| |
Home Page
بدھ 27 محرم الحرام 1439ھ 18 اکتوبر 2017ء
ڈاکٹر عبدالقدیر خان
September 25, 2017 | 12:00 am
روہنگیا کی نسل کشی

Rohingya Ki Nasal Kashi

پچھلے چند ماہ سے برما میں مسلمانوں کی نسل کشی اور ملک کو ان سے صاف کرنے کی خبریں، تصاویر ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ یہ اِنسانیت کے خلاف نہایت بھیانک جرم ہے اور تاریخ خود کو دہرا رہی ہے کہ جب ایک جگہ ظلم و ستم اور نسل کشی کی مہم جاری ہو تو دنیا یا تو اس کو بالکل نظرانداز کردیتی ہے یا زبانی جمع خرچ شروع ہوجاتا ہے۔
آپ تاریخ پر نظر ڈالئے تو وہ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ پہلے ٹیکنالوجی کا فقدان تھا اور اس قسم کے واقعات کی کسی کو خبر نہیں ہوتی تھی مگر اب چند لمحوں کے بعد ہی ایسے واقعات پوری دنیا کے سامنے آجاتے ہیں۔ شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، افریقہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں مقامی باشندوں کی نسل کشی اب تاریخ کا مستند حصّہ ہے۔ ابھی حال میں ہم نے بوسنیا، روونڈا، برونڈی میں یہ واقعات دیکھے اور اب میانمار (برما) میں یہ مناظر روز ہی ٹی وی اور واٹس ایپ پر دیکھ رہے ہیں۔ جب ہٹلر نے یہودیوں کی نسل کشی کی تو دنیا خاموش تماشائی بنی رہی، جب انگریزوں نے اپنی کالونیوں میں مقامی لوگوں پر مظالم ڈھائے اور لاتعداد لوگوں کا قتل عام کیا تو بھی لوگ خاموش رہے۔ ابھی کل کی ہی بات ہے جس طرح امریکیوں نے ویت نام، کمبوڈیا، لائوس، عراق، لیبیا اور افغانستان میں بیگناہ لوگوں کا قتل عام، نسل کشی کی وہ ہم نے پوری ٹی وی پر دیکھی اور اَخبارات، رسالوں میں بھیانک تصاویر دیکھیں اور مظالم دیکھے۔ مگر مظالم کرنے والے ہمیشہ اس کو جائز ثابت کرتے رہے۔ یہی حال اس وقت میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے۔ اور دنیا صرف زبانی جمع خرچ کے اور کچھ نہیں کررہی ہے حالانکہ بنگلہ دیش ایک بڑا، طاقتور ملک ہے اس کو چاہئے تھا کہ اپنے فوجی برما میں داخل کرکے جنوب مشرقی علاقے کو محفوظ علاقہ قرار دیتا۔ ہندوستان نے بھی 1971 ء میں یہی اصول اپنا کر ہمارے خلاف کارروائی کی تھی۔ شاید ہمارے بہت سے لوگوں کو اس کا علم نہ ہو مگر مجھے انڈونیشیا کے ایک اعلیٰ افسر نے ہالینڈ میں بتلایا تھا کہ 1965میں جنگ کے دوران صدر ڈاکٹر سوئیکارنو نے اپنی مضبوط بحریہ کے چند جہاز بحربنگال میں بھیج دیئے تھے اور ہندوستان کو یہ وارننگ دیدی تھی کہ اگر اس نے مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے کی غلطی کی تو وہ کلکتہ کو تباہ کردینگے۔ ہندوستان کی جرأت نہیں ہوئی کہ مشرقی پاکستان کی طرف ایک گولی بھی چلاتے۔ اس مشکل وقت میں اگر ترکی، پاکستان اور انڈونیشیا چند جہاز بھیج کر میانمار کو الٹی میٹم دیدیتے، کہ وہ اس جبری منتقلی اور نسل کشی بند کریں اور بند نہیں کرتے تو وہ ان تینوں ممالک کے بحری بیڑے کی کارروائی دیکھیں گے، یہ ظلم و زیادتی اور جبری منتقلی ختم ہوجاتی۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ بدھ مت کے ماننے والے جو منہ، ناک پر ماسک لگاتے ہیں کہ چھوٹے سے چھوٹے کیڑے بھی سانس میں جاکر ہلاک نہ ہوں وہ خود اَب بے سہارا، نہتے، غریب اَفراد (مسلمانوں) پر قیامت خیز مظالم ڈھا رہے ہیں۔ خود عیسائی مذہب میں ہے کہ اگر کوئی تمھارے بائیں گال پر تھپڑ مارے تو دایاں گال بھی پیش کردو اور جنگ و جدل میں حصّہ نہ لو مگر اس کے برعکس ان لوگوں نے دنیا میں کروڑوں بیگناہ انسانوں کا قتل عام کیا ہے۔
