| |
Home Page
منگل23 ربیع الاوّل 1439ھ 12 دسمبر2017ء
ارشاد بھٹی
September 25, 2017 | 12:00 am
وہ تو بند کانوں سے بھی زنانہ آواز سن لے

Woh To Band Kaanon Se Bhi Zanana Aawaz Sun Le

اکثر سیاستدانوں کو دیکھ کر وہ خاوند یاد آ جائے کہ جس سے ڈاکٹر نے جب پوچھا ’’کیا تمہارا اور تمہاری بیوی کا بلڈ گروپ ایک ہی ہے‘‘ تو خاوند بولا ’’ہونا تو چاہئے کیونکہ پچھلے 15سالوں سے میرا ہی خون چوس رہی ہے‘‘ جبکہ اپنی عوام پر نظر ماریں تو یکطرفہ محبت کرتا وہ عاشق ذہن میں آئے جس نے جب اپنی محبوبہ سے کہا ’’ایڈریس بتاؤ میں تمہارے گھر آنا چاہتا ہوں‘‘ تو محبوبہ بولی ’’جس گھر کی چھت پر کوّا بیٹھا ہو گا وہی میرا گھر‘ وہاں آجانا‘‘ عاشق نے حیران ہو کر کہا ’’کوّا تو کسی گھر پر بھی بیٹھا مل سکتا ہے‘‘ محبوبہ نے جواب دیا ’’تمہیں کیا‘ تم نے تو جُتیاں ہی کھانی ہیں‘ کسی گھر سے بھی کھا لینا‘‘ ابھی حال ہی میں ہوئے اک سروے سے پتا چلا کہ 40فیصد لوگ سیاست دانوں کو اچھا نہیں سمجھتے‘ 25فیصد سیاست دانوں کو بالکل نہیں سمجھتے جبکہ باقی بچے 35فیصد خود سیاست میں‘ یہی سروے بتائے کہ ہمارے سیاستدان اُس انجینئر جیسے جس نے کیل ٹھونکنے کا ایسا طریقہ ایجاد کیا کہ کچھ بھی ہو جائے مگر کیل ٹھونکتے ہوئے ہتھوڑی انگلی پر نہیں لگے گی‘ وہ طریقہ یہ کہ کیل ٹھونکتے وقت کیل کسی دوسرے کو پکڑا دیں اور اسی سروے نے بتایا کہ ہمارے سیاست دان تو وہ ماہر ڈاکٹر جو بنا درد کے دانت نکال لیں‘ مطلب دانت نکال لیں‘ درد رہنے دیں۔
وقت ثابت کر چکا کہ اپنے سیاست دانوں کی ظاہری شکلیں الگ الگ‘ مگر باطنی خواہشیں ایک سی‘ سب کا ’’جنرل نالج‘‘ کمزور‘ سونے کے بعد اور اُٹھنے سے پہلے ان سے اچھا کوئی نہیں اور یہ عوامی مسائل کا حل یوں نکالیں کہ لوگوں کو مسائل سے ہی محبت ہو جائے‘ دنیا بھر کے سیاست دان تو لمبی لمبی تقریروں سے بور کریں مگر ہمارے سیاست دان یہی کام چھوٹی چھوٹی تقریروں سے بھی کر لیں اور تقریریں بھی ایسی کہ ایک بار ہم اپنے ایک رہنما کی تقریر سننے گئے مگر بڑی شرمندگی ہوئی کیونکہ ہمیں تقریر سمجھ ہی نہ آئی‘ کچھ عرصہ بعد جب انہیں دوبارہ سنا تو پھر شرمندگی ہوئی کیونکہ اس بار تقریر سمجھ آگئی‘ سب کی تقریریں سلطان راہی کی بڑھکوں جیسی‘ سلطان راہی سے یاد آیا کہ جیسے دو موقعوں پر بندے کے خواب ٹوٹ جائیں‘ ایک جب اس کی اپنی محبت سے شادی نہ ہو پائے اور دوسرا جب اس کی اپنی محبت سے شادی ہو جائے‘ ایسے ہی سلطان راہی دور میں ہمارے ہاں دو طرح کی فلمیں بنا کرتیں‘ ایک وہ جو اچھی نہیں