| |
Home Page
بدھ 27 محرم الحرام 1439ھ 18 اکتوبر 2017ء
October 13, 2017 | 12:00 am
ناموس رسالت ﷺ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا تفصیلی فیصلہ

Todays Print

ناموس رسالت ﷺ پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا تفصیلی فیصلہ

بین الوزارتی کمیٹی ویب سائٹس پر چوکس نظر رکھے، لاہور ہائیکورٹ
(قسط نمبر9)
جسٹس شوکت عزیز صدیقی
اسی طرح اسی قانون کی دفعہ۱۶۷ جوکہ مذہب کے عمل میں مداخلت کے عنوان سے ہے، یہ قرار دیتی ہے کہ :
“(I) Whoever:
1. Intentionally and in a gross manner disturbs a religious service or an act of a religious service of a church or other religious society located in Germany: or
2.Commits insulting mischief at a place dedicated to the religious service or such a religious society, shall be punished with imprisonment for not more than three years or a fine.
(II) Corresponding celebrations of an organization dedicated to a philosophy of life located in Germany shall be the equivalent of religious services.”
فن لینڈ کے قانون بعنوان مذہب کے تقدس کی خلاف ورزی کی دفعہ ۱۰اس ضمن میں توہین مذہب کی تعریف کرتے ہوئے یہ قرار دیتی ہے کہ:
“A person who (I) publicly blasphemes against God or, for the purpose of offending, publicly defames or desecrates what is otherwise held to be sacred by a church or religious community, as referred to in the Act on the Freedom of Religion (267/1998) ”
اسی طرح آسٹریا کے ضابطہ تعزیرات فوجداری کی دفعہ۱۸۸ میں مذہبی جذبات کو مجروح کرنا جرم قرار دیاگیا ہے۔اسی طرح نیدرلینڈکے تعزیرات فوجداری کی دفعہ۱۴۷ میں بھی بلاسفیمی کو جرم قراردیاگیاہے۔ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنے ایک مضمون بعنوان “Multiculturalism and Islam in Europe”میں نیدر لینڈ کے ضابطہ فوجدار ی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :
“The Netherlands: Blasphemy is a criminal offence under the Penal Code Article 147 (introduction and subsection I Wetboek van Strefrecht), though this provision only covers expressions concerning God, and not saints and other revered religious figures (“godalaatering”). Further, the criminal offence of blasphemy has been interpreted to require that the person who makes the expression must have had the intention to be “scornful” (“Smalend”).”
اسی طرح اسپین کے قانون بابت توہین کے ضمن میں لکھتی ہیں کہ :
“Spain: The crime of blasphemy was abolished in 1988. The Constitutional Court has ruled that the right to freedom of expression, broadly protected by Article 20 of the Constitution, can be subject to restrictions aimed both at the protection of the rights of others or at the protection of other constitutionally protected interests. ”
آئرلینڈ کے دستور کی دفعہ۴۰ میں بھی اظہاررائے کی آزادی کی حدود وقیود درج ذیل طورپر متعین کی گئی ہیں:
“6.1: The State guarantees liberty for the exercise of the following rights, subject to public order and morality:
(1)The right of the citizens to express freely their convictions and opinions. The education of public opinion being, however, a matter of such grave import to the common good, the State shall endeavour to ensure that organs of public opinion, such as the radio, the press, the cinema, while preserving their rightful liberty of expression, including criticism of Government policy, shall not be used to undermine public order or morality or the authority of the State.”
