| |
Home Page
پیر22 ربیع الاوّل 1439ھ 11 دسمبر2017ء
طلعت حسین
October 12, 2017 | 12:00 am
ٹیک اوور

Takeover

ہم تیزی سے ایک ایسا جزیرہ بنتے جارہے ہیں جس پر من گھڑت خبروں، غلط تجزیوںاور بے بنیاد تھیوریوں کے سونامی حملے ہر آن حملہ آور ہوتے رہتے ہیں۔ان منہ زور لہروں نے سچائی کا کوئی منطقہ باقی نہیں چھوڑا۔ فہم و فراست پر مبنی بحث یا حقیقت پسندانہ استدلال کی گنجائش ختم ہوتی جارہی ہے۔ التباسات اور من گھڑت قیاس آرائیوں کے سیلاب میں اختلاف ِرائے کے امکانات ڈوب چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں فکری بانجھ پن کاایسا لق ودق صحرا نمودار ہوا ہے جہاں جھوٹ تو خوب ثمر بار ہوتا ہے لیکن سچائی کی کونپلیں پھوٹتے ہی مرجھا جاتی ہیں۔
ان شاءاﷲ، دیگر سونامیوں کی طرح یہ سونامی بھی گزر جائے گا۔ یہی تصورہم متوازن اور معقول سوچ رکھنے والے انسانوں کی امید کا چراغ روشن رکھتا ہے۔۔۔ ایسے انسان جو تجزیاتی صلاحیتوں سے ابھی دستبردار نہیں ہوئے، اور جو طوفان میں گھر جانے پر اپنی راہوں کو تبدیل کرنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ تاہم اب تک ہونے والا نقصان معمولی نہیں۔ گمراہ کن بیانیے کی کارپٹ بمباری دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ہمیں دوبارہ سوچ سمجھ رکھنے والی ایک قوم بننے میں بہت دیر لگ جائے گی۔ زمینی حالات کو دیکھتے ہوئے خدشہ ہے کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں بچا۔ ہمیں تباہ کن دعوئوں، کہ ہم درپیش مسائل کو کتنے اچھے طریقے سے نمٹ رہے ہیں(یا نمٹ چکے ہیں) کی بھاری قیمت چکانی پڑسکتی ہے۔ مسافت میں ابھرنے والی سرخی بتاتی ہے کہ ان من گھڑت خبروں، غلط تجزیوںاور بے بنیاد بیانیے کے سنگریزوں سے ہمارے پائو ںلہولہان ہیں۔
آزادی حاصل کرنے کے بعد سے ہمارا تزویراتی ہدف اپنے بچائو کے پشتے کو مضبوط کرنا ہے۔ ہماری کوشش رہی کہ ہم ایسی صورت ِحال کی گرفت میں آنے سے بچ جائیں جس میں ہمارے دشمن (حقیقی اور فرضی)سرحدوںکے ددنوں طرف سے ہمیں گھیرے میں لے لیں۔ ہر روز قوم کو بتایا گیا کہ ہم نے ’’دشمن کے مذموم ارادے ‘‘ ناکام بنا دئیے ہیں، نیز ہم ’’سرحدوںکو محفوظ بنانے کے قومی مقصد ‘‘ میں کامیاب رہے ہیں۔ جنگ ہو یا امن، شکست ہو یا فتح، ہم اس دعوے سے دستبردار نہیں ہوتے کہ ہم اپنے علاقے کو حیرت انگیز حد تک محفوظ بنا نے اوراس کا تحفظ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ جب ہم نے نصف ملک گنوا دیا تو بھی ہمارے ہونٹوں پر اسی بیانیے کا ورد جاری تھا۔
قومی زندگی آگے بڑھتی ہے۔ ہم نے ایٹمی ڈیٹرنس حاصل کرلیا۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ ایٹم بم دفاع یا جارحیت کا حتمی ہتھیار ہے۔ ہم نے ملک کو ایٹمی چھتری کی پناہ میں لے لیاتاکہ سرحدوں کے تحفظ اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔ ہم نے کچھ اور کام بھی کیے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی مورچے میں بیٹھ گئے اور مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لئے تمام وسائل افغان سرحد پر لگادئیے۔ ہزاروں جانوں کی قربانی دینے، اربوں ڈالر خرچ کرنے اور کامیابیوں کے ان گنت دعوئوں کا طومار باندھنے کے باوجود ہمیں اُس جانب سے تخریبی سرگرمیوں اور حملے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اُس خطے میں اس سے کہیں زیادہ فوجی دستے تعینات ہیں جتنے ہم نے اپنے روایتی دشمن، بھارت کے ساتھ بارڈ رپر لگائے ہیں۔ اس طرف حالات صرف جزوی طور پر ہی قابو میں ہیں۔ لیکن دوسری طرف، لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پرہم نے پہلے سے کہیں زیادہ حملے دیکھے ہیں۔ رواں سال یہ حملے اپنے عروج پر رہے ہیں۔ اس طرح ہم ایک دشمن کے دوطرفہ حملوں کی زد میں ہیں، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم اسی صورت ِحال سے بچنا چاہتے تھے، اوراسی کو اپنی اہم ترین کامیابی قرار دیتے تھے۔
