| |
Home Page
بدھ 27 محرم الحرام 1439ھ 18 اکتوبر 2017ء
علی معین نوازش
October 13, 2017 | 12:00 am
کو ئی ہے ایسا…………؟

Kohi Hai Aisa

19ویں صدی میں ہی لوگوں نے پرندوں کی طرح ہواؤں میں اڑنے کی کوشش شروع کردی تھی، حضرت انسان نے ابتدا میں مختلف اشیاء کی مدد سے بڑے بڑے پر بنائے اور اپنے جسموں کے ساتھ باندھ کر ہوائوں کو تسخیر کرنے کی کوشش کی لیکن یہ عارضی پر کبھی ہوا کو نہ برداشت کرسکے اور کبھی انسان ان بناوٹی پروں کا وزن نہ سہہ سکا، لیکن انسان نے ہمت نہ ہاری پھر وقت گزرتا گیا اور حضرت انسان نے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا اور دو امریکن بھائیوں جنہں ہم رائٹ برادرز(Wright Brothers)کے نام سے یاد کرتے ہیں اور ان میں سے ایک کا نام اورول(Orville)اور دوسرے کا نام ولبر(Wilbur)تھا اڑنے والی مشین بنانے والے یہ دونوں بھائی بائیسیکلز بیچنے کے ساتھ ساتھ پرنٹنگ اور پبلشنگ کا کام کرتے تھے ، لیکن اڑان بھرنے کے شوق نے انہیں ہوئی جہاز بنانے کی طرف موڑ دیا۔
لیکن بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ہوا میں اڑنے والی مشین بنانے کا سہرا ایک برازیلین کے سر ہے جو اپنے والدین کے ساتھ بچپن میں ہی فرانس شفٹ ہوگیا تھا اور اس نے وہاں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور اس شخص نے ایک ہاٹ ایئر بیلون بھی اڑایا تھا ، ہوائی مشین پہلے بنانے اور ہوائی جہاز کا موجد ہونے کے مختلف دعوے تاریخ دان کرتے ہیں لیکن میرا خیا ل ہے کہ آج سفر کو سمیٹ کردنیا کو قریب لانے میں سب نے اپنا کردار ادا کیا ہے ، اور اپنی کوششوں سے جہاںآج انسان دنیابھر میں گھومتا پھر رہاہے ،صبح وہ دنیا کے ایک کونے میں ہوتا ہے تو چند گھنٹوں میں ہی وہ ایک دوسری زبان بولنے ، ایک دوسرے کلچر اور ایک علیحدہ قانون رکھنے والے ملک میں محفوظ سفر کے ذریعے پہنچ چکا ہوتا ہے۔جہاز بن گئے ، آرام دہ سیٹوں سے مزین مسافر طیاروں نے فضائوں کو تسخیر کرنا شروع کردیا ، اکا دکا جہازوں کی جگہ ایئر لائنز بن گئیں، بڑے بڑے ایئرپورٹس تعمیر کردیئے گئے ، ہوابازی کے قوانین متعارف کرادیئے گئے ، اور اس چھوٹی سی اڑان کی خواہش اور پھر کامیابی نے انسان کو خلا اور چاند پر بھی پہنچا دیا، ان ابتدائی ایئر لائنز میں ہالینڈ کی کے ایل ایم ((KLM اورکولمبیا کی ایوانکا(AVIANCA)بھی 1919ء میں ،آسٹریلیا کی کنٹاس 1921میں اورزیک پبلک کی ایک ایئر لائنز شروع کی گئیں جو آج بھی کام کررہی ہیں، پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائن جسے ہم پی آئی اے کے نام سے جانتے ہیں کے آغاز کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے ، کہاجاتا ہے کہ پی آئی اے کا آغاز قیام پاکستان سے پہلے ہی ہوگیا تھا جس اس کا نام پی آئی اے کی بجائے اورینٹ ایئرویز تھا۔