| |
Home Page
بدھ 24 ربیع الاوّل 1439ھ 13 دسمبر2017ء
حناپرویز بٹ...ممبر صوبائی اسمبلی
October 13, 2017 | 12:00 am
شیئرنگ ا کانومی کی حقیقت ؟

Sharing Economy Ki Haqiqat

انٹرنیٹ کی وسعت کیا کیا معجزے برپا کررہی ہے یقین ہے کہ اگلے دس سالوں میںانسان کئی صدیوں کا سفر جھٹ سے ہی طے کرلے گا۔ دنیا میں نت نئےآن لائن کاروبار انتہائی سرعت سے ابھر رہے ہیں۔ سال2000 میں شیئرنگ اکانومی کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ یہ ٹرم نئی ہے لیکن معاملہ نئی بوتل پرانی شراب والا ہے۔ اس سے پہلے کہ اس کی دیگر تفصیلات رقم کروں ایک سچی کہانی پیش خدمت ہے۔ کہانی دو افراد کی ہے ایک برطانوی بزنس ٹائیکون ایلکس اسٹیفنی اور دوسرے پاکستانی مدثر شیخ کی۔ پہلے ایلکس ا سٹیفنی کی بات کرتے ہیں۔ وہ ابھی چالیس سال کا نہیں ہوا لیکن وہ شیئرنگ اکانومی کے حوالہ سے کامیابیوں کی زندہ مثال بن چکا ہے۔ اس کا ماننا ہےکہ علم کا حصول ایک مسلسل عمل ہے اسے جاری رکھو، تبدیلی کیلئے ہمہ وقت تیار رہو، مسلسل حالت سفر میں رہو ، لوگوں کو یکجا کرو، رزق کی فراوانی سوچ سے بالا تر ہوگی۔ پہلے اس نے انگریزی زبان کی تدریس کو اوڑھنا بچھونا بنایا لیکن 14 ماہ بعد ہی اسے ترک کر ڈالا۔ ڈھائی سال کی وکالت بھی اسے مزا نہ دے سکی۔ جولائی 2009 میں ایک اسٹارٹ اپ کمپنی میں ڈائریکٹر سیلز کی ذمہ داری اسے صرف 8 ماہ ہی روک پائی۔7 ماہ تک2010 میں ایک کمپنی میں مینجمنٹ کنسلٹنٹ کے طور پرخدمات سرانجام دیں لیکن لطف ندارد پایا۔2012 سےتین سال تک ایک کمپنی میں چیف ایگزیکٹو کے طورجو سیکھا اس نے اس کی راہ متعین کردی۔ اس دوران اس نے2010 میں بزنس شیئرنگ کے موضوع پر دو کتابیں پہلی رچل بوٹس مین کی جو میرا ہے وہ تمہارا ہے اوردوسری لیزا گین سکائی کی کتاب کاروبار کا مستقبل شیئرنگ کیوں ہے؟ پڑھیں اور2015میں اس نے شاندار کتاب بزنس آف شیئرنگ لکھ ڈالی۔ اسی سال برطانوی حکومت نےاپنے بجٹ میں شیئرنگ اکانومی کے ماڈل شامل کرڈالے تاکہ برطانیہ کو سرمایہ کاری اور کاروباری نشوونما کیلئے دنیا کی سب سے بہترین جگہ بنایا جاسکے۔2016 میں دنیا میں ابھی تک اس بزنس سے سالانہ 15 ارب ڈالر تک کمائے جارہے ہیں۔2016میں کی گئی پرائس واٹر ہائوس کوپرز کی ا سٹڈی کے مطابق 2025تک دنیا بھر میں اس بزنس سے کمائی کا اندازہ 3سو ارب ڈالر تک ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا شیئرنگ بزنس کوئی نیا کاروبار ہے؟ نہیں بالکل بھی نہیں۔ ایلکس کا کہنا ہے میں نے ایک برطانوی کمپنی میں چیف ایگزیکٹو کے طور پر کام کیا جس میں ہم جائیداد مالکان کی پارکنگ جگہوں کو آن لائن استعمال کرکے سالانہ کئی ملین پائونڈ کماتے رہے۔ آن لائن رہتے ہوئے ہم نے پانچ لاکھ ڈرائیورز کو سستے داموں پارکنگ کی سہولت فراہم کی۔ اب میں کئی کمپنیاں چلا رہا ہوں اور کئی کمپنیوں میں ایڈوائزر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ تین سالوں میں میری کمائی دس گنا اور ملازموں کی تعداد2 سے40 ہوگئی۔ اب میں ماہرین کی ٹیم کے ساتھ مل کر ایک بڑے اور پیچیدہ مسئلہ کےحل کیلئے کام کررہا ہوں۔ بیک وقت ایک نہیں بلکہ کئی کاروبار کرنے کیلئے ذہین اور جنونی نوجوانوں کی نشوونما کرنا میرا دل پسند مشغلہ ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ذاتی بھاری سرمایہ کاری کیے بغیرنہ صرف کاروبار کیا جائے بلکہ خود کار طریقہ سے پیسہ کمایا جائے جس کا سلسلہ کبھی نہ رکے۔کسی ایک نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں افراد کی ذہانت، پیسہ اور اشیا کو ایک دائرے میں لگا کر منافع کمایا جائے۔ معلومات کی منتقلی سے اربوں روپے ہمیشہ ہمیشہ کمائے جاسکتے ہیں جو صرف اربوں کھربوں میں نہیں بلکہ کمائی ناقابل یقین حد تک ہوسکتی ہے۔ کیا آپ کو یقین نہیں آرہا ہے؟ اگرچہ یہ کوئی نیا آئیڈیا نہیں لیکن انٹرنیٹ کی لامحدود وسعتوں نے اسے انتہائی پر کشش بنا ڈالا ہے۔ اس سے کسی کی ملکیتی شے کو استعمال میں لاکر منافع در منافع کمایا جاسکتا ہے۔ شیئرنگ اکانومی میں اب تک پانچ شعبوں سفر،کارشیئرنگ،فنانس، ملازمتوں کی فراہمی کیلئے خدمات کی فراہمی، سوشل میڈیا اور ڈیٹا کی منتقلی میں آن لائن کاروبار کئے جارہے ہیں۔ ورجن ریسرچ کے مطابق برطانیہ کی صرف 5فیصد آبادی شیئرنگ اکانومی سے واقف ہے۔2025 تک برطانیہ میں9 ارب پائونڈ ٹیکس شیئرنگ اکانومی سے اکٹھے کئے جائیں گے۔
برطانوی حکومت اس سیکٹر میں ہونے والی بڑھوتری سے فائدہ اٹھانے کیلئے تیاریاں کررہی ہے۔ اس ضمن میں اس نے انشورنس لیڈرز کو شیئرنگ اکانومی بزنس ماڈلز سے متوقع فوائد کا اندازہ لگانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ یہاں شیئرنگ اکانومی کی دو مثالیں پیش کی جارہی ہیں۔ایک امریکی موبائل ایپلی کیشن اوبر اور دوسری پاکستانی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کمپنی کریم ہے۔2008 میں دو دوستوں نے پیرس فون پر ٹیکسی منگوانے پر مبنی آئیڈیا سوچا اور اس اوبر کیب کی بنیاد2009 میں رکھی گئی جس کی قدر 17 ارب ڈالر تک جاپہنچی ہے۔اس نے اب پاکستان میں بھی اپنے آپریشن شروع کردئیے ہیں اب تک اوبر ایک ارب لوگوں کو ایک تعلق میں جوڑ چکی ہے اور اس کے اثاثوں کی تعداد ساڑھے چھ ارب ڈالر تک جاپہنچی ہے۔ پاکستانی مدثر شیخ نے 2012 میں دبئی میں ٹرانسپورٹیشن کمپنی کریم بنا ڈالی جو مڈل ایسٹ، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا کے53 شہروں میں کام کررہی ہے اب تک اس کمپنی کے اثاثوں کی مالیت1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہےاور مجموعی طور پر 42کروڑ ڈالر کما چکی ہے۔ پاکستانی کرکٹر وسیم اکرم بھی اس کے اہم افراد میں شامل ہیں۔ چین سمیت دنیا بھر کے ممالک اس کاروبار کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے وژن کے تحت چیئرمین ڈاکٹر عمر سیف کی سربراہی میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نہ صرف صوبہ پنجاب کے سرکاری محکموں کو آن لائن کرکے زبردست انقلاب برپا کر رہا ہےبلکہ پانچ سالوں میں270منصوبے بھی مکمل کرچکا ہے۔ پلان9منصوبہ کے تحت نوجوان اذہان کی کامیابی کیلئے 160اسٹارپ اپ گریجویٹ ہوچکے ہیں38 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوچکی ہے۔ اب تک مقامی طور پر کریم رکشہ اور کریم بائیک کے اسٹارٹ اپ شروع کئے گئے ہیںلیکن شیئرنگ اکانومی کے فروغ کیلئے تمام صوبوں اور وفاقی حکومت کو بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے۔