| |
Home Page
بدھ 27 محرم الحرام 1439ھ 18 اکتوبر 2017ء
محمد فاروق چوہان
October 13, 2017 | 12:00 am
سی پیک منصوبہ اور امریکی ایجنڈا؟

Cpec Mansooba Or Ameriki Agenda

پاکستان کیخلاف نئی امریکی انتظامیہ کاگھنائونا چہرہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔بھارت کو خوش کرنے کیلئے اب امریکہ بھی سی پیک کی مخالفت پرکھلم کھلا اترآیاہے ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے یہ شوشہ چھوڑا ہے کہ چونکہ یہ شاہراہ متنازع علاقے سے گزرتی ہے اس لئے امریکہ پاک چین اکنامک کاریڈور کی مخالفت کرے گا۔امریکی وزیر دفاع کایہ کہنا درست نہیں ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری متنازع علاقہ سے گزرتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جس علاقے کو ایشو بناکر امریکہ مخالفت کررہا ہے وہ علاقہ آزادی کے دن سے پاکستان کا حصہ ہے۔اگرچہ چین اور پاکستان کے حکام نے سی پیک کے خلاف امریکی وزیر دفاع کے بیان کو یکسر مستردکردیا ہے اور دونوں ملکوں نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ یہ معاشی تعاون کاعلاقائی منصوبہ ہے جوکسی تیسرے فریق کے خلاف نہیںاور نہ ہی اس منصوبے کاکسی علاقائی تنازع سے کوئی تعلق ہے۔امریکی مخالفت بلاجوازہے۔چینی وزارت خارجہ کایہ بھی کہنا ہے کہ ون روڈ ون بیلٹ منصوبے کواقوام متحدہ کی تائید حاصل ہے۔یادش بخیر! چین میں منعقدہ ون روڈون بیلٹ کے حوالے سے عالمی کانفرنس میں 130ممالک نے شرکت کی تھی اور70سے زائد ملکوں نے اس ضمن میں طے شدہ معاہدے پردستخط بھی کیے تھے۔ امریکی حکام کو زمینی حقائق کوہرگز نہیں جھٹلانا چاہئے۔در اصل سی پیک پاکستان اور خطے کے ممالک کی ترقی کا اہم منصوبہ ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت نے اس منصوبے کے آغازسے ہی مخالفانہ ردعمل دینا شروع کردیا تھا۔ اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے امریکی وزیردفاع درحقیقت ہندوستان کی زبان بول رہے ہیں۔یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کسی ملک یا قوم کے خلاف نہیں بلکہ یہ پاکستان اورخطے کے عوام کی خوشحالی کامنصوبہ ہے جسے ہر صورت مکمل ہونا چاہئے۔امریکہ کومتنازعہ علاقے کی اتنی ہی فکر ہے تو مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کروائے اور4کروڑ کشمیریوں کو انکا حق خود ارادیت دیا جائے۔ پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت ناقابل برداشت ہے۔
طرفہ تماشایہ ہے کہ چندروزقبل امریکی چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ کا پاکستان مخالف بیان بھی منظر عام پر آیاتھا جس میں یہ بے بنیادالزام تراشی کی گئی تھی پاکستانی خفیہ ایجنسی کے دہشتگردوں سے تعلقات ہیں۔مزیدبرآں امریکہ نے پاکستان کو نان نیٹواتحادی کادرجہ ختم کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ امرواقعہ یہ ہے کہ امریکہ خود دہشتگردوں کا سب سے بڑاسپورٹرملک ہے۔پاکستان،افغانستان اور عرا ق میں امریکہ نے پندرہ لاکھ مسلمانوں کو لقمہ اجل بنا دیا۔ نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکی دہشتگردی کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ہمارے60ہزار سے زائد پاکستانی شہید اور سواسوارب ڈالر کامعاشی نقصان ہوا جبکہ بدلے میں امریکہ کی طرف سے ڈومو ر کامطالبہ کیا جاتا ہے۔تاریخ نے ثابت کردیا ہے کہ امریکہ کسی کے ساتھ مخلص نہیں۔وہ اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی کو تشکیل دیتا ہے۔وقت اور حالات کا ناگزیر تقاضا یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت ایسی پالیسیاں مرتب کرے جو حقیقی معنوں میں 20کروڑ عوام کے جذبات کی ترجمان ہوں۔ ہمیں چین،ترکی،سعودیہ عرب اور ایران کے ساتھ مل کر خطے کی سلامتی کیلئے ہنگامی اقدامات کرنے چاہئیں۔جنوبی ایشیا میں بھارت، امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ دہشتگردی کو پروان چڑھا نے میں بنیادی کردار اداکررہا ہے۔خطے میںامریکی کردار کے دہرے معیار کھل کر سامنے آچکے ہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ70برسوں سے پاکستان پر امریکی غلامی کادم بھرنے والے حکمران قابض ہیں۔محب وطن قیادت کے فقدان نے اس نہج پر پہنچادیا ہے کہ برادر اسلامی ہمسایہ ممالک میں بھی پاکستان کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی خطرے میں ہے۔