| |
Home Page
بدھ 27 محرم الحرام 1439ھ 18 اکتوبر 2017ء
September 25, 2017 | 12:00 am
سیاسی منظر نامہ،عالمی فورم پرپاکستانی نمائندوں نےبھارتی پروپیگنڈے کامقابلہ کیا

Todays Print

اسلام آباد(طاہر خلیل) کئی سال بعد پہلی مرتبہ پاکستان کے سفارت کاروں اور نمائندوں نے کھل کر زوردار طریقے سے دانشمندی،دلائل اور حقائق کی بنیاد پر بھارت کے پروپیگنڈے کا مقابلہ بھی کیا اور نریندرمودی کے موجودہ’’ہندو توا‘‘ فلسفے کا موثر جواب دیا۔ جنر ل اسمبلی میں وزیراعظم شاہد عباسی کی تقریر کا بیشتر حصہ جو کم ازکم501 الفاظ پر مشتمل تھا، کشمیری عوام کی جدوجہد اور بھارت کے متشددانہ اور متعصبانہ رویے کو بے نقاب کرنے پر مشتمل تھا، انہوں نے کسی لگی لپٹی کے بغیر بات کی اور مدافعانہ موقف اختیار نہیں کیا، انہوں نے مودی کے افسوسناک طرز عمل اوربھارت کے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا مقابلہ بھی کیا اورٹرمپ کی مہم جوئی کا جواب بھی دیا خاص طور پر جب انہوں نے کہاکہ کسی بھی صورت میں پاکستان کو قربانی کا بکرا نہیں بننے دیں گے اورافغانستان کی جنگ پاکستان میں لڑنے نہیں دیں گے۔

امریکی نائب صدر کے ساتھ میٹنگ میں ان کا کھلا ڈھلا لباس اس بات کی عکاسی کرتا تھا کہ وہ امریکی سپرپاور کے رعب تلے نہیں آئے اس کے ساتھ ان کی ایرانی صدر حسن روحانی سے میٹنگ میں دونوں برادر مسلم ہمسایوں نے ایک مشترکہ موقف اختیار کیا کہ مسئلہ افغانستان کا حل سیاسی ہے نہ کہ فوجی اور بہترین راستہ یہ ہے کہ علاقائی سطح پر اس مسئلے کو حل کیا جائے۔

وزیراعظم کی تقریر کے بعد جب بھارت بہت سیخ پا ہوا ، وزیر خارجہ خواجہ آصف نے جارحانہ جوا ب دینے کی کوشش کی تو پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جیسا کہ مشہور محاورہ ہے کہ بھارت کو آئینہ دکھادیا بھارت کو منسلک کردیا کہ بھارت خطے میں دہشت گردی کی ماں ہے۔ بھارت کے ’’ٹیرررستان‘‘ کے الزام کا یہ بھرپور جواب تھا، اقوام متحدہ کی قرار دادیں فرسودہ ہونے کے الزام کے جواب میں انہوں نے یہ کہا کہ قانون اور اخلاقیات کی کوئی حتمی تاریخ نہیں ہوتی۔

سینیٹر مشاہد حسین سید چیئرمین پارلیمانی دفاعی کمیٹی نے ڈاکٹرملیحہ لودھی کے بیان پر ایک جامع تبصرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مودی سرکار کے آنے کے بعد کسی پاکستانی نمائندے نے چاہے سفیر ہو یا سیاستدان بی جے پی کی داخلی مذہبی انتہا پسندی پر براہ راست تنقید کی اس سلسلے میں انہوں نے ڈاکٹر ملیحہ لودھی کوسراہا کہ انہوں نے مودی سرکار کے کھلے فاشسٹ اور نسل پرستانہ نظریے کوبھی بے نقاب کیا، خاص طورپر مودی کی طرف سے اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی کی نامزدگی کا ذکرکیا اور اس کے اس قول کو دہرایا کہ جب ایک ہندومرے گا تو ہم ایک سو مسلمان ماریں گے‘‘۔