| |
Home Page
بدھ 27 محرم الحرام 1439ھ 18 اکتوبر 2017ء
October 12, 2017 | 12:00 am
ناموس رسالت ﷺ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا تفصیلی فیصلہ

Todays Print

ناموس رسالت ﷺ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا تفصیلی فیصلہ

دستور پاکستان کی روسےاسلامی تعلیمات کے خلاف قانون سازی نہیں ہوسکتی
(قسط نمبر8)
جسٹس شوکت عزیز صدیقی
آپ نے زبانی پیغام رسانی، سفارتی پیغام رسانی کے علاوہ عبادت، اذان، نماز، خطبہ جمعہ، خطبہ حج اور عیدین تک کوابلاغ کاایک موثر ذریعہ بنایا۔ خلافت راشدہ میں"برید" یعنی ڈاک اور اطلاعات کے نظام پرزبردست توجہ دی گئی، عہداموی میں سرکاری خط وکتابت کی ترسیل اورخبروں ومعلومات سے آگاہی کے لیے دمشق سے صوبائی صدرمقامات تک جانے والی تمام شاہراہوںپرچندمیل کے فاصلے پربرید کے گھوڑے موجود ہوتےتھے جوایک چوکی سے دوسری چوکی اور پھرآگے تیسری چوکی تک ڈاک پہنچاتے۔عباسی دورمیں "صاحب البرید " کاعہدہ بے پناہ اہمیت کاحامل تھا۔ جس کے ذریعے دربارسے مملکت کے عام وخاص تک اور اس طرح دربارتک ہرقسم کی خبریں پہنچائی جاتی تھیں۔یہی سلسلہ خلافت عثمانیہ اوردیگر ادوارتک چلتارہا۔قرآنی آیات پر غورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق آدم کے وقت رب کائنات اور فرشتوں کے درمیان ہونے والامکالمہ بھی دراصل ابلاغ کی وہ پہلی صورت تھی جس میں حضرت آدم ؑ نے ان ساری چیزوں کے نام بتائےجواللہ رب العزت نے سکھائے تھے۔ لہذا ایک مسلمان ریاست میں ابلاغ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ابلاغ کے تمام میسر وسائل کو بروئے کار لانا اور انہیں ریاست کے انتظام اور عوامی فلاح و سعادت کےلیے استعمال کرنا ایک لازمی امر ہے۔
دستور پاکستان میں اسی ضرورت کے تحت ابلاغ کے حق کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔دستور پاکستان کی دفعہ 19میں دیئے گئے نظریہ ابلاغ کا ایک سرسری مطالعہ یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ پاکستان کادستور ایک معتدل اورمتوازن نظریہ ابلاغ کاتصورپیش کرتا ہے۔ جو ایک طرف آزادی اظہارکاحق بھی دیتاہے اوردوسری جانب اس کے استعمال پرذمہ داری بھی عائد کرتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ دستور پاکستان میں واضح کردہ نظریہ ابلاغ اپنے اصول وضوابط کے حوالےسے ہمہ گیر اورلاجواب ہے۔ اس مطالعہ سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ آئین پاکستان کا وضع کردہ نظریہ ابلاغ پاکستانی معاشرے کی ضروریات اور امنگوںسے ہم آہنگ ہے۔ ہمارے آئین کے واضح کردہ نظریہ ابلاغ میں حقوق وفرائض ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں ۔ جس میں فرد کی آزادی کی ضمانت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اصلاح اور تربیت ، ریاست کے مثبت اقدامات پرتحسین اور خلاف قانون اوراخلاقی امورپرگرفت اور احتساب کی ضمانت دی گئی ہے۔ دستور کی دفعہ19 ودیگر دفعات میں جو ابلاغی نظریہ پیش کیا گیا ہے وہ دراصل قرآنی تعلیمات، احادیث مبارکہ اور سیرت طیبہ کی تعلیمات واساسات سے قریب تر ہے۔ جس میں "اسلام کی عظمت کے تحفظ " کویقینی بنایا گیاہے۔اسلامی ریاست میں آزادی ذرائع ابلاغ کی حدودبیان کرتےہوئے ڈاکٹرمحمدوسیم اکبرشیخ نے یہ لکھا ہے کہ "اسلام نے فرد اورریاست،اداروں اورذرائع ابلاغ کو جوذمہ داریاں اورفرائض سونپے ہیں، انہیں ایک مخصوص دائرہ کار میں رہتے ہوئے پورا کرنا ذرائع ابلاغ کافرض ہے،اسلامی تعلیمات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اسلامی ریاست میں آزادی ذرائع ابلاغ نیکی وپاکیزگی کے فروغ کےلیے ہے، شر انگیزی اورفتنہ وفساد پھیلانے کےلیے نہیں۔"
اسلام کی عظمت میں بُنیادی اور دا ئمی کردار مُحسنِ انسانیت حضرت محمد ﷺ کی شخصیت اور اسوۂ حسنہ کا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آپ ﷺ کی زندگی قرآن کریم کی عملی تصویر، مینارۂ نور، معراجِ انسانیت اور تا ابد پیروی کے لیے نمونہ ہے۔ اسلام کی عظمت کی ابتداء اور انتہاء آپﷺ ہی ہیں۔
قرطاس کے چہرے پر
اک لفظ لکھا میں نے
اُس لفظ کی خوشبو سے
قرطاس معطّرہے
اُس نام کی کرنوں سے
ہر چیز منوّرہے!!!
وہ لفظ مکمل ہے
وہ لفظ محمدﷺ ہے
جدیدمحققین نے اسلامی معاشرے میں ابلاغ کے جواہم مقاصد ، حدود اور آداب بیان کئے ہیں ان کے مطابق میڈیا کی جو تصویر ابھرتی ہے وہ ایک ایسا ذمہ دار ادارہ ہے جو احترام انسانیت کی تلقین، آزادی وذمہ داری کے اشتراک کے واضح تصور، معاشرے میں مثبت باتوں کے فروغ ، عریانی اورفحاشی کے انسداد اورسدباب، حق اور انصاف کی ادائیگی، ترویج اور رسائی میں معاونت ، معاشرتی اتحاد و تنظیم کے قیام، صحت اورصفائی کی ترغیب، عوامی تعلیم اور تربیت کے اقدامات، اظہارخیال میں شائستگی اوربرداشت کی ترویج، تحریف، غلط بیانی اور پراپیگنڈہ کی ممانعت اورحوصلہ شکنی ، نفرت انگیزی و دل آزاری سے گریز کی تربیت، لوگوں کے نجی معمولات میں تجسس اوردخل اندازی سے گریز کے رویے، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی نگہداشت اوررائے عامہ کی ہمواری، صالح اورپرامن معاشرےکے قیام میں ریاست اور حکومت کی معاونت ، امت مسلمہ میں اخوت اوریکجہتی کےقیام، بین الاقوامی معمولات میں مثبت،تعمیری اورصلح جوئیانہ موقف کےاظہاراورترویج اور عوام کو مثبت اور تعمیری تفریح کی فراہمی جیسے انتہائی اہم فرا ئض سے عبارت ہے۔
17۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ذرائع ابلاغ جدید معاشرے اورتہذیب کا ایک جزولاینفک ہیں۔ یہ بھی ایک بدیہی حقیقت کہ ذرائع ابلاغ کسی بھی معاشرےکے اجتماعی مزاج کوبنانےاوربگاڑنےمیں اہم کردارادا کرتےہیں۔ موجودہ دورمیں ذرائع ابلاغ نے انسانی زندگی کے ہرشعبے کو متاثرکیا ہے اور اب ان کی حیثیت معاشرے کے ایک لازمی جزواور اہم ترجمان کی ہے۔ پرنٹ، الیکٹرانک اورسوشل میڈیا نہ صرف قومی اوربین الاقوامی پالسییوںکے اظہار اورتعارف کا ایک اہم ذریعہ ہے بلکہ اب تو ان کی قبولیت اورعدم قبولیت کے حوالے سے ایک اہم عنصر تصورکیاجاتاہے۔ اس لیے کوئی ملک اورقوم ذرائع ابلاغ کے درست اور ذمہ دارانہ استعمال کے عصر حاضر کے اہم چیلنج سے صرف نظر نہیں کرسکتی۔ بدقسمتی سے پاکستان میں میڈیا کے مثبت ، ذمہ دارانہ اور قومی خواہشات کے ہم آہنگ استعمال کے حوالےسے کوئی واضح اورمناسب قانون سازی موجود نہ ہے۔ میڈیا کو دستورپاکستان میں دی گئی ہدایات اور ایک اسلامی معاشرے کی ضروریات ،جوکہ دستورمیں واضح طورپربیان کی گئی ہیں۔ سے ہم آہنگ کرنے میں شدیدغفلت،لاپروائی اور غیرذمہ داری کامظاہرہ کیا گیاہے۔یہاں یہ امر واضح کرنا ضروری ہے کہ عدالت عظمیٰ کی بھرپور کاوش اور احکامات کی روشنی میں 2005 میں الیکٹرانک میڈیا کےلیے ایک ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا، لیکن بد قسمتی سے چینلز کے مالکان مالی منفعت اور درجہ بندی کی دوڑ میں نہ آ ئینی حدود کی پابندی کرتے ہیں اور نہ ضابطہ اخلاق کو ہی خاطر میں لاتے ہیں پیمرا عملی طور پر بے بس نظر آتا ہے چونکہ اُس کی جانب سے تمام سنجیدہ اور پر عزم کاوشیں غیر مؤثر کر دی جاتی ہیں لیکن سوشل میڈیا پر بے حیائی کا ایک سیلاب ہے جس کے آگے آئین میں دی گئی حدود کے مطابق بندباندھنے کےلیے حکومتی سطح پر مناسب اقدامات نہ کئے گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مقدس شخصیات کی توہین کاسلسلہ اپنے عروج پر ہے اور دشمنانِ پاکستان واسلام اس ذریعہ ابلاغ کو اپنے مذموم مقاصدکےلیے استعمال کررہےہیں۔ یہ عدالت سمجھتی ہے کہ ذرائع ابلاغ کی بنیادی ذمہ داری قوم کے اخلاق وکردار کی اصلاح ہے، ملک کے تعمیروترقی اور دستورپاکستان میں متعین کی گئی منزل کی طرف پیش قدمی اس کااہم فریضہ ہے۔ ملک کے ذرائع ابلاغ دستور پاکستان میں دی گئی عوامی خواہشات اور امنگوں کے نہ صرف ترجمان ہونے چاہئیں بلکہ اس مملکت کے نظریہ اورمقصد کے تابع ہونے چاہئیں۔ ذرائع ابلاغ ملک و قوم کےلیے ایک امین کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اورامانت کی ذمہ داریوں کو ملحوظ رکھنا ذرائع ابلاغ کا اہم قومی و دستوری فریضہ ہے۔ دستورپاکستان کے مطابق پاکستانی معاشرےمیں فرد، ریاست اور اداروں کاسرچشمہ ہدایت قرآن وسنت ہیں اوروہی ان کے حقوق و فرائض،مقاصد ونصب العین اورلائحہ عمل کاتعین کرتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کا کردار ان رہنماء اخلاقی اقدار اور اصولوں کا پابند ہونا چاہیے جو فرد، ریاست اور ہر دوسرے ادارے پرعائدکی گئی ہیں جس طرح ایک فرد قومی سلامتی کی حفاظت کا ذمہ دار ہے بالکل اسی طرح ذرائع ابلاغ بھی قومی سلامتی کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ جس طرح فحاشی کوفروغ دینا ایک فرد کےلیے ممنوع ہے اسی طرح ذرائع ابلاغ کےلیے بھی ممنوع ہے۔ جس طرح مقدس ہستیوں کے ناموس کی حفاظت ہرشہری کافرض ہے اسی طرح ذرائع ابلاغ اوران کے ذمہ داران بھی ان مقدس ہستیوں کی ناموس کی حفاظت کے پابند ہیں۔ اوراگر ریاست کاکوئی ذمہ دار فرد یاکوئی ادارہ ایسے کسی غیرقانونی فعل کے ارتکاب یا اس کے فروغ پر چشم پوشی کے جرم کامرتکب ہوگا تویقیناً قانون اور پاکستان کے عوام کے سامنے جوابدہ ہوگا۔ دستورپاکستان نے تحفظ جان ،مال، آبرو، نجی اورشخصی آزادی کے تحفظ اور اسی نوعیت کے دوسرے امور میں جوحقوق فرائض کادائرہ متعین کردیاہے اس کااحترام فرد ،ریاست اور ذرائع ابلاغ پرلازم ہے۔ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اظہار رائے کی آزادی کامحتاط اور ذمہ دارانہ استعمال دستور کا لازمی تقاضاہے۔ اوراس ضمن میں ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ بلاتحقیق وآگاہی خبر کی نشرواشاعت سے اجتناب کریں، درست اورصحیح معلومات کا ابلاغ کریں۔ معلومات میں اگرصداقت اورثقاہت کے عناصرموجود نہیں ہیں تووہ فریب کاری ہے۔ احترام انسانیت وتکریم آدمیت کا مکمل پاس اورلحاظ رکھاجائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج ملک سے منافرت ، انتہاپسندی، بدامنی اورلاقانونیت کے خاتمے کےلیے ذرائع ابلاغ اپنا ذمہ دارانہ کردارادا کریں اور پیغام امن اور احترام انسانیت کے تصورات کو عام کریں۔ ذرائع ابلاغ کواجازت نہیں دی جاسکتی ہے کہ وہ انسانوں کی آزادئ ضمیراور عزت نفس کومجروح کرنے کا انتظام کریں۔ معاشرے کے تمام افراد کی نجی زندگی کاتحفظ معاشرے اورریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تفتیشی صحافت کے نام پر شہریوں کے معمولات کی جاسوسی یا بلیک میلنگ تحفظ زندگی کے دستوری تقاضے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ابلاغ کے لیے حکمت ودانش ،سلیقہ مندومہذب اورباوقار اسلوب اختیار کیاجائے جس میں اظہار خیال میں شائستگی اوراخلاقی اقدار کے تحفظ کی جھلک نظرآئے۔آئین کی دفعہ 19 میں شہریوں کا تقریر اور اظہارِ رائے کا حق تسلیم کیا گیا ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پریس آزاد ہو گا۔ لیکن اس بنیادی حق کو اسلام کی عظمت ( Glory of Islam) کی خاطر عائد کردہ معقول قانونی بندشوں کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے ۔سپریم اپلیٹ کورٹ(گلگت بلتستان) کے فل بنچ فیصلہ بابت سوموٹو کیس نمبر 2010/5 میں فاضل چیف جسٹس جناب محمدنواز عباسی نے آزادی اظہار کی حدود کی وضاحت کرتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ:
ترجمہ: "لیکن خلاف اسلام افکارکا اس نکتہ نظر سے پراپیگنڈا کے اس کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچےیا نبی کریم ﷺکےبارے میں توہین آمیز تحریری یا زبانی گفتگو یا توہین کے حق میں بیان بازی یا نبی کریم ﷺ کے تقدس کی حفاظت کی غرض سے بنائے گئےقانون توہین رسالت کے بارے میں نازیبا گفتگو قانونی طور پر ممنو ع ہے اور اخلاقی تعلیمات کے منافی بھی ہے لہٰذا ان معاملات پر قابل اعتراض مواد کی اشاعت یقینی طور پر آزادی اظہار کے حق میں ہرگز شامل نہیں ہے اور ایسے موا د کی اشاعت میں بالواسطہ یا بلا واسطہ ملوث شخص یا کسی بھی طور پر اس کی مدد کرنے والا توہین رسالت کے جرم کا مرتکب ٹھہر سکتاہے۔ اور ایسا شخص ہتک عزت کی کارروائی کے ساتھ تو ہین رسالت کے جرم میں سزاوارہو گا ۔