اور 23اکتوبر 1946ء کو کلکتہ میں اس کی بنیاد رکھی گئی قیام پاکستان کے بعد یہ ایئر لائن پاکستان شفٹ ہوگئی اور اس ایئر لائن کو مسلم ممالک کی پہلی ایئر لائن قرار دیا جاتا ہے ، بعد ازاں اس کا نام تبدیل کرکے اورینٹ ایئر لائن کو قومی فلیگ کیرئر ائیر لائن کے طور پر پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائن میں تبدیل کردیا گیا اور پی آئی اے کی پہلی انٹرنیشنل پرواز لندن کیلئے تھی جو راستے میں دو مختلف اسٹاپ کرتی ہوئی منزل مقصود پر پہنچی یہ اسٹاپ روم اور قاہرہ کے تھے ، پی آئی اے کو ایشیا کی پہلی ماڈرن ایئر لائن بھی سمجھا جاتا ہے جس کے پاس جد یدجہاز تھے، پی آئی اے نے جلدہی دنیا میں خود کو ایک بہترین ایئر لائن کے طورپر منوالیا، پی آئی نے دنیا بھر میں اپنے کمائے ہوئے منافع سے اثاثے بھی بنا لئے اور وقتاً فوقتاً ایئر لائن میں دنیا کے بہترین جہاز بھی شامل ہوتے رہے ،پی آئی اے کے ملازمین کیلئے اسے ایک بہترین ملازمت سمجھاجاتا تھا۔جہازوں میں سفر ،بہترین تنخو اہیں ،اعلی سہولیات اور اس کا پرکشش یونیفارم پی آئی اے ملازمین کے وقار میں اضافہ کرتا تھا ، پی آئی اے کے طیاروں کو دوسری ایئر لائنز کی طرح حادثات بھی پیش آتے رہے ، اس کے جہاز اغواء بھی ہوئے اور اغوا کی کوششیں ناکام بھی بنائی گئیں لیکن پی آئی اے کی ناک اس وقت گرد آلود ہوئی جب اس ایئر لائن میں میرٹ کی بجائے بے تحاشہ سیاسی بھرتیاں کی گئیں، سیاسی بنیادوں پر اس کے سربراہ لگائے گئے ، جنہوںنے اپنے اور سفارشی بندوں کو بھرتی کرنے کے ساتھ ساتھ دبا کے کرپشن کی جہاں چھوٹے ملازمین ٹشو کے ڈبے تک اٹھا لے جاتے تھے وہاں بڑے بڑے افسران مختلف ٹھیکوں ، خریداریوں اور پرزوں کی تبدیلی کی آڑ میں اپنی جیبیں بھرتے رہے، اور پھر یہ وقت بھی آیا کہ ملک کے وقار کا نشان اور ایک منافع بخش ادارہ نقصان اور خسارے کا باعث بن گیا، پروازیں تاخیر کا شکار ہونے لگیں، پروازوں کے عالمی اصولوں کی خلاف ورزی پر بعض اوقات ہمارے جہازوں پر مختلف ملکوں نے پابندی بھی لگائی لیکن نہ ہمیں ہوش آیا اور نہ ہی ہم نے کوئی سبق سیکھا، لیکن ہماری ایوی ایشن کی تاریخ میں ایک ایسا بھی و ا قعہ رو نما ہو ا جب ہم نے ایک پرانا لیکن نادر جہاز چپکے سے انتہائی سستے داموں بیچ دیا، تقریباً سال گزر جانے کے بعد ہمیں ہوش آیا اور ہم آج طیارے کی’’چوری‘‘ کا رونا رو کر لکیر کو پیٹ رہے ہیں۔ کیا ملک و قوم ایسے ہوتے ہیں جہاں طیارے جیسی دیو ہیکل چیز بھی خاموشی سے بیچ دی جائے یا چوری کرادی جائے کوئی ہے جو ایسے چوروں کو الٹا لٹکا کے ایسے لو گو ں کو عبرت کا نشا ن بنا دے۔