| |
Home Page
بدھ 27 محرم الحرام 1439ھ 18 اکتوبر 2017ء
حسن مجتبٰی
October 12, 2017 | 12:00 am
بارہ اکتوبر اور مشرف کا غائبستان

Barah October Or Musharraf Ka Ghaibistaan

(چند اوراق)
جن لوگوں نے بارہ اکتوبر والی اس شام کراچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس وقت تک ’’برطرف شدہ‘‘ اس عظیم کمانڈو کی ہوائیاں اڑی ہوئی دیکھی تھیں انہیں اچھی طرح یاد ہوگا کہ وہ کسی سے کتنا وتنا ڈرا ورا ہوا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب کہاں گئے جنرل محمود، عزیز، عثمانی جو اسے اقتدار میں لائے تھے یا نواز شریف کا انجینئرنگ کور جنرل ضیاء الدین بٹ جو اسکے تب زوال کا فوری سبب بتایا گیا تھالیکن نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بن کر بھی برطرف ہو کر جی ٹی روڈ پر ہے اور تاریخ پھر دہرائے جانے کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ لیکن اس بار شاید وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ پہلوانوں اور بلوانوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
بارہ اکتوبر کی اس شام ’’مری کی برفباری‘‘کا منظر پیش کرتے ٹی وی یعنی اندھے اسکرین اور ملی نغموں اور بھاری بوٹوں کی دھمک کے ملے جلے صوتی اثرات کے فوری بعد تمام دنیا نے ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ کے نام پر ملکی تاریخ کے جس چوتھے ڈکٹیٹر کو منی اسکرین پر دیکھا تھا وہ بالکل ہی کسی بنانا ریاست کاڈکٹیٹر لگتا تھا۔ لیکن بقول ایک امریکی مبصر کے کہ بس اس وردی کی پیٹی پر پستول پہنے ہوئے اس کمانڈو کے ہونٹوں کے کونے تلے دبے ہوئے سگریٹ کی کمی رہ گئی تھی۔ یہ اب پاکستان کا کمانڈو صدر جنرل پرویز مشرف تھا جسے میں’’گھر کی گھات لگانے والا کمانڈو‘‘ہوں گا جو ’’ عزیز ہموطنو، السلام علیکم‘‘ کہتے آپ سے مخاطب تھا۔ بس ملکی و غیر ملکی میڈیا کا ایک حصہ تھا جس نے بغل میں پیکینز نسل کے کتے تھامے جنرل کو ’’لبرل‘‘ لکھا تھا۔ پاکستان کے ایسی ٹوڈی کلاس لبرلز بھی تھے جنہوں نے ایک ٹانگ پر بمعہ اہل و عیال رات بھر ڈانس کئے تھے کہ اب بس ملک پر چھوٹے پیگ والے بڑے صاحب کی حکومت ہوگی۔
لیکن عالمی برادری نے نواز شریف کی حکومت ختم ہونے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا تھا جبکہ پاکستان میں اس فوجی بغاوت پر ’’نیویارک ٹائمز‘‘نے ’’پاکستان میں خطرناک فوجی بغاوت‘‘ کے عنوان سے اداریہ لکھا تھا۔ دنیا نے پاکستان میں فوجی بغاوت اور نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا تھا۔
تاریخ اس طرح دہراتی ہے کہ تب بھی ایک افسر تھا جس نے مشرف کی حکومت کے پہلے دن علی الصبح اسوقت کے چیف جسٹس سعیدالزمان صدیقی کے گھر پر جاکر ڈیرے ڈالے تھے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نہیں جائیںجب تک انکے باقی برادر جج مشرف کے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھا لیتے۔ یہ بھی تاریخ کا عجیب مذاق ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں میں شامل تھے۔ شاید جسٹس سعیدالزمان اور جسٹس ناصر اسلم زاہد سمیت دو چند جج تھے جنہوں نے مشرف کے مارشل لا کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کردیا تھا۔ اور اب بھی ایک ایسے ہی افسر کی حرکات سکنات کو احتساب عدالت کے سی سی ٖٹی وی کیمروں نے قید کرلیا۔
یہ لڑائی مارکٹائی اور ہلکی پھلکی گھونسے بازی سے بھرپور ’’کو دتا‘‘ تھا جو جنرل ضیا الدین بٹ اور انکو گرفتار کرنے والوں کے درمیان بھی گوالمنڈی والی ’’ون ٹو ون‘‘ چلی تھی اور ملک کے منتخب وزیر اعظم کو جہاز کی سیٹ سے باندھ کر کراچی لانے والی کہانی تو آپ سب جانتے ہیں۔
وزیر اعظم کے بعد انکی کابینہ ارکان کی باقاعدہ غاٰٗئب شدگیاں شروع کی گئی تھیں۔ منسٹرز کالونی اسلام آباد سے خود چوہدری نثار، مشاہد حسین، شاید خواجہ آصف کئی روز غائب رہے شاید تب تک جب ہیومن رائٹس واچ اور کلنٹن انتظامیہ نے نواز شریف کی معزول کابینہ کے ان سابق اراکین کی گمشدگیوں کا معاملہ مشرف حکومت اور اسکے اسوقت کے وزیر داخلہ جنرل ریٹائرڈ معین حیدر کے سامنا نہ اٹھایا تھا۔ مسلم لیگ نون کے سیکرٹری اطلاعات یا وزیر اعظم کے ترجمان صدیق الفاروق کو غائب کرنے والوں نے تو باقاعدہ مانا تھا کہ وہ اسے ’’کہیں رکھ کر بھول گئے‘‘تھے۔ اسی طرح یہ جنرل مشرف ہی تھا جس نے سیاسی مخالفین یا پاکستانی شہریوں کی گمشدگیوں کو ایک ’’قومی صنعت‘‘ کا درجہ دیا اور ملک کو غائبستان کا۔
لیکن سب سے بدتر سلوک و تشدد اسوقت پنجاب اسمبلی کے رکن رانا ثناء اللہ کے ساتھ ہوا جن کو انکے گھر فیصل آ باد سے گرفتار کر کے لاہور لایا گیا۔ وہ اس لئے کہ رانا ثناء اللہ پر الزام تھا کہ انہوں نے اسوقت کے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی زیر صدارت مسلم لیگ کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ ’’کیا اسٹیبلشمنٹ نے اس ملک کو سائیکل سمجھ رکھا ہے جب مرضی ہو اس پر سوار ہو لے، جب مرضی پڑی اس پر سے اتر گئے‘‘ اسطرح کی ایف آئی آر باقاعدہ لاہور کے ایک تھانے میں درج کی گئی تھی اور قلعہ گوجر سنگھ تھانے اور سی آئی اے سینٹر پر ان پر شدید شرمناک تشدد کیا گیا۔ پھر انہیں لاہور چھاؤنی لایا گیا اور جہاں انکو بیس کوڑے مارے گئے تھے۔ تب یہی ایاز امیر ملک میں واحد لکھاری تھے جنہوں نے رانا ثنا ءاللہ کے ساتھ ہونیوالے ایسے سلوک کا اپنے کالم میں ذکر کیا تھا۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ را نا ثناء اللہ نے بھی پنجاب میں وہی کیا جو انکے ساتھ مشرف حکومت میں ہوچکا۔
مشرف حکومت کے پہلے سال مکمل ہونے پر جب ہیومن رائٹس واچ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خاص طور سیاسی مخالفین کے ساتھ ایسے سلوک پر اپنی خاص رپورٹ شائع کی تو عالمی برادری اور میڈیا نے اسکا انتہائی سنجیدہ نوٹس لیا تھا۔