۳۸۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور دستور پاکستان کی رو سے اسلام کی تعلیما ت کے خلاف کوئی قانون سازی نہ ہو سکتی ہے لہٰذا توہین رسالت کے قانون پر انگشت نمائی سختی سے قابل مذمت ہے ۔"
"…….but propaganda of anti Islamic thoughts with a view to cause injury to the feelings of a Muslim sect or any slander made in writing of in spoken words insultive to the Holy Prophets or to be critical with use of derogatory language in respect of the religious thoughts or to speak in favor of blasphemy or against the law of blasphemy in insultive manner to the honour of last Holy Prophet Muhammad (PBUH) is prohibited by law and also by code of moral conduct. Therefore, publication of objectionable material on the above matters is certainly beyond the right of free expressin and the person responsible for such publication directly or indirectly and also a person who in any manner acts in aid of such activity may be guilty of offence of Blasphemy and is equally liable for prosecution under the law of Blasphemy in addition to the prosecution for libel and defamation.
38. Pakistan is a Muslim State and under the Constitution of Pakistan no law against the spirit of injunction of Islam can be made therefore and action criticizing Blasphemy law is rigidly condemnable.
پریس کی آزادی کو اسلام کی خاطر معقول قانونی پابندیوں کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے۔انسانی حقوق کا عالمی منشور جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۰دسمبر ۱۹۴۸ کو منظور کیا، میں بھی آزادیوں اورحقوق کے ضمن میں ایسی حدود کاتعین کیاگیا ہے جودوسروں کی آزادی اورحقوق کو تسلیم کرنے، ان کے احترام کرنےیا جمہوری نظام میں اخلاق، امن عامہ اورعام فلاح وبہبود کے مناسب لوازمات سے مقید ہے۔انسانی حقوق کے عالمی منشور کی منظور ی کے تاریخی کارنامے کے بعد جنرل اسمبلی نے تمام ممبر ممالک پر یہ زوردیا کہ وہ بھی اپنے اپنے ہاں اس کااعلان عام کریں، اشاعت کریں، نمایاں مقامات پر آویزاں کریں، اورا سکولوں وتعلیمی اداروں میں اس منشورکو پڑھائیں اورسمجھائیں۔اس منشور کی دفعات ۲۹ و۳۰ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
دفعہ ۲۹: (۱) ہرشخص پرمعاشرے کے حقوق ہیں کیونکہ معاشرے میں رہ کر ہی اسکی شخصیت کی آزادانہ اورپوری نشوونماممکن ہے۔
(۲) اپنی آزادیوں اورحقوق سے فائدہ اٹھانے میں ہرشخص ایسی حدود کا پابندہوگا جو دوسروں کی آزادیوں اورحقوق کوتسلیم کرانے اوران کااحترام کرانے کی غرض سے یا جمہوری نظام میں اخلاق، امن عامہ اور عام فلاح وبہبودکے مناسب لوازمات کو پورا کرنے کے لیے قانون کی طرف سے عائد کئے گئے ہیں۔
(۳) یہ حقوق اورآزادیاں کسی حالت میں بھی اقوام متحدہ کے مقاصد اوراصول کے خلاف عمل میں نہیں لائی جاسکتیں۔