ہوتی تھیں اور دوسری وہ جو بُری ہوتی تھیں‘ اس زمانے میں تو جتنی بڑی بڑی ہماری ہیروئنیں ہوا کرتیں‘ اتنی بڑی تواب ہماری فلم انڈسٹری بھی نہیں‘ اسی دور کی ایک قد کاٹھ والی ہیروئن تو اتنی رومانٹک تھی کہ رومانس کرتے ہوئے سین میں یوں گم ہو جاتی کہ پھر اگلے سین کیلئے ہدایتکار کو اسے ڈھونڈ کر لانا پڑتا‘ یہاں سین سے مراد وہی جو آپ سمجھ رہے ہیں‘ تب کی فلمیں ایسی ہٹ بلکہ سپرہٹ کہ ایک فلم میں ہیرو نے ہیروئن کا ہاتھ پکڑ کر جب اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا ’’کیا ہم اکیلے ہیں‘‘ تو ہال میں بیٹھا اکلوتا شخص بولا ’’آج تو نہیں مگر کل آپ اکیلے ہی ہوں گے‘‘ ایک بار سلطان راہی کی فلم دیکھتے ہوئے شیخو سے پوچھا کہ اگر ہماری فلموں سے بڑھکیں نکال دی جائیں تو باقی کیا بچے گا‘‘ بولا ’’ٹائم بچے گا‘‘ بات کہاں سے کہاں نکل گئی‘ ذکر ہو رہا تھا سیاستدانوں کا‘ یہاں سیاستدانوں سے بے پناہ محبت کی جائے بلکہ اب تو اپنے گھروں میں ان کی چاہت کا یہ عالم کہ ایک سیاسی رہنما اغوا ہوئے تو ایک ہفتے بعد ڈاکوؤں نے ان کے گھر فون کر کے کہا کہ اگر اگلے دو دنوں میں 20لاکھ نہ بجھوائے تو ہم انہیں واپس گھر چھوڑ جائیں گے‘ گھر والوں نے اگلے دو گھنٹوں میں ہی رقم بجھوا دی۔
ہمارا وہ سیاستدان جو جب پیدا ہوا تو کسی نے اس کے باپ سے پوچھا ’’بیٹا ہوا یا بیٹی‘‘ تو باپ بولا ’’دھاندلی‘‘ ہوئی ہے، جس نے اسکول کے زمانے میں ہر ٹیسٹ میں انڈا دینے پر اپنی استانی کا نام مرغی رکھ دیا‘ جس نے زندگی بھر کسی بے وقوف کو اپنا نہیں بنایا ہمیشہ اپنوں کو بے وقوف بنایا، جس نے ایک دفعہ لفظ اوسطاً کا مطلب ایسے سمجھایا کہ ’’جب کسی شخص کا ایک پاؤں جلتے چولہے میں ہو اور دوسرا پاؤں فریج میں تو اوسطاً وہ شخص پرسکون زندگی گزار رہا ہو گا، جسے جب پتا چلا کہ بندہ ایک گردے سے بھی زندہ رہ سکتا ہے تو اس نے فوراً کہہ دیا کہ ’’مرنے کے بعد اس کا ایک گردہ عطیہ کر دیا جائے‘‘، جس کی ہی یہ تھیوری کہ ’’بچے کنٹرول کرنے والے اگر بڑوں کو کنٹرول کر لیں تو بچے کنٹرول کرنے کی نوبت ہی نہ آئے‘‘، جو اپنی 5سالہ تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ ’’چونکہ ساغر صدیقی اس لئے نہایا نہیں کرتا تھا کہ اسے پانی گیلا لگتا تھا لہٰذا اسے چاہئے تھا کہ وہ ٹونٹی بند کر کے نہا لیتا‘‘، جو مقرر تو اتنا اچھا کہ لاکھوں کے مجمع کو کنٹرول کرلے مگر ناظر اتنا بُرا کہ ایک خاتون کو دیکھتے ہی آؤٹ آ ف کنٹرول ہو جائے، جو بند کانوں سے بھی زنانہ آواز سُن لے‘ جس نے ایک لڑکی سے