اخبار انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبون نے اس پر اداریہ لکھا جبکہ موقر برطانوی جریدے ہفت روزہ ’’اکنامسٹ‘‘ نے مشرف کے آمرانہ دور کو ’’پاکستان میں آرویلین دور‘‘ سے تعبیر کیا تھا۔ ظاہر ہے اسوقت کے وزیر اطلاعات جاوید جبار نے ایسی رپورٹ کی تردید تو کی تھی لیکن کچھ دنوں بعد موصوف خود بھی استعفیٰ دے گئے۔
آپ نے دیکھا کہ اسوقت کا امریکی صدر بل کلنٹن مشرف سے براہ راست بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے جنوبی ایشیائی دورے کےدوران پاکستان میں قیام بھی گوارا نہ کیا کہ غیر جمہوری حکومت تھی۔
اب یہ کھلا راز ہے کہ کلنٹن انتظامیہ اور نواز شریف کی حکومت کے دوران امریکہ نے چھ سو پاکستانی کمانڈوز کو تربیت دی تھی جنکو افغانستان میں تب پناہ لئے ہوئے اسامہ بن لادن کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنا تھا کہ نواز شریف کی حکومت مشرف نے ختم کردی۔ اگر مشرف نے نواز شریف حکومت ختم نہ کی ہوتی تو دنیا آج ایک مختلف جگہ ہوتی نہ ہی امریکہ پر دہشت گردانہ حملہ ہوتا کہ جسکی وجہ سے بقول شخصے ’’القاعدہ‘‘ مشرف کیلئے ’’الفائدہ‘‘ ثابت ہوئی۔ (ق سے ف )۔ اور اسکی آمرانہ حکومت کو طول بھی ملا۔ مشرف نے اتنے دہشتگرد پکڑ کر امریکہ کو نہیں دئیے جتنے سیاسی مخالفین اسکی آڑ میں غائب کئے۔ اور یہ ریاستی گمشدگیاں زرداری اور نواز شریف دور میں بھی جاری رہیں۔ نا اہل رہنمائوں کی پارٹی سربراہ رہنے والی قانون سازی تو بھاری اکثریت اور رائے سےمنظور ہو جاتی ہے۔ لیکن کاش اتنی تیزی اور توانائیاں ملک میں شہریوں کی غیر آئینی و غیر قانونی گمشدگیوں کے خلاف بھی قوانین بنانے پر صرف ہوتیں۔ مشرف کے غائبستانی انداز حکمرانی نے پاکستان کو ارجنٹینا اور چلی بنادیا ہے۔ شاید اسی لئےلئے اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے اپنے ایک اداریے میں مشرف کو ’’پاکستان کا پنوشے‘‘ قرار دیا تھا۔ مشرف کو ریوا لونگ دروازے والا انصاف ملا اور نواز شریف جی ٹی روڈ پر کہ ’’مجھے کیوں نکالا گیا‘‘۔ پردہ شاید پھر اٹھایا جائے کہ نہیں!
مشرف کے آخری دنوں میں (جب اس نے کہا تھا کہ وردی اسکی کھال ہے) ہمارے دوست اور نیویارک کے شاعر صحافی اشرف قریشی نے لکھا تھا:
جب خلق خدا کے ہاتھوں سے اک حشر بپا ہو جائیگا
جمہور کے رستے زخموں سے اب فال نکالی جائے گی
تب تخت اچھالے جاتے تھے تب تاج گرائے جاتے تھے
اب لش پش وردی اترے گی اب کھال اتاری جائے گی