دفعہ ۳۰: اس اعلان کی کسی چیز سے کوئی ایسی بات مرادنہیں لی جاسکتی جس سے ملک ،گروہ، یاشخص کوکسی ایسی سرگرمی میں مصروف ہے یا کسی ایسے کام کوانجام دینے کاحق پیدا ہو جس کامنشا ان حقوق اورآزادیوں کی تخریب ہو، جویہاں پیش کی گئی ہیں۔
اسی طرح اقوام متحدہ کے ‘‘بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری وسیاسی حقوق’’ (International Covenant for Civil and Political Rights) کی دفعات ۱۸،۱۹ اور ۲۰ میں سوچ وفکرکی آزادی ، اظہاررائے وبیان کی آزادی ، مہذب وعقیدے کی آزادی کے بیان میں مستقل دفعات کے ذریعے اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ تمام آزادیاں اورحقوق قانون میں عائد پابندیوں ،امن عامہ، صحت، اخلاقیات اوردوسروں کے بنیادی حقوق اورآزادیوں کے احترام کے لحاظ سے مشروط ہیں۔دفعات درج ذیل ہیں:
دفعہ ۱۸:
۱۔ ہر شخص کو فکر، اخلاقی شعور اور مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہوگا۔ اس حق میں اپنی پسند کے کسی مذہب یا عقیدے کو رکھنے یااختیار کرنے کی آزادی بھی شامل ہوگی۔اور یہ آزادی بھی کہ وہ انفرادی یا اجتماعی طور پرعوامی یا نجی سطح پر اپنے مذہب یا عقیدے کا اظہار عبادت ، بندگی ، عمل اور تعلیم کے ذریعے کر سکے۔
۲۔ کسی شخص پر ایسا جبر نہیں کیا جاسکے گاجس کے تحت اُس کی مرضی ومنشاء کے مذہب وعقیدے کو رکھنے یا اختیار کرنے کی آزادی کو مجروح کیا جاسکے۔
۳۔ کسی کو اپنے مذہب یا عقیدے کے اظہار کی آزادی پر صرف وہی قیود عائد کی جاسکتی ہیں۔ جو کہ قانون میں عائد کی ہوںاور تحفظ عامہ کی حفاظت ، نظم، صحت یااخلاقیات یا بنیادی حقوق یا دوسروں کی آزادیوں سے متعلق ہوں۔
۴۔ معاہدہ ہذا میں شامل ریاستیں یہ ضمانت دیتی ہیں کہ والدین کی آزادی کا احترام کیا جائے گااور جہاں لاگو ہو، قانونی ولی کی، کہ وہ اپنے بچوں کی مذہبی اور اخلاقی تعلیم اپنے رجحانات کے مطابق کر سکیں۔
Article 18
1. Everyone shall have the right to freedom of thought, conscience and religion. This right shall include freedom to have or to adopt a religion or belief of his choice, and freedom, either individually or in community with others and in public or private, to manifest his religion or belief in worship, observance, practice and teaching.
2. No one shall be subject to coercion which would impair his freedom to have or to adopt a religion or belief of his choice.
3. Freedom to manifest one's religion or beliefs may be subject only to such limitations as are prescribed by law and are necessary to protect public safety, order, health, or morals or the fundamental rights and freedoms of others.
4. The States Parties to the present Covenant undertake to have respect for the liberty of parents and, when applicable, legal guardians to ensure the religious and moral education of their children in conformity with their own convictions.