صرف یہیں پر ہی بات ختم نہیں ہوجاتی۔ سرحدوں کے دونوں اطراف سے بڑھنے والے خطرے کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہمارے دامن گیر ہیں۔ ایران کے ساتھ ہماری سرحد پہلے سے زیادہ گرم ہوچکی ہے۔ چنانچہ وہاں اضافی دستے تعینات کرنا ضروری ہوگیا۔ اس کے علاوہ تنائو کی تمازت کم کرنے کے لئے آرمی چیف کے اس ملک کے دورے کاپلان بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس سے بھی گہری تشویش ہمارے ملک کے اندر ونی حصوں پر امریکی حملے کے خطرے کی صورت موجود ہے۔ اس سے پہلے امریکہ نے سینکڑوں ڈرون حملے کیے ہیں لیکن کسی بھی سطح پر رسمی معذرت یا تاسف کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اب واشنگٹن کی تمام تر عسکری اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے خلاف آنے والے مہینوں میں جارحانہ اقدامات اٹھانے کے لئے پر تول رہی ہے۔ امریکی کارروائی کے سنگین امکانات موجود ہیں لیکن اپنے گھر میں ہم کامیابیوں کے نشے میں سرشار ’’سب ٹھیک ہے ‘‘ کے میڈیا بیانات کو دامن قیامت سے جوڑے ہوئے ہیں۔
ہم نے ملکی سیکورٹی کو درپیش اس عالمی چیلنج کو ٹرمپ کی روایتی حماقت پرمعمول کیا۔ ہم واشنگٹن کے جارحانہ منصوبوں کو جواز فراہم کرنے والے پیرائے سے اغماض برت رہے ہیں۔ صرف واشنگٹن کی ہٹ دھرمی نہیں بلکہ BRICS اعلامیے، اور اب بھارت اور یورپی یونین کے دہشت گردی پر تعاون کے معاہدے میں بھی اس کی واضح جھلک موجود ہے (ان دستاویزات کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ دنیا کیا سوچ رہی ہے )۔ دنیا میں گہری ہوتی ہوئی تشویش کا فوکس پاکستان پر ہے، لیکن ہم اسے نظر انداز کررہے ہیںکیونکہ سچائی اتنی پریشان کن ہے کہ ہم اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔
اس دوران ہم قیمتی جانیں اور رقم ملک میں موجود دہشت گردی کے خلاف خرچ کررہے ہیں،اور دہشت گردی ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ گزشتہ ہفتے جھل مگسی مزار پر ہونے والے حملے میں بائیس قیمتی جانوں کے ضیاع نے فتح کے چکاچوند سرکاری دعوئوں کو ایک مرتبہ پھر دھندلا دیا۔ اپنی آزادی کے 72 سال بعد بھی پاکستان 2017 ء میں اپنی سرحدوں پر خطرات کا سامنا کررہا ہے۔ اسے ایک طرف عالمی سطح پر ترتیب دی جانے والی کسی ممکنہ کارروائی کا خطرہ ہے تو دوسری طرف اسے داخلی طور پر کئی ایک انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے خطرہ ہے جن سے یہ صرف جزوی طور پر ہی نمٹ پایا ہے۔ کیا یہ ایک کامیاب پالیسی ہے یا ناکامی کی افسوسناک کہانی ؟کیا اس صورت ِحال پر سرپرفتح کا تاج پہنایا جائے یا انکوائری کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے؟ کیا ہم اعتماد اور سکون کی فضا میں سانس لے رہے ہیں یا تشویش کی زہرناکی سے بوجھل ہوا سینے کو چھلنی کررہی ہے؟
اس کا درست جواب تو سب کو معلوم ہے، لیکن اسے آج کے پاکستان میں ہونے والی بحث کی میز پر نہیں رکھا جاسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ میز عالمی برادری کی ناانصافیوں کے دفترسے لدی ہوئی ہے کہ دنیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کا اعتراف کیوں نہیں کرتی۔ ہم اسے دنیا کا افسوس ناک رویہ قرار دیتے ہیں۔ ہم نے اپنے ’’کوہ ِ ندا‘‘ قائم کررکھے ہیں جہاں سے اس امید پر ایک ہی صداکی بازگشت سنائی دیتی ہے کہ دنیا ہماری قربانیوں (جو یقیناً ہم نے دی ہیں) کو تسلیم کرے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کو احساس ہو کہ ہمارا کیس حقیقی ہے۔ لیکن ٹھہریں، قومی قربانیوں کے ذکر کا اعادہ ’’بیانیہ ‘‘ نہیں ہوتا۔ معاشی مفادات اور پیچیدہ سفارت کاری کی دنیا میں ایسی جذباتی باتیں کسی کو متاثر نہیں کرتیں کہ کوئی قوم کتنے گھائو برداشت کرچکی ہے، تاوقتیکہ وہ قوم مختلف سطحوں پر کامیابی سے اپنا کیس ثابت کردے۔
