| |
Home Page
اتوار 29 صفر المظفر 1439ھ 19 نومبر 2017ء
پرو فیسر سید اسرار بخاری
September 14, 2017 | 12:00 am
سر رہ گزر

Sar E Rahguzar

وزیر خارجہ اپنا سفر جاری رکھیں
پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی ایرانی صدر اور اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کے بعد ترک صدر طیب اردوان سے بات چیت کا سلسلہ مزید آگے بڑھنا چاہئے، اگر پاکستان جیسا ایٹمی اسلامی ملک فعال ہو جائے اور امت مسلمہ کے رہنمائوں کو ایک ایسے موقف پر متفق کرنے میں کامیاب ہو جائے جس میں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم و ستم اور ان کے بنیادی حقوق پامال کرنے کے عمل کو روکنے کا ایک نکاتی ایجنڈا شامل ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ 52اسلامی ملک کوئی دبائو پیدا نہ کر سکیں، ہم سمجھتے ہیں کہ 52میں 36ملکوں کی ایک عسکری تنظیم، مسلم امہ کو منتشر کرنے پر تو منتج ہو سکتی ہے، اور مسلم امہ ایک اجتماعی مکمل اتحاد کا راستہ روک سکتی ہے جو اغیار کی دیرینہ خواہش ہے، یہ خدشہ غیر مسلم قوتوں میں پایا جاتا ہے کہ اگر 52اسلامی ریاستوں کا ایک ہی بیانیہ اور ایک ہی پیج ہو گا تو یہ ایک بڑی عالمی قوت بن سکتی ہے، ساری کوششیں ایک بڑے اور حقیقی مسلم اتحاد کے وجود میں نہ آنے کے لئے طویل عرصے سے ہو رہی ہیں، مگر اس کے باوجود پوری دنیائے اسلام کے رہنما بالعموم اپنی ہی دشمن قوتوں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں، آج روہنگیا کے مسلمانوں پر جو گزر رہی ہے، وہ محض اسی وجہ سے کہ عالم اسلام میں اتحاد نہیں، ہنوز کوئی اجتماعی اسلامی آواز برما کے خلاف نہیں اٹھی، او آئی سی جب سے قائم ہوئی ہے مسلم امہ میں انتشار بڑھتا جا رہا ہے آخر کیوں؟ حرمین شریفین کی سرزمین سے اب تک روہنگیا مسلم مظلومین کے حق میں کوئی صدا بلند نہیں ہوئی، یہ بات پوری امت میں باعث تشویش سمجھی جا رہی ہے، ہمارے وزیر خارجہ ایک نیک مشن پر نکلے ہیں، وہ باخبر انسان ہیں، اور درد دل بھی رکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے مختصر ایام میں برما جو ایک چھوٹا سا ملک ہے اور اپنی مسلم آبادی پر تاریخ کے بدترین مظالم ڈھا رہا ہے اسے دبائو میں لا سکے اور ستم رسیدہ روہنگیا مسلمانوں کو ان کے وطن میں بسا سکے تو یہ ایک تاریخی کامیابی ہو گی۔
٭٭٭٭
انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی شاندار جیت کے ساتھ
آزادی کپ:پاکستان نے پہلے ٹی 20میں ورلڈ الیون کو 20رنز سے ہرا دیا، کرکٹ کے سونے میدانوں میں ایک عرصے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کی بہار پہلی جیت کے ساتھ اس شان سے اتری ہے، کہ بن گئے مہر و ماہ تماشائی، ہماری کرکٹ جب تک دنیا میں فتح کے ڈنکے بجاتی رہی ساتھ ساتھ ہماری بہترین سفارتکاری بھی ہوتی رہی، اور پاکستان کا ایک سافٹ پسندیدہ امیج اس کھیل کے ذریعے قائم رہا، کرکٹ پر زوال آیا تو اس کے بعد ہی ہر وبال آیا، شاید کرکٹ کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ دینے اور اس کے انتظامی معاملات کی عدم درستگی کے باعث ہماری شہرئہ آفاق کرکٹ پاتال میں چلی گئی اور یہ نقصان پورے ملک کے لئے برا شگون ثابت ہوا، کرکٹ بھی دوسرے شعبوں کی طرح بدعنوانیوں کا شکار ہو گئی، اب جبکہ اس میں کچھ سدھار آیا ہے تو ایک بار پھر کھیل کی دنیا میں پاکستانی کرکٹ کے چرچے ہونے لگے، کرکٹ کی اس ایک جیت سے وطن میں خوشیوں نے قدم رکھا ہے تو اس کا سواگت کیا جائے، اور ایک بار پھر دنیا پر ثابت کیا جائے کہ پاکستان کرکٹ میں نمبر ون ہے۔ شاندار جیت کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان واپسی خوش آئند ہے، نئی ٹیم، نیا ٹیلنٹ، نئی انتظامیہ ضرور کچھ مزید بھی نیا کر دکھائے گی لیکن اس میں ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا، کرکٹ پر جس قدر توجہ دی جا رہی ہے اتنی ہی اہمیت اگر ہاکی کو بھی دی جائے تو پاکستانی ہاکی پھر سے ماضی کی طمطراق کے ساتھ لوٹ سکتی ہے، لیکن حکومت اور قوم دونوں کو مل کر ہاکی کے تن مردہ میں جان ڈالنا ہو گی، کھیلوں سے قوموں میں معقولیت اور ڈسپلن پیدا ہوتا ہے، آج اگر کرکٹ کے میدانوں کی رونقیں بحال ہو سکتی ہیں، تو ہاکی میدانوں سے بھی ویرانی رخصت کی جا سکتی ہے لیکن حکومت اور پوری قوم کو اپنی ضرب المثل ہاکی کو زندہ کرنا ہو گا۔ تجارتی کمپنیوں نے جیسے کرکٹ کو مالی سپورٹ دی ہے ہاکی کو بھی اپنی توجہ کا مرکز بنائیں، پاکستانی ٹیم اور انتظامیہ کو پہلی جیت مبارک ہو۔
٭٭٭٭
علم دشمنی تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلی
میرے سامنے ایک تصویر ہے جس کے نیچے لکھا ہے:کراچی:تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف اساتذہ کی ریلی کے دوران پولیس قوم کے معمار پر لاٹھی چارج کر رہی ہے۔
یوں تو خیر سے ہم علم، عالم، معلم اور تعلیم کے دشمن کسی نہ کسی صورت میں ہیں لیکن یہ جو ہماری علم دشمنی تصویر کے پردے میں ہمارے سامنے عریاں پڑی ہے، اس کا الزام اگرچہ پولیس ہی کو دیا جائے گا کہ وہی ایک استاذ کو ڈنڈے مار رہی ہے، لیکن اصل الزام تو اس مرکز کو دیا جانا چاہئے جہاں سے اساتذہ کو تنگ دست رکھنے، ان کی تنخواہیں روکنے کے احکامات صادر ہوتے ہیں اور اگر وہ احتجاج کریں تو ان کی مرمت کا حکم بھی پولیس کو اوپر ہی سے ملتا ہے۔ ہماری پولیس بے استاذی نہیں، اوپر کی سطح پر بے استاذے بیٹھے اساتذہ کو سڑکوں پر لٹاتے اور مارتے ہیں۔ جبکہ وہ ہاتھ، ڈنڈے اور وردی پولیس کی استعمال کرتے ہیں اور خود اپنی عیش گاہوں میں داد ستم دیتے ہیں، اس دنیا میں ہر انسان کا کوئی نہ کوئی استاذ ہوتا ہے جو اسے تعلیم دیتا ہے لیکن کچھ عاقبت برباد شاگرد ایسے ہوتے ہیں جو اپنے اساتذہ کرام پر ہی ہاتھ اٹھا کر شداد بن جاتے ہیں، پولیس کو جب یہ آرڈر دیا جاتا ہے کہ یہ جو اساتذہ احتجاج کر رہے ہیں ان کی فریاد ان سمیت کچل دو، خبردار یہ حکمران کے محل تک نہ پہنچ پائیں اور وردی والے اپنی نوکری بچاتے بچاتے اپنی عاقبت خراب کر بیٹھتے، ایک حدیث مبارکہ ہے:’’آپ مخلوق کی کسی ایسی اطاعت کے پابند نہیں جس سے خالق کی نافرمانی لازم آئے‘‘ اگر اساتذہ کو ایک جائز مطالبے پر مارنے اور مروانے والے سید الکونین ﷺ کی اطاعت کے پابند ہیں تو کبھی اساتذہ پر ہاتھ نہ اٹھائیں ان کی بے حرمتی نہ کریں اور حکمرانوں کو ان کے جائز مطالبے پورا کرنے چاہئیں، ہم آج اگر پیچھے رہ گئے ہیں، یا طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہیں تو اس لئے کہ ہم نے مسلمان ہوتے ہوئے علم کی، معلم کی بے حرمتی کی، اور دوسری قوموں نے غیر مسلم ہوتے ہوئے علم اور استاذ کی قدر کی تو بازی لے گئے۔
٭٭٭٭
’’سوچی‘‘ کو لگام کون دے گا؟
....Oایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سوچی کو وحشی قرار دے دیا۔
وحشی کو جواب آں غزل نہ ملا تو وہ مزید وحشی ہو گا، رُکے گا نہیں،
....Oمسلم لیگ ن کے صدر پرویز ملک 17:ستمبر کولاہور میں شیر بولے گا،
کیا لاہور کو چڑیا گھر ڈیکلیئر کر دیا گیا ہے؟
....Oنجی اسکولوں نے اچانک فیسوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے،
اس طرح ہی تو ملک سے ناخواندگی ختم ہو گی اس لئے اعتراض چہ معنی دارد؟
....Oکرکٹ میچ، ناقص منصوبہ بندی راستے بند ٹریفک جام شہری خوار،
یہ تو نہ کریں کہ سب کچھ لٹا کے
انٹرنیشنل کرکٹ لے بھی آئے تو کیا کیا
....Oکیا نصاب تعلیم سوچ سمجھ کر معقول نہیں بنایا جا سکتا؟
اگرحکمران پڑھے لکھے ہیں تو جواب دیں ورنہ چپ رہیں۔