دفعہ ۱۹:
۱۔ ہر کسی کو رائے رکھنے کی بلامداخلت آزادی حاصل ہو گی۔
۲۔ ہر کسی کو اظہار کی آزادی حاصل ہوگی اور اظہار کی آزادی میں معلومات اور ہر قسم کے خیالات کی تلاش ، حصول اور فراہمی کی آزادی، جغرافیائی حدود سے ماورأ، زبانی یا تحریری یا مطبوعہ آرٹ کی صورت میں یا کسی دیگر ذریعہ سے جو کہ اُس کی پسند ہو، شامل ہے۔
۳۔ فقرہ نمبر ۲مذکورہ بالا میں واضح کردہ حقوق کے استعمال کے ساتھ خاص ذمہ داریاں اور فرائض منسلک ہیں، یہ حقوق مخصوص قدغن کے ساتھ مشروط ہو سکتے ہیں لیکن قدغن وہی ہو گی جو قانون میں واضح کی گئی ہو اور ضروری ہو، جو کہ
(الف ) دوسروں کے حقوق کے احترام اور اُن کی معاشرتی ساکھ سے متعلق ہوں۔
(ب) قومی سلامتی کے تحفظ یا امن عامہ یا صحت عامہ یا اخلاقیات سے متعلق ہوں۔
Article 19
1. Everyone shall have the right to hold opinions without interference.
2. Everyone shall have the right to freedom of expression; this right shall include freedom to seek, receive and impart information and ideas of all kinds, regardless of frontiers, either orally, in writing or in print, in the form of art, or through any other media of his choice.
3. The exercise of the rights provided for in paragraph 2 of this article carries with it special duties and responsibilities. It may therefore be subject to certain restrictions, but these shall only be such as are provided by law and are necessary:
(a) For respect of the rights or reputations of others;
(b) For the protection of national security or of public order (ordre public), or of public health or morals.
دفعہ ۲۰:
۱۔ جنگ کےلیے پروپیگنڈہ پر قانونی پابندی عائد کی جائے گی۔
۲۔ قومی ، نسلی یا مذہبی نفرت کی حمایت، جو کہ امتیاز، دشمنی اور تشدد کی جانب ابھارے، پر قانونی پابندی عائد کی جائے۔
Article 20
1. Any propaganda for war shall be prohibited by law.
2. Any advocacy of national, racial or religious hatred that constitutes incitement to discrimination, hostility or violence shall be prohibited by law.
یہاں یہ واضح کرناضروری ہے کہ آزادی اظہار اورتقریرپرمناسب اورجائزقدغن صرف پاکستان کے دستورکاخاصہ نہیں بلکہ دنیا کے سیکولرممالک میں بھی آزادی اظہار وتقریرکو مناسب قانونی حدود وقیودکے ساتھ مشروط کیاگیا ہے۔ یورپ کے اکثرممالک میں حق اظہاروتقریر کومتعددپابندیوںکے ساتھ قبول کیاگیا ہے۔ حتیٰ کہ ‘‘یورپی کنونشن برائے تحفظ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیاں’’ جوکہ تقریباً پورے یورپ پر نافذ ہے، کی دفعہ ۱۰ میں یہ قراردیاگیا ہے کہ :
دفعہ ۱۰
۱۔ ہر کسی کو آزادی اظہار کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں رائے کی آزادی کا حق اور معلومات اور خیالات کی بلاروک ٹوک حصول اور فراہمی قطعۂ نظر جغرافیائی حدود شامل ہو گی۔یہ دفعہ ریاستوں پر یہ قدغن عائد نہیں کرتی کہ وہ براڈکاسٹنگ، ٹی وی یا سینماجیسے تجارتی اداروں سے لائسنس کے حصول کی شرائط عائد کریں۔
۲۔ اِن آزادیوں کا استعمال چونکہ فرائض اور ذمہ داریوں سے منسلک ہے۔لہٰذا اِن آزادیوں کے استعمال پر قانون کے مطابق ایسی شرائط ، ضوابط، قدغن یا سزائیں عائد کی جاسکتی ہیں جو جمہوری معاشرے، قومی سلامتی کے مفاد، یکجہتی اور حفاظت عوام کی ضرورت ہوں تاکہ نقص امن، جرم کی روک تھام، صحت کی حفاظت، اخلاق کی حفاظت، دوسروں کی شہرت کی حفاظت اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت اور خفیہ معلومات اور عدلیہ کے قانونی اختیار کے قیام اور غیرجانبداری سے متعلقہ ہوں۔
ARTICLE 10
Freedom of expression:
1. Everyone has the right to freedom of expression. This right shall include freedom to hold opinions and to receive and impart information and ideas without interference by public authority and regardless of frontiers. This Article shall not prevent States from requiring the licensing of broadcasting, television or cinema enterprises.
