تک پنجہ آزمائی کے بعد سوویت نظام بکھر گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری آزادیوں، جمہوریت اور کھلی منڈی کے اصول نے شہری پابندیوں، آمریت اور پابند معیشت کو پچھاڑ دیا۔ کیا کے جی بی نااہل تھی؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ نیورمبرگ ٹرائل میں دستیاب نازی لیڈروں میں سے گوئرنگ کا آئی کیو لیول سب سے بلند پایا گیا۔ ذہانت بذات خود سچائی کا پیمانہ نہیں اور نہ کامیابی کی ضمانت ہے۔ ذہانت حقائق اور اصولوں کو ایک قابل عمل نمونے میں ڈھالنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ گوئرنگ کی ذہانت ، نسل پرستی، آمریت اور جنگ پسندی کے ہاتھوں شکست کھا گئی۔ کے جی بی پیشہ ورانہ اہلیت میں سی آئی اے سے ہرگز پیچھے نہیں تھی۔ کے جی بی کو ایک ایسے نظریے کا بوجھ اٹھا کے چلنا پڑا جو انسانی تاریخ کے بہاؤ سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ سی آئی اے اپنے اہلکاروں اور عام امریکی شہری کی زندگی میں فاصلہ رکھنے میں کامیاب رہی۔ کے جی بی اپنے شہریوں کی خواب گاہ تک چلی آئی۔
تصور کیجیے۔ خوف کا یہ عالم کہ لوگ ایک دوسرے کو آدھی رات کی دستک سے ڈراتے ہیں۔ اخفا کی یہ صورت کہ کسی کو ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں کہ ریاست کی اصل پالیسی کیا ہے۔ بے نام چہروں والے لوگ جوابدہی سے بالا ہیں۔ کوئی ادارہ اپنے طور پر پیشہ ورانہ فیصلے کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ عدالت اس قدر آزاد ہے کہ ملزم اور اس کے وکیل فیصلے کی تفصیلات پہلے سے ٹھیک ٹھیک جانتے ہیں۔ صحافی اپنا ہی اخبار نہیں پڑھتا۔ نظریے کے نام پہ، جو چاہے دھول اڑائیں، آپ کا مخالف بہرصورت غدار ہے۔ اگر آپ صحیح جگہ پر بیٹھے طاقتور عہدیدار کو جانتے ہیں تو قانون آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ عوامی مسائل کی نشاندہی کرنے والے وطن کے دشمن ہیں۔ ہمارا نظریہ تنقید سے بالاتر ہے۔ ہم نااہل ہیں لیکن ہماری حتمی فتح یقینی ہے۔ ہمارے سوا ہر شخص بدعنوان اور بکاؤ ہے۔ ریاست اور شہری ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ دشمن ہمارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ ہماری فوجی طاقت بہت زیادہ ہے۔ عام آدمی سمجھتا ہے کہ کچھ بدلنا ممکن نہیں لیکن ہم بہرحال دوسرے ملکوں سے بہت بہتر حال میں ہیں۔ ہم دنیا کا ایک اہم ملک ہیں۔ ہم نے دنیا کو اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے۔ عوام کا حکمران طبقے کے معیار زندگی سے کوئی مقابلہ نہیں۔ عوام نے قربانیاں دی ہیں، ابھی مزید قربانیاں دینا ہوں گی اور عوام ہر طرح کی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں۔
بیسیویں صدی میں رابرٹ کے مرٹن نے ’’غیر ارادی نتائج‘‘ کا نظریہ متعارف کرایا تھا۔ مرٹن صاحب کے مطابق کسی پالیسی سے غیر ارادی نتائج اس لئے برآمد ہوتے ہیں کہ ہم یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ دنیا ناقابل یقین حد تک پیچیدہ ہے۔کوئی ایک فریق لامحدود طاقت نہیں رکھتا۔ ہمارے غلط اہداف ہماری ناکامی کا اصل سبب ہوتے ہیں۔ ہم انسانی حماقت کی وسعت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ایک خاص ماحول میں ہم خود کو دھوکا دینے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنی معلومات کو مکمل سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں، معلومات کا تجزیہ کرتے ہوئے غلطیاں کرتے ہیں۔ فیصلے کرتے ہوئے فوری فائدوں کی خاطر دور رس نتائج کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم فیصلے کرتے ہوئے کچھ بنیادی اقدار کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ بعض اوقات ہم اپنے ہی اندیشوں اور خدشات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم الٹے پاؤں آگے کی طرف چلتے ہیں اور پیچھے نکل آتے ہیں۔
17 اگست 1991کی سہ پہر ماسکو میں KGBکے اعلیٰ ترین حکام ایک اجلاس کے لئے جمع ہوئے۔ ان افسروں کا خیال تھا کہ گوربا چوف اور بورس یلسن کی حماقتوں کے باعث سوشلزم کو سخت خطرہ درپیش ہے۔ اگر کوئی فوری قدم نہ اٹھایا گیا تو سوویت یونین تباہ ہو جائے گا۔ بورس یلسن سمیت دو سو افراد کو گرفتار کرنے کا فیصلہ ہوا۔ طے پایا کہ گوربا چوف سے زبردستی ایک دستاویز پر دستخط کرائے جائیں۔ ہتھکڑیاں بنانے کے کارخانے کو حکم دیا گیا کہ فوری طور پر پچیس ہزار ہتھکڑیاں ماسکو بھیجی جائیں۔ لیکن کریمیا میں نظر بند گوربا چوف نے باغی حکام کے احکامات پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا، بورس یلسن پارلیمنٹ کے باہر ایک ٹینک پر جا چڑھا۔ بغاوت کا سرغنہ یایانیف عوام کے سامنے آیا تو اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے اور سر پر رکھی وگ پھسل کر ایک طرف ہو چکی تھی۔ یہ بغاوت ناکام ہو گئی۔ بورس یلسن بااختیار صدر بن گئے۔ کمیونسٹ پارٹی کی دستوری بالادستی ختم کر دی گئی۔ کے جی بی تحلیل کر دی گئی۔ یہ ایک ادارے یا فرد کی ناکامی نہیں، یہ تاریخ کا فیصلہ تھا۔