| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
ارشد وحید چوہدری
October 09, 2017 | 12:00 am
یہ بے یقینی اور شک کیوں؟

Yeh Bay Yaqeeni Or Shak Kiyon

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بیشک باور کرانے کی کوشش کریں کہ انہیں تو ریاست کے اندر ریاست کہیں نظر نہیں آتی، سول اور عسکری اداروں کے درمیان اختلافات نہیں پائے جاتےبلکہ میڈیا ان کوبےوجہ اچھالتا ہے،آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور چا ہےدعویٰ کریں کہ اداروں کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہے،مل کر کام کرنا چاہئے،مسلح افواج آئینی حکم ماننے کی پابند ہیں،وہ واشگاف الفاظ میں یہاں تک واضح کر دیں کہ مارشل لا کے امکانات کی باتیں فضول ہیں لیکن بے یقینی ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے،شک کے سائے ہیں کہ گہرے ہوتے جا رہے ہیں،افواہیں ہیں کہ دن بدن پھیلتی جا رہی ہیں۔ لمحہ فکریہ ہے کہ عوام ملک کی سویلین اور عسکری قیادت کی تمام تر یقین دہانیوں کوماننے کیلئے کیوں تیار نہیں ہیں؟ منتخب حکومت کی جون تک آئینی مدت پوری ہونے پرشک کیوں کیا جا رہا ہے؟ آئندہ عام انتخابات کے بروقت انعقاد پر سوالات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں؟ مارچ میں سینیٹ کے انتخابات کے انعقاد کو کیوں مشکوک گردانا جا رہا ہے؟ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نا اہلی کے بعد مائنس ون کی باتیں مزید زور شور سے کیوں ہورہی ہیں؟ عام انتخابات سے قبل سیاست دانوں کے کڑے احتساب کی باتیں کیوں کی جا رہی ہیں؟ ٹیکنو کریٹ یا صدارتی نظام حکومت کی درفطنیاں کیوں چھوڑی جا رہی ہیں؟ عائشہ گلے لئی کے تحریک انصاف کے چیئرمین پر سنگین الزامات عائد کرنے سے لے کر ملتان میٹرو بس پروجیکٹ میںوزیر اعلیٰ پنجاب پر مبینہ کرپشن کےلزامات تک نادیدہ ہاتھ کیوں تلاش کئےجا رہے ہیں؟ سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی سابق وزیر اعظم نواز شریف سے تعلقات میں کشیدگی سے لے کر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے بڑے بھائی کو مخاطب کر کے مشیروں کی ٹیم تبدیل کرنے کے مشورے دینے تک حکمران جماعت میں دراڑیں کیوں تلاش کی جا رہی ہیں؟ سابق صدر آصف زرداری کے میاں صاحب کی طرف مڑ کر نہ دیکھنے سے لے کرخان صاحب کے عام انتخابات کے فوری انعقاد کے مطالبے تک کے اقدام کو نئی صف بندی قرار کیوں دیا جا رہا ہے؟ ہر معاملے کو مشکوک جاننے اور کسی سازش کا پہلو تلاش کرنے کی بے شمار مثالیں اور دے سکتا ہوں لیکن اس قومی روئیے کے جنم لینے کی وجوہات پر روشنی ڈالنے سے پہلے آخری مثال کہ اعلیٰ سول بیوروکریسی کی ترقیوں میں نواز شریف کے انتہائی قریبی افسر کو میرٹ پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے نظر انداز کرنے سے لے کر مخصوص اعلیٰ افسر کو کور کمانڈر لاہور تعینات کرنے تک کے اقدام کوپیغام دینا مقصد کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟ یقیناً بطور قوم اس شکی روئیے کے پس پردہ عوامل میں سب سے اہم وہ ستر سالہ ماضی ہے جس کی یادیں تلخ نتائج اخذ کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اگر صرف ماضی قریب کے واقعات پہ نظر ڈالی جائے تو موجودہ حکومت کے قیام کے بعد دھندلی منترا اور پارلیمنٹ کے سامنے ایک سو چھبیس دن کے طویل دھرنے سے لے کر پاناما کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے تک اعلیٰ پولیس افسر پر بد ترین تشدد اور پرا سرار واٹس ایپ کال جیسے متعدد ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے عوام کو ماورائی مخلوق کے فعال ہونے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ حد تو یہ ہے کہ اس کالم کیلئے ریسرچ ورک کرنے کے دوران سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر میں نے ایک ٹویٹ کیا کہ پاکستان میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے یا کیا جارہا ہے اس کے باعث لوگ مقدس اداروں پر بھی براہ راست تنقید کرنے لگے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے تو چند لمحوں میں اس پر اس قدر شدید رد عمل سامنے آیا کہ میری آنکھوں کے سامنے شہید لیفٹیننٹ ارسلان کی والدہ کی تصویر آ گئی، بہت دل چاہا کہ ریاستی ادارے پر تنقید کرنے والوں سے استفسار کروں کہ مادر وطن کے دفاع کے دوران تین بہنوں کا اکلوتا بھائی اور بوڑھے والدین کا واحد سہارا جب جام شہادت نوش کر لے اور اس جانباز کی ماں وطن پر قربان ہونے والے اپنے لخت جگر کی کیپ اور چھڑی سمیت پاکستانی پرچم میں لپٹی یونیفارم کو ہاتھوں میں لے کر اپنے آنسووں کو ضبط کرنے کی کوشش کرتی نظر آئے تو اس سے زیادہ مقدس فریضہ اوراس سے زیادہ مقدس ادارہ کیا کوئی ہو سکتا ہے۔ قصورتنقید کرنے والوں کا بھی نہیں کیوں کہ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ جب نوازشریف جیسا قومی رہنما اپنے خلاف فیصلے کو ستر سالہ تماشے کا تسلسل قرار دے ،جب وہ اپنی بے دخلی کو سازش قرار دے،جب وہ حق حکمرانی عوام کودینے اور منتخب حکومت کو اقتدار کے ساتھ اختیار بھی دینے کا مطالبہ کرے تو عوام میں شکوک و شبہات جنم لینا فطری عمل ہے۔ جب نا اہلی سے متعلق ایک جیسے مقدمات میں فریقین سے امتیازی سلوک روا رکھا جائے، جب الیکشن کمیشن بار بار توہین پر بھی لچک دکھاتا رہے،جب انسداد دہشت گردی کی عدالت سے وارنٹ جاری ہونے کے باوجود انتظامیہ اور پولیس کپتان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکیں تب لوگ نادیدہ قوتوں کی پشت پناہی جیسے الزامات تو عائد کریں گے۔ جب احتساب عدالت فرد جرم عائد کرنے کے دوران ملزم کو بنیادی قانونی حق سے بھی محروم کر دے اور انصاف کو یقینی بنانے کی بجائے چھ ماہ کے اندر مقدمات کو نمٹانے کی ہدایات پر عمل کرنے کو ترجیح دے،جب نواز شریف کی پیشی پروزارت داخلہ کی ماتحت رینجرز بن بلائے احتساب عدالت کا کنٹرول سنبھال لے، سویلین حکومت کے احکامات کو ماننے سے انکار کر دے، جب وفاقی وزیر داخلہ ریاست کے اندر ریاست کی موجودگی کے خدشات ظاہرکریں،پاکستان کو بنانا ری پبلک سے تشبیہ دے تو حکومت کی بے بسی کا تماشا دیکھنے والے عوام اصل حکمرانوں کے بارے میں استفسار تو کریں گے۔ جب احتساب عدالت کے جج میڈیا کےنمائندوں کے سامنے ایک سانس میں رینجرز کو طلب نہ کرنے کا بیان دیں لیکن مخصوص آمدورفت کے بعد دوسری سانس میں اپنے تحریر کردہ فیصلے میں رینجرز کی تعیناتی پر خراج تحسین پیش کریں تو پس پردہ کرداروں کو بے نقاب کرنے کے مطالبات تو ہوں گے۔
جب رینجرز حکام پارلیمنٹ کی سیکورٹی ڈیوٹی از خود ختم کرتے ہوئے اپنے اہلکاروں کو واپس بلا لے،حکومت پنی اتھارٹی منوانے کی بجائے ایف سی کو تعینات کرنے پر مجبور ہو،جب وفاقی حکومت اپنے ماتحت ادارے کی حکم عدولی کے بارے میں بھی وجوہات سے لاعلم ہو تو لوگ ریاستی اداروں کی حدود کے متعلق جاننے کی کوشش تو کریں گے۔ جب دو لفظ انگریزی نہ بولنے کی اہلیت رکھنے والے راولپنڈی کے خود ساختہ ترجمان آئے روز بند لفافوں میں پہنچائے جانے والی دستاویزات کے سہارے حکمرانوں کے خلاف پٹیشنیں دائر کریں تو لوگ پتلی تماشے کا گمان تو کریں گے۔ جب سر شام شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادارصحافت کے نام پر غیر اخلاقی اور غیر صحافتی زبان میں حکومت اور سیاسی رہنماوں پر بغیر ثبوت الزمات عائد کرتے ہوئے فیصلے صادر کریں،حکومتی مشینری انہیں روکنے کی ہمت نہ کرسکے اور کوئی انہیں اپنی ترجمانی سے باز رہنے کیلئے شٹ اپ کال بھی نہ دے تو عوام بوٹ پالش جیسی اصطلاحیں تو استعمال کریں گے۔ جب خطے کی موجودہ کشیدہ سیکورٹی صورتحال کے باجود انتہائی اہم کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ جاری نہ کیا جائے اور میڈیا کے پوچھنے پرجواب دیا جائے کہ خاموشی بھی اظہار کا ایک طریقہ ہے تو لوگ اس ذومعنی جملے کی تشریح تو کریں گے۔ جب ایک طرف اعتراف کیا جائے کہ رینجرز وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں لیکن دوسری طرف بغیر تحریری حکم کے احتساب عدالت کا کنٹرول سنبھالنے اور وزراکے اندر داخلے کو روکنے جیسے غیر آئینی اقدامات کا بھرپوردفاع کیا جائے تو عوام قول و فعل میں تضاد کی نشان دہی تو کریں گے۔ اس صورتحال میں بصد ادب گزارش ہے کہ ہرملکی معاملے میں سازش اور ہرسیاسی کھیل کے پس پردہ ایمپائر کی موجودگی کے بارے میں عوام کے شکی روئیے کو ختم کرنے کیلئے تمام فریقین احتیاط سے کام لیں کیونکہ اب بھی اگر خود احتسابی نہ کی گئی توذہن نشین رہے کہ ماضی میں تو صرف جمہوریت کو نقصان پہنچا تھا لیکن اب تو اداروں بلکہ بعض مقدس اداروں کی بھی ساکھ دائو پر لگی ہوئی ہے۔