2. The exercise of these freedoms, since it carries with it duties and responsibilities, may be subject to such formalities, conditions, restrictions or penalties as are prescribed by law and are necessary in a democratic society, in the interests of national security, territorial integrity or public safety, for the prevention of disorder or crime, for the protection of health or morals, for the protection of the reputation or rights of others, for preventing the disclosure of information received in confidence, or for maintaining the authority and impartiality of the judiciary.
ڈنمارک جہاں سے حالیہ عرصہ میں گستاخانہ خاکوں کا آغاز ہوا، بھی اس کنونشن کاحصہ ہے، ڈنمارک نے ۱۹۵۳ میں اس کنونشن کی تصدیق کی اور اب وہ ڈنمارک کے دستور وقانون کا لازمی جزو ہے۔ڈنمارک کے کریمنل کوڈ کی دفعہ ۱۴۰ میں دوسروں کے مذہبی جذبات کی توہین وتضحیک کو جرم تصور کرتے ہوئے یہ قرار دیاگیا ہے کہ :
“Those who publicly mock or insult the doctrines of worship of any religious community that is legal in this county, will be punished by a fine or incarceration for upto four months”
اسی طرح کریمنل کوڈکے آرٹیکل ۲۶۶بی میں یہ قرار دیاگیاہے کہ :
“Any person who publicly or with intention of dissemination to wide circle of people makes a statement or imparts other information threatening, insulting or degrading a group of persons on account of their race, colour, national or ethnic origin, belief or sexual orientation, shall be liable to a fine, simple detention or imprisonment for a term not exceeding two years.”
فرانسیسی انقلاب کا مشہورزمانہ ‘‘حقوق کا اعلامیہ’’ جوکہ بعد ازاں بہت سے ممالک کے دساتیر کےلیے رہنمائی کاذریعہ بنا، میں بھی یہ واضح طورپرقراردیاگیا ہے:
“The free communication of ideas and opinion is one of the most precious of the rights of man. Every citizen may, accordingly, speak, write, and print with freedom, but shall be responsible for such abuses of this freedom as shall be defined by law.”
ناروے کے دستور کی دفعہ ۱۰۰ میں یہ واضح طورپراعلان کیاگیا ہے کہ :
“There shall be liberty of the Press. No person may be punished for any writing, whatever its contents, which he has caused to be printed or published, unless he will fully and manifestly has either himself shown or incited others to disobedience to the laws, contempt of religion, morality or the constitutional powers or resistance to their orders of has made false and defamatory accusations against anyone.”
اس حوالے سے جرمنی کاقانون بھی بہت واضح ہے، ضابطہ تعزیرات جرمنی کے گیارویں باب بعنوان ‘‘جرائم جو مذہب اورفلسفہ زندگی سے متعلق ہیں ’’ کی دفعہ ۱۶۶ میں یہ جرم قرار دیاگیا ہے کہ :
“(1)Whoever publicly or through dissemination of writings (Section 11 sub-section (3) insults the content of others, religious faith or faith related to a philosophy of life in a manner that is capable of disturbing the public peace, shall be punished with imprisonment for not more than three years or fine.
(2) Whoever publicly or through dissemination of writings (Section 11 subsection (3) insults a church, other religious society, or organization dedicated to a philosophy of life located in Germany, or their institutions or customs in a manner that is capable of disturbing the public peace, shall be similarly punished.”
(جاری ہے)