پیار ہونے پر لڑکی کے گھر کے اتنے چکر لگائے کہ لڑکی کی ماں تک کو چکر چڑھ گئے‘ جس نے ایک عرصے تک مشہور کئے رکھا کہ وہ خود ایف ایس سی، بیٹا بی ایس سی اور اہلیہ ایم ایس سی، وہ تو بعد میں پتا چلا کہ ایف ایس سی سے ان کی مراد فادر آف سیون چلڈرن، بی ایس سی سے برادر آف سیون چلڈرن اور ایم ایس سی مطلب مدر آف سیون چلڈرن اور جو عملی سیاست میں آنے سے پہلے بھی اتنا تیز کہ ایک مرتبہ سیڑھی کے اوپر والے ڈنڈے پر کھڑا تھا کہ اس کے ہاتھ سے چوّنی گر گئی لیکن یہ اس تیزی سے نیچے اترا کہ جب زمین پر آکر کھڑا ہوا تو چونی اس کے سر پر گری، ہمارے اسی سیاستدان دوست کا کہنا ہے کہ مولوی اور تھانیدار موٹے اور سیاستدان خوشحال نہ ہوں تو سمجھو یہ اپنے پیشے سے مخلص نہیں‘ اسی کا ماننا ہے کہ اپنے ہاں مارشل لاء میں کوئی سچی بات کرتا نہیں اور جمہوریت میں کوئی سچی بات سنتا نہیں اور اسی کا تجربہ کہ ہماری سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی کہ دو کی لڑائی میں جیت ہمیشہ تیسرے کی ہو‘ پچھلے ہفتے اسی گوہرِ نایاب سے ملاقات ہوئی اور باتوں باتوں میں جب میں نے یہ پوچھ لیا کہ ’’آپ کے ماشاءاللہ اتنے ڈھیر سارے بچے مگر کسی کو بھی سیاست میں نہیں لائے کیوں؟ تو جواب ملا ’’ایک پوسٹ ماسٹر جنرل کی الوداعی پارٹی میں جب ایک جونیئر نے بڑی عقیدت سے اپنے ریٹائر ہونے والے باس سے کہا ’سر اپنے تجربے کی روشنی میں کوئی نصیحت یا ہدایت فرما دیں‘ تو پوسٹ ماسٹر جنرل بولا ’’میری پنشن بذریعہ ڈاک نہ بھجوانا‘‘۔
صاحبو! اپنے ہاں تو ایسے ایسے لوگ بھی رہنما بنے بیٹھے جنہیں غور سے دیکھیں تو بندے کا ہاسہ نکل جائے‘ جن کی 5منٹ بات توجہ سے سن لیں تو جسم پر ’’مہاسے‘‘ نکل آئیں‘ اورجن کی فہم و فراست دیکھ کر ٹرین حادثے میں اکیلا بچ جانے والا وہ سردار یاد آئے کہ جس سے انکوائری ٹیم نے جب پوچھا ’حادثہ کیسے ہوا‘ تو یہ بولا ’سب کچھ ٹھیک تھا بس اس اعلان پر کہ ٹرین پلیٹ فارم پر پہنچنے والی‘ سب سرداروں نے جانیں بچانے کیلئے افراتفری میں پلیٹ فارم سے پٹری پر چھلانگیں لگا دیں‘ پھر آپ کیسے بچ گئے‘ اس سوال پر سردار جی بولے ’’میں تو خود کشی کیلئے پٹری پر لیٹا ہوا تھا جب میں نے یہ اعلان سنا کہ ٹرین پلیٹ فارم پر آرہی تو میں پٹری سے اُٹھ کر پلیٹ فارم پر آکر لیٹ گیا‘‘، لیکن دوستو! سارا قصور سیاستدانوں کا بھی نہیں کیونکہ جیسی قوم ویسے رہنما‘ پھر جس معاشرے میں سب چلتا ہو، اس معاشرے میں یہی لوگ چلتے ہیں اور پھر یاد رہے لوگ دھوکہ تب دیتے ہیں جب آپ انہیں موقع دیتے ہیں۔