آئیے اب ہم میانمار میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں کہ یہ لوگ وہاں کیسے پہنچے اور ان کے خلاف میانمار کے بدھسٹ اور سرکاری فوج کیا کررہی ہے۔تاریخ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ انگریز راج کے دوران برصغیر ہندو ستان، پاکستان اور برما ایک ہی ملک تھے۔ ان میں آنے جانے اور رہائش اختیار کرنے پر کوئی پابندی نہ تھی۔ بعض اوقات انگریز خود یہاں کے باشندوں کوجو دوسرے ممالک سے بہتر تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہوتےتھے اپنی کالونیوں میں لیجاتے تھے تاکہ وہاں انتظامیہ اور انفرااسٹرکچر بنانے میں مدد کریں۔ یہ گورے لوگ ہمارے ہم وطنوں کو کئی افریقی، جنوبی امریکی اور مشرق بعید کے ممالک میں لے گئے۔ کینیا اور یوگنڈاسے ہمارے ہم وطنوں کی جلاوطنی ابھی کل ہی کی تو بات ہے۔
میانمار میں تقریباً 10 لاکھ مسلمان تھے لیکن 2016-2017 کی حکومت کی ’صفائی‘ کی پالیسی کے بعد اب بمشکل 5 لاکھ رہ گئے ہیں، 4 لاکھ بنگلہ دیش میں چلے گئے ہیں۔ 1982 میں میانمار کی حکومت نے ایک قانون پاس کرکے ان کو وہاں کی شہریت سے محروم کردیا۔ 2013 میں اقوام متحدہ نے ان لوگوں کو دنیا کی بدترین دہشت گردی کا شکارقوم قرار دیا ہے۔ ان لوگوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے مگر ان میں کچھ ہندو بھی ہیں۔ یہ لوگ انگریزکے دور حکومت میں اور اس سے بھی بہت پہلے مشرقی میانمار کے علاقے اراکان میں جاکر بس گئے تھے۔ یہ سرسبز علاقہ تھا اور برمی وہاں برائے نام تھے۔ انھوں نے کبھی کسی دہشت گردی یا حکومت مخالف تحریک میں حصّہ نہیں لیا۔ حکومت نے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو تارکین وطن کی حیثیت سے کیمپوں میں قید کر رکھا ہے۔ ان لوگوں کی ایک جماعت نے حکومت سے اصرار کیا ہے کہ انھیں حکومت کے اندر رہنے اور حق خودارادی کے استعمال کی اجازت دی جائے۔
اقوام متحدہ کے اداروں کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اِنتہا پسند بدھ پجاریوں اور حکومت، پولیس و سیکورٹی کے لوگوں نے ان پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے ہیں، بلا کسی شنوائی کے لاتعداد لوگوں کو قتل کردیا ہے، عورتوں کی عصمت دری کی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اداروں اور ان کے ساتھیوں کی یہ پالیسی انسانیت کیخلاف جرائم (Crimes against humanity) کے زمرےمیں آتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لفظ روہنگیا پرانے کالونیاتی دور میں رواِنگا اور روانگیا سے مل کر بنا ہے۔ لیکن مقامی لوگ کہتے ہیں کہ یہ لفظ رکھنگا یا روشنگا سے مل کر بنا ہے۔ تاریخ میں اس علاقے کو اراکان کا نام دیا گیا ہے اور یہاں کے باشندوں کو روانگا کہا گیا ہے۔ تاریخ دان بتاتے ہیں کہ حکومت نے جو مایو (Mayu) فرنٹیر ڈسٹرکٹ بنایا تو اس میں روہنگیا کا زیادہ تر علاقہ شامل کرلیا اورسرکاری طور پر لفظ روہنگیا مان لیا اور ریڈیو اور تقریروں میں یہ لفظ استعمال کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ بنگال (غیرمنقسم) کی قربت اور وہاں مسلمانوں کی اکثریت و حکومت کی وجہ سے لاتعداد لوگ تجارت، تبلیغ (بدھ مت اور اسلام) کی خاطر اراکان یا روہنگیا گئے اور وہاں بس گئے۔ آہستہ آہستہ ان کی تعداد 14,13 لاکھ ہوگئی۔ 1991/92 میں فوجی انقلاب کے بعد برمی حکومت نے ان کے خلاف شدید دہشت گردی اور مظالم کا سلسلہ شروع کیا اور ڈھائی، تین لاکھ روہنگیا بنگلہ دیش ہجرت کرگئے۔ اس وقت بنگلہ دیش اور میانمار میں باقاعدہ جنگ ہوتے ہوتے رُک گئی۔ حقیقت یہ ہے اراکان صوبہ اور بنگال کے درمیان بہت قریبی تعلقات قائم ہوگئے اور مغلوں کے دور میں اراکان کو صوبہ بنگال کے بڑے صوبےمیں شامل کرلیا گیا تھا۔
تحریک پاکستان کے دوران اراکان کے مسلمان باشندوں نے قائد اعظم سے درخواست کی کہ ان کے صوبے کو مشرقی پاکستان کے صوبے کے ساتھ شامل کرلیا جائے اور وہ پاکستانی بننا چاہتے ہیںمگرذرائع ابلاغ نے بتلایا کہ قائد اعظم نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ وہ برما کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرسکتے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب جنرل نے وِن نے فوجی انقلاب کیا تو اس کے فوجیوں اور بدھ دہشت گرد وں نے مسلمان کے خلاف ایکشن شروع کردیا۔ دو لاکھ سے زیادہ مہاجرین بنگلہ دیش چلے گئے اور حالات بہت بگڑ گئے۔ اقوام متحدہ کی کوششوں سے برما کی حکومت نے ان مہاجرین کو واپس آنے کی اجازت دیدی۔ لیکن برما کی حکومت نے شہریت کا قانون پاس کرکے ان لوگوں کو شہریت سے محروم کردیا اور مہاجرین کا درجہ دیدیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح سربوں نے (قدامت پسند عیسائی) نے بوسنیا میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے بالکل اسی طرح برمی بدھ مت والوں اور فوجیوں نے وہی سلسلہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری رکھا ہے۔ غیر ملکی صحافیوں کی رپورٹوں اور تصاویر سے اس قدر بھیانک تصویر سامنے آتی ہے کہ دل دہل جاتا ہے۔عورتوں کی عصمت دری، بچوں، بوڑھوں کاقتل عام، ان کی جھونپڑیوں کو آگ لگانا، ان کا سامان لوٹنا سب سرکاری پالیسی بن گیا ہے۔ اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپین یونین تماشائی بنے بیٹھے ہیں مگر ان سے زیادہ قصور ان 57 مسلمان ممالک کا ہے جو ہزاروں بیگناہوں، غریبوں کا قتل عام اورلوٹ مار دیکھ رہے ہیں اور ان کی کھال پر جوں نہیں رینگ رہی۔ اپنی عیاشی میں لگے ہوئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر صدر ڈاکٹر سوئیکارنو ہوتے تو برما کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے۔ ترکی نے قابل تحسین اقدامات کئے ہیں اور بنگلہ دیش میں مقیم مہاجرین کی دیکھ بھال کے تمام مصارف اُٹھانے کا بندوبست کیا ہے۔افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے مسلمان لیڈروں، حکمرانوں کی بے حسی پر کہ اتنا ظلم و ستم بیگناہ مسلمانوں پر ہورہا ہے اور وہ عیاشی میں مصروف ہیں۔ ایک وقت تھا کہ ایک مسلمان قیدی عورت نے حجاج بن یوسف کو اپنی تکلیف کا خط لکھ دیا تھا تو اس نے محمد بن قاسم کی زیرنگرانی فوجی دستہ بھیج کر راجہ داہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی۔ اب ہم بزدل اور بے حس ہوگئے ہیں۔ مسلمان کے خون کی اب قیمت اور قدر کم ہوگئی ہے۔