| |
Home Page
پیر22 ربیع الاوّل 1439ھ 11 دسمبر2017ء
October 12, 2017 | 12:00 am
اثاثے چھپانے کا کیس ہے، جہانگیرترین کے گوشواروں میں تضاد،جائزہ لینا ہوگا، سپریم کورٹ

Todays Print

اثاثے چھپانے کا کیس ہے، جہانگیرترین کے گوشواروں میں تضاد،جائزہ لینا ہوگا، سپریم کورٹ

اسلام آباد(نمائندہ جنگ،صباح نیوز) پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کی عوامی عہدہ کے لئے نااہلیت سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ اثاثے چھپانے کا کیس ہے، جہانگیرترین کے الیکشن کمیشن اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے گوشواروں میں تضاد ہے ،جائزہ لینا ہوگا،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود نہیں کیا جاسکتا،معاملہ کسی اور جگہ زیر التوا ہے تو بھی عدالت کو غور سے نہیں روکا جاسکتا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منگل کے روز کیس کی سماعت کی تو مسول علیہ جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیرمہمند نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پنجاب کے زرعی ٹیکس کے قانون میں ابہام ہے،جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی ابھی قانون کو مختلف زاویوں سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، فاضل وکیل نے کہا کہ زرعی ٹیکس کی ایک شق کے مطابق لیز کی زمین پر ٹیکس مالک ادا کرے گا، پنجاب کی نسبت سندھ کا زرعی ٹیکس کا قانون زیادہ واضح ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ زرعی ٹیکس قانون کے اطلاق پر ابھی تک وضاحت نہیں ہوئی ہے ،زرعی ٹیکس کے اطلاق پر کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے،جس پر فاضل وکیل نے کہا کہ مجموعی زرعی آمدن اور آمدن میں فرق ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ زرعی آمدن میں لیز پر لی گئی زمین کی آمدن بھی شامل ہوتی ہے،سکندر مہمند نے جواب دیا کہ لیز پر لی گئی زمین کا ٹیکس مالک بھی ادا کررہا ہوتا ہے، لیز کی زمین پر کاشتکاری کرنے والا کیسے ٹیکس دے سکتا ہے، ایک زمین پر دو مرتبہ ٹیکس ادا نہیں ہوسکتا ہے ،جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ مالک کو ٹیکس اراضی پر دینا ہوتا ہے کاشتکاری پر نہیں، فاضل وکیل نے کہا کہ ٹیکس کامعاملہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہے، عدالت کا اس نکتے پر فیصلہ نچلی عدالت میں زیر التوا مقدمات پر اثرانداز ہوگا، جس پرچیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ کیا آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت سپریم کورٹ زیرالتوا مقدمات کے قانون کی تشریح نہیں کرسکتی ہے؟ فاضل وکیل نے کہا کہ پاناما کیس کے فیصلے میں بھی عدالت نے قرار دیا تھا ہم ٹیکس اتھارٹی نہیں ہیں لیکن اس کیس میں عدالت میرے موکل کے ٹیکس کے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ٹیکس حکام نے تصدیق نہیں کرائی کہ لیز زمین مالکان سے لی گئی یا نہیں،سکندر مہمند نے کہا کہ متعلقہ فورمز کے بعد اپیل سپریم کورٹ ہی آتی ہے، عدالت ٹیکس آڈٹ معاملے کا جائزہ ابھی نہ لے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ہائیکورٹ سے اپیل سپریم کورٹ بھی منگواسکتی ہے،سکندر مہمند نے کہا کہ عدالت کیس منگوانے کے لیے نوٹس جاری کرے، ہم اس پر جواب دیں گے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن اور ایف بی آر میں زرعی انکم میں فرق کیوں ہے؟ تو فاضل وکیل نے کہا کہ ٹیکس حکام نے ان کے موکل کی زرعی آمدن کو درست قرار دیا ہے،جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ عدالت آپ کے موکل کی عوامی عہدہ کے لئے نااہلیت کا مقدمہ سن رہی ہے، جس میں عدالت کو جہانگیر ترین کے ڈیکلریشن کا جائزہ لینا ہے، درخواست گزار کی جانب سے آپ کے موکل کی آمدن میں فرق اورلیز زمین ظاہرنہ کرنے پر ان کی نااہلی مانگی گئی ہے، سکندر مہمند نے کہا کہ لیزکی زمینداری آمدن ٹیکس گوشواروں میں ظاہرکی گئی ہے ،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم ٹیکس نہیں، آمدن ظاہرنہ کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں، جس پر فاضل وکیل نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ ٹیکس گوشوارے جمع کرائے گئے تھے، انتخابی فارم میں لیز زمین ظاہر کرنے کا کالم ہی نہیں ہے، اس میں صرف ملکیتی زمین کا کالم ہے، گوشواروں میں کوئی غلط بیانی نہیں کی گئی ہے، فارم میں کالم کا نہ ہونا ان کے موکل کی غلطی نہیں ہے،جس پر جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ فارم میں کرائے پر لئے گئے گھر کا بھی کالم نہیں ہوتا ہے۔