| |
Home Page
منگل 27 ذوالحج 1438ھ 19 ستمبر 2017ء
افضال ریحان
September 14, 2017 | 12:00 am
بیگم صاحبہ کی جیت کے بعد؟

Begum Sahiba Ki Jeet Ke Bad

دنیا کی ہر گیم کے کچھ نہ کچھ رولز ہوتے ہیں جن کی مطابقت میں چلنے کو فیئر پلے اور عدم مطابقت کو فاؤل پلے کا نام دیا جاتا ہے۔ ان رولز کی خلاف ورزی کیے بغیر بازی لگانے یا چالیں چلنے کو کامیابی کی صلاحیت مانا جاتا ہے جس طرح ہر شعبے کے کھلاڑی اس شعبے کے وارث ہوتے ہیں اسی اصول پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کرکٹ کرکٹروں کا کام ہے تو سیاست سیاستدانوں کا کام۔ دیگر تمام غیر متعلقہ افراد ہیں انہیں چاہیے کہ وہ مہرے بازی یا کٹھ پتلیاں بننے بنانے اور نچانے کا ناٹک بند کردیں آئین نے حکومتیں بنانے یا گرانے کا اختیار عوام کو دے رکھا ہے اس عوامی اتھارٹی پر شب خون مارنے کو ڈکیتی قرار دیا جاتا ہے۔ ڈکیتی اور دہشت گردی میں زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا جب آپ نے سات دہائیوں سے ایک کا چلن روا رکھا ہے تو دوسری کا وارد ہونا اچنبھے کی بات نہیں ہے۔
یہاں جمہوری حکومتوں کو جب بھی چلتا کیا جاتا تھا تو عوامی سطح پر ایک تاثر ابھارا جاتا تھا کہ انہیں اس لیے تو نہیں ہٹایا گیا کہ دوبارہ واپس آنے دیا جائے گا اس لیے ایسے تمام اقدامات کے فوری بعد جو الیکشن ہوئے اُن میں ہمیشہ ہٹائے جانے والوں کے مخالفین کی جیت ہوئی یا انہیں فتح دلوائی گئی۔ جہاں ایسا ممکن دکھائی نہیں دیا وہاں 90دن کے وعدے برسوں پر محیط ہوتے رہے۔ اب کے معاملہ قدرے مختلف ہے موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں یہاں کسی بھی طرح کا مارشل لاء لگانا کافی مشکل ہے اور پھر اسے کامیابی کے ساتھ چلانا مشکل تر۔ سو بہتر اسٹرٹیجی کا تقاضا ہے کہ حلیف پر دباؤ ڈالتے ہوئے یا اُسے اعتماد میں لیتے ہوئے من پسند فیصلے صادر کروا لیے جائیں یوں مخالف بھی مر جائے اور لاٹھی پر الزام بھی نہ آئے۔ سابق پیر پگارا علی مردان شاہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ملک میں چوہے بلی کا کھیل جاری ہے اور جاری رہے گا۔ اگر سہمے ہوئے کچھ چوہوں کے لبوں پر دعا بن کر یہ تمنا آتی ہے کہ بلی بیمار پڑ جائے تو لازم نہیں کہ یہ دعا قبول بھی ہو جائے، گلے میں گھنٹی باندھنے کی تجویز ضرور موجود ہے مگر یہ گھنٹی باندھے گا کون؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔
اگر آئینی و دستوری راہ اختیار کرتے ہوئے معاملات قواعد و ضوابط کے مطابق چلنے دیئے جا رہے ہوتے تو کچھ لوگوں کی سازشی تھیوری کے باوجود عوامی جمہوریت کا دریا اپنی راہیں آپ بنا سکتا تھا اور بنا سکتا ہے۔ کرسی پر نہ ہونے کے باوجود بالواسطہ طریقے سے امور جہاں بانی سر انجام دیئے جا سکتے تھے اس سلسلے میں ہم سونیا گاندھی کی مثال دیا کرتے ہیں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ اصل قیادت کی نا اہلی کے باوجود پارٹی نے الیکشن جیتا اسمبلی میں جا کر غیر موزوں و ناموافق قوانین کو بدلا، نااہلی کا دھبہ دھو کر مخالفین کے منہ پر مارا اور قیادت کو اس کے سنگھاسن پر لا بٹھایا لیکن یہ سب وہاں ہوتا ہے جہاں منتخب اسمبلی یا پارلیمنٹ کے آئینی و قانونی استحقاق پر کوئی قدغن یا بندش عائد کی جا سکتی ہے نہ اس برتر ادارے کی تشکیل میں من پسند رکاوٹیں یا کانٹے اگائے جا سکتے ہیں۔