ملک دشمن بیرونی قوتوں کی تمام سازشوں کو بے نقاب کرناہوگا۔ملکی خودمختاری،عزت ووقار اور خودداری کیلئے لازمی ہے کہ قومی مفاد کوملحوظ خاطررکھ کرخارجہ پالیسی کوازسرنومرتب کیاجائے۔خطے میں امریکہ کی سرپرستی میں ہندوستان کا افغانستان میں کردار بڑھانے کافیصلہ تشویش ناک اور لمحہ فکریہ ہے۔ہندوستان اور امریکہ آپس میں گٹھ جوڑ کرکے افغانستان میں اپنااثرورسوخ بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ پاکستان اورچین کی نقل وحمل پر نظررکھ سکیں۔ملک دشمن بیرونی قوتوں کی تازہ سازش پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت دفاعی امور کے حوالے سے ان سازشوں کے سد باب کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے جنوبی ایشیائی خطے کیلئے خوشحالی کاپیغام لے کر آئے گا۔لوگوں کو روزگار میسر آئے گا اور تجارتی اشیاء کی سستے داموں یورپ کی منڈیوں تک رسائی ملے گی۔بھارت اس کے خلاف سازشیں کرنے کی بجائے خطے کی ترقی کیلئے مثبت کردار اداکرے۔پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور یہاں بسنے والے افراد پُرامن طور پر تمام ہمسایوں کے ساتھ برابری کیساتھ تعلقات بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ نریندرمودی حکومت اپنی ہٹ دھرمی چھوڑے اورمقبوضہ کشمیرسمیت تمام حل طلب مسائل کاپائیدار حل نکالے،بھارت پاکستان کے وجود کوکھلے دل سے قبول کرے اور اس کے خلاف اوچھے ہتھکنڈوں کا سلسلہ فی الفور بندکرے۔ امریکہ جنوبی ایشیامیں جنگ کاماحول بنائے رکھنا چاہتاہے تاکہ وہ اپنا اسلحہ فروخت کرسکے۔ڈونلڈٹرمپ انتظامیہ صرف اپنے مفادات کی دوست ہے۔وہ دنیا میں امن قائم کرکے اپنی کھربوں ڈالر کمانے والی اسلحہ سازصنعت کوکیسے بند کرسکتی ہے؟۔عالمی امن کو سبوتاژ کرناامریکہ اوراس کے حواریوںکاواضح ایجنڈاہے۔ بھارت سی پیک بننے سے خوفزدہ ہے کیونکہ وہ جانتاہے کہ اگر پاک چین اقتصادی راہداری بن گئی تو مقبوضہ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی راہ ہموار ہوجائے گی۔اس لئے وہ چاہتاہے کہ سی پیک کامنصوبہ کسی بھی صورت مکمل نہ ہونے پائے۔گزشتہ دنوں نئی افغان پالیسی بھی اسی امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کانتیجہ دکھائی دے رہی ہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ نریندرمودی نے ڈونلڈٹرمپ کوبھی اپنے راستے پر لگالیاہے۔امریکی صدر ٹرمپ جب سے برسراقتدار آئے ہیں ان کا جھکائوواضح طور پر بھارت کی طرف ہے۔امریکی وزیردفاع جم میٹس کادورہ انڈیا اوراس کے بعد اب سی پیک کی مخالفت سے صاف نظر آتاہے کہ ہندوستان امریکہ کی اشیر باد پرجنوبی ایشیا کا امن تباہ کرنا چاہتاہے۔پاکستان کو کشمیرپر اپنے اصولی موقف قائم رہنا چاہئے۔ کیونکہ اگر ہماراجموں وکشمیر پرمقدمہ کمزور ہوا توانڈیااس سے فائدہ اٹھائے گا۔اُس نے ماضی میں بھی ہمیشہ چالاکی اور مکاری سے جموں وکشمیر کے اہم اور حساس مسئلے کو لٹکائے رکھا ہے۔ اب بھی وہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔جموں وکشمیر میں ہندوستانی فوج نہتے کشمیر یوں پر بدترین مظالم جاری رکھے ہوئے ہے۔ حیرت یہ ہے کہ عالمی برادری کو جموں وکشمیر میں بھارتی درندگی دکھائی نہیں دے رہی۔حکومت پاکستان کو مسئلہ کشمیرحل کرنے کیلئے سفارتی محاذ پر بھرپور متحرک ہونا ہوگا۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا بھی مسئلہ کشمیر کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پُرجوش انداز میں اجاگر کرنا خوش آئند ہے۔ اب حکومت پاکستان کو کشمیر کے دیرینہ مسئلے کے حل کیلئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ جموں وکشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے او آئی سی کو بھی فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔ انڈین آرمی چیف کی طرف سے سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی محض گیڈر بھبکی کے سواکچھ نہیں۔اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی جارحیت کرنے کا سوچا بھی تو اسے پاکستان کی بہادر فوج اور عوام کی جانب سے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اگر ہندوستان نے پاکستان کے خلاف سازشیں نہ بند کیں تو پھر یہ اس کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا ۔