جنگ ِعظیم اوّل میں اکیلے جرمنی کو بیس لاکھ جانوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد اس سے دگنی تھی۔ اس کی معیشت تباہ ہوگئی۔ عوام کو مختلف مقامات سے وسیع پیمانے پر ہجرت کرنی پڑی۔جرمنی اس جنگ کو شروع کرنے میں اکیلا نہیں تھا، اور نہ ہی صرف اسے نقصانات برداشت کرنا پڑے، لیکن جب Treaty of Versailles پر مذاکرات ہورہے تھے تو جرمنی کو اس میں شریک ہونے کی دعوت تک نہ دی گئی۔ اسے مسائل کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اپنے ساتھیوں سمیت اس عمل سے باہر رکھا گیا۔کسی نے اس کے جان اور مال کے بے پایاں نقصانات کو نہ دیکھا۔ اس کی بجائے منصوبہ یہ بنا کہ یورپ کو پریشانی میں مبتلا کرنے والی اس کی فعالیت کو بے اثر کردیا جائے۔ چنانچہ جرمنی کو بے اندازہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگ کے بعد ہونے والے معاہدے کے تحت وہ اپنی زمین کا دس فیصد اور بیرونی دنیا میں اپنی تمام کالونیوں سے محروم ہوگیا۔ اس کی 13 فیصد آبادی کو نئے تخلیق کردہ مختلف ممالک میں تقسیم کردیاگیا۔ اس کی سرحدی تقسیم کی وجہ سے اس کے کوئلے کے قیمتی ذخائر کا پانچ فیصد دیگر ممالک کے پاس چلا گیا۔ کسی نے جرمنی کی فریاد نہ سنی کہ اُس نے اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان برداشت کیا ہے۔ علاقائی سیاست کے سامنے جرمنی سرنگوں کردیا گیا۔ اس نے یہ سراُس وقت اٹھایا جب ہٹلر قوم کو مزید پریشانی میں جھونکنے کے لئے میدان میں آن دھمکا۔
بات یہ ہے کہ علاقائی اور عالمی سیاست کی پیچیدگی کا تقاضا ہے کہ دنیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے ستم زدگان کی بولی نہ بولی جائے۔ اس کرنسی کی کوئی مارکیٹ نہیں ہے۔ اس کےساتھ ساتھ داخلی طور پر معقول اور پر ذہانت بحث کا آغاز کیا جائے۔ اس بحث کے سینے پرخودساختہ کامیابیوں اور کامرانیوں کے چمکدار تمغے نہ سجے ہوں۔ لیکن یہ بحث اُسی وقت ہوسکتی ہے جب اس کی واقعی ضرورت محسوس ہو، اور ہم التباسات اور دکھاوے کی خوشنما دنیا سے باہر آتے ہوئے زمینی حقائق کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آئینہ دیکھنے اور اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے ہمارے ہاں کھوکھلے دعوئوں اور جذباتی تاویلوں کی نئی رُت شروع ہوچکی ہے۔ ہمارا بیانیہ ایک بہرے کا کلام ہے۔ وہ خود بھی نہیں سن سکتا کہ وہ دنیا کو کیا کہہ رہا ہے۔ اور پھرنعرہ زنی وہی کرتے ہیں جن کے الفاظ میں معانی کا فقدان ہوتا ہے۔ حقائق کی دنیا سے دور ایسے ہی جذبات کی کھیتی پروان چڑھتی ہے، اور یہی گل کھلاتی ہے۔
جس طرح فوج کی طرف سے حکومت پر قبضہ کرنا جمہوریت کو تباہ کردیتا ہے، اُسی طرح معلومات پر قبضہ کرنا تنقیدی سوچ، پر مغز بحث اور نکتہ آفرینی کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔ معلومات کو کنٹرول کرنے والے ہاتھ حقائق اور اجتماعی دانائی کو الگ کرتے ہوئے جھوٹی خبروں اور من گھڑت تھیوریوں کی خوشنما آئینہ سازی کرتے رہتے ہیں۔ اس میں من پسند دانائی کا عکس ابھرتا اور سند پاتا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان ٹیک اوورز میں سے کون سا زیادہ مضر ہے۔ پہلی قسم کے ٹیک اوور سے ہمیں ماضی میں بار ہا واسطہ پڑتا رہا، اس دوسری قسم کے ٹیک اوور سے ہم حالیہ دنوں دوچار ہیں۔