اگر وطنِ عزیز ایک جمہوری مملکت ہے جیسے کہ بظاہر دکھائی دیتا بھی ہے تو پھر قومی اسمبلی کے حلقہ 120 کے انتخابی نتائج دیوار شہر پر لکھے صاف دکھائی دے رہے ہیں کوئی سیاسی نابینا ہی ہو گا جسے یہ نظر نہ آ رہے ہوں باوجود اس امر کے کہ بیگم صاحبہ کی انتخابی مہم چلانے والی ان کی بیٹی کی سیاسی سوجھ بوجھ ہمارے سابق کھلاڑی جتنی ہی ہے لیکن لوگ اس کو نہیں اس کے بڑوں کو دیکھ رہے ہیں۔ بڑوں کی کارکردگی سے بڑھ کر روا رکھی جانے والی حالیہ زیادتی کو بھی وزن دے رہے ہیں۔ ہمارے اس دعوے کی تصدیق محض تین روز بعد ہو جائے گی۔ اس کے بعد کا قابلِ ملاحظہ منظر نامہ یہ ہے کہ کیا منتخب قومی اسمبلی کا یہ استحقاق نہیں ہے کہ وہ اپنے اراکین میں سے جسے چاہے اپنا قائدِ ایوان منتخب کرے۔ اگر یہ اسمبلی اپنے واضح اکثریتی ووٹ سے بیگم صاحبہ کو ایوانِ وزیراعظم پہنچاتی ہے تو دنیا کا کون سا قانون ہے جو یہ قدغن لگاتا ہوکہ منتخب وزیراعظم کا خاوند اس مکان میں قیام نہیں کریگا، زرداری صاحب پر کیسے کیسے گھناؤنے الزامات عائد نہیں کیے گئے تھے (جو کہ آج بڑی حد تک دھل چکے ہیں) لیکن محترمہ کی برکت سے رہتے تو وہ ایوانِ وزیراعظم ہی میں تھے۔
چوہدری نثار علی کی منطق کے مطابق اگر پسِ پردہ کوئی قوت کارفرما نہیں ہے تو پھر تمام تقاضے قانون کے مطابق آگے بڑھنے چاہئیں۔ 2018کے الیکشن تک اس عبوری دور میں پارٹی کی منظوری سے پارٹی قیادت اگر بیگم کلثوم نواز صاحبہ کرتی ہیں تو آئینی و قانونی ضوابط میں اس کی پوری گنجائش موجود ہے۔ 18ء کا الیکشن جیتنے کے بعد دیگر نو منتخب جمہوری پارٹیوں کے تعاون سے اگر وہ متنازع آئینی شقوں میں ترامیم کرواتے ہوئے اصل پارٹی لیڈر کو اس کا جمہوری و آئینی حق دلواتی ہیں تو کسی کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی ہے مگر چائے کی پیالی میں طوفان ہی طوفان ہیں۔
سب سے پہلے تو میاں صاحب کو یہ چیلنج درپیش ہے کہ وہ غیر مرئی طاقتوں کا سامنا کس طرح کر پائیں گے؟ جنہوں نے انہیں اس حال تک پہنچایا ہے کیا وہ انہیں ان حیلوں یا حکمتوں سے اوپر اٹھنے دیں گے۔ اگلا سوال یہ ہے کہ وہ یہ تمام مراحل طے کرتے ہوئے کیا اپنی پارٹی اور خاندان کا اعتماد برقرار رکھ پائیں گے؟ کوئی بڑی بلا اکیلی نہیں آتی اس کے پہلو میں دیگر کئی بلاؤں کا غول یا جھرمٹ ہوتا ہے۔ ہم نے ابتداً فیئر پلے اور فاؤل پلے کا ذکر کیا تھا اگر تو معاملات قواعد و ضوابط کے مطابق چلنے دیے جائیں جس نوع کا یہاں دعویٰ کیا جاتا ہے تو قانونی موشگافیوں کے باوجود جمہوریت کا پودا توانا ہو سکتا ہے تمام بلائیں کافور ہو سکتی ہیں۔بظاہر اسٹیبلشمنٹ اپنی جنگ جیت چکی ہے۔ سابق کھلاڑی اور ان کے جوشیلے ہمنوا فاتحانہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ شاید اقتدار پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی جھولی میں بس گرنے ہی والا ہے۔ کسی کے خاوند اور بیٹے کو امید دلائی جا چکی ہے کہ دستِ شفقت آپکے سروں پر آنے کو ہے کوئی فائدہ نہیں ہے نیلم پری کے نام پر ایکا کرنے میں۔ اور تو اور خاندان کے اندر خوشخبری سنائی جا چکی ہے کہ برادر بزرگ کو اگر جیل یاترا سے بچانا ہے تو پھر اب خود آپ کو آگے آنا ہے۔ ہمیشہ بڑوں سے ہی بڑے پن کی توقع رکھی جا سکتی ہے سو اُن کا بھی یہ امتحان ہے کہ وہ اس نازک ترین لمحے پر بچوں کے پروپیگنڈے کا شکار ہوتے ہیں یا اپنے بچوں کو یکسر پیچھے کرتے ہوئے بھائی اور بھائی کے بچوں کو ہی نہیں قوم کے بچوں کو آگے کرتے ہیں۔ خود سے یہ سوال کریں کہ انہیں جس نوع کے چیلنجز درپیش ہیں کیا وہ ان کا سامنا کرنے کی سکت رکھتے ہیں؟