18۔بین الاقوامی انجمنوں واداروں ، بین الاقوامی معاہدات ، بین الاقوامی اعلامیےاور یورپ کے مختلف ممالک کے قانون سے یہ واضح ہے کہ توہین مذہب، توہین مقدس شخصیات اور افراد واجتماع کے مذہبی جذبات واحساسات کا لحاظ اوراس ضمن میں اظہار رائے وتقریر وبیان پر مناسب قانونی قدغن دنیاکے تمام مہذب ممالک کاخاصہ ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلہ جات بھی اس ضمن میں اہمیت کے حامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کمیٹی (HRC) جسے بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری وسیاسی حقوق کے تحت قائم کیاگیاہے ، نے اپنے فیصلہ نمبری۵۵۰1993/مورخہ ۸ نومبر۱۹۹۶ میں ‘‘رابرٹ فوریسن بنام فرانس’’ میں دفعہ (۳) ۱۹ کی تشریح کرتے ہوئے یہ قرار دیاکہ فرانس کی جانب سے ہولوکاسٹ پراظہار خیال سے یہودیوں کے مذہبی جذبات اور حقوق کی پامالی ہوئی ہے۔
ترجمہ: چونکہ مصنف کی طرف سے بیان اس نوعیت کا ہے جس سے یہودیوں کے خلاف جذبات بڑھتے یا مضبوط ہوتے لہٰذاقانونی قدغن یہودیوں کے خوف سے آزاد فضاء میں زندگی گزارنے کے لیے عائد کی گئی ہے۔ان وجوہات کی بنا پرکمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مصنف کے آزادی ٔ اظہار پر عائد کردہ قیود معاہدہ کی دفعہ(۳) ۱۹ کے فقرہ نمبر ۳ (الف) کی رو سے بالکل درست ہیں۔
“Since the statements made by the author…. Were of a nature as to raise or strengthen anti-Semitic feelings, the restriction served the respect of the Jewish community to live free from fear of an atmosphere of anti-Semitism. The Committee therefore concludes that the restriction of the author’s freedom of expression was permissible under article 19, paragraph 3 (a), of the Covenant.”
یورپی عدالت برائے انسانی حقوق (ECHR) نےایک مقدمہ میں جس میںا سکول کے بچوں کےلئے ایک کتاب “The little Red Schoolbook” کی اشاعت، جس میں فحش اورگھٹیا جنسی مواد کی تفصیلات دی گئی تھیں کے پبلشر پر برطانوی حکومت کی جانب سے Obscene Publication Act, 1964 کے تحت مقدمہ کے حوالے سے مشہور ہینڈی سائیڈ کیس میں حق اظہاررائے کی وضاحت کرتے ہوئے قرار دیا کہ:
ترجمہ : اس عدالت کا نگرانی کا منصب اس بات کامتقاضی ہے کہ یہ عدالت اُن اصولوں کی جانب بھرپور توجہ دے جو جمہوری معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں۔آزادی ٔاظہار ایسے معاشرے کے قیام کے لیے ایک اساس ہے، ایک ایسی بنیادی شرط جو معاشرے اور ہر فرد کی ترقی وتعمیر کے لیے ناگزیر ہے۔دفعہ ۱۰کے پیراگراف ۲ کے تحت، یہ آزادی نہ صرف معلومات یا خیالات جو کہ مثبت طور پر حاصل ہوتے ہیں یا جو غیرمجرمانہ تصور ہوتے ہیں تک ہی محدود نہ ہے بلکہ ہر اُس عمل پر محیط ہے جو ریاست یا ریاست کے کسی گروہ کو متاثر ، پریشان یا خوفزدہ کرتا ہے۔تکثیریت، برداشت اورکشادہ ذہنی کی یہ بنیادی ضروریات ہیں۔جن کے بغیرکسی جمہوری معاشرہ کا تصورنہ ہے۔اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ بشمول دیگرے ہر قانونی ضابطہ، شرط، پابندی اور سزا جو اِس باب میں تجویز کی جائے وہ اُن قانونی مقاصد سے ہم آہنگ ہونی چاہیے۔
ایک اور زاویۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ عیاں ہوتا ہے کہ جوکوئی بھی آزادیٔ اظہار کا حق استعمال کرتا ہے وہ اپنے اوپر چند فرائض اور ذمہ داریاں بھی قبول کرتا ہے۔جس کا دائرہ کار اُن حالات اور ذرائع جن کو وہ اختیارکرتا ہے پر موقوف ہے۔عدالت اُن ذمہ داریوں اور فرائض سے صرفِ نظر نہیں کرسکتی جواُس شخص پرعائد ہوتی ہیں جیسا کہ اس کیس میں ہے کہ آیاقانونی پابندیاں اور سزائیں معاشرتی اخلاقیات کی حفاظت جوکہ جمہوری معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہیں کا مناسب اطلاق کیا گیا۔
“The Court's supervisory functions oblige it to pay the utmost attention to the principles characterizing a "democratic society". Freedom of expression constitutes one of the essential foundations of such a society, one of the basic conditions for its progress and for the development of every man. Subject to paragraph 2 of Article 10 (art. 10-2), it is applicable not only to "information" or "ideas" that are favourably received or regarded as inoffensive or as a matter of indifference, but also to those that offend, shock or disturb the State or any sector of the population. Such are the demands of that pluralism, tolerance and broadmindedness without which there is no "democratic society". This means, amongst other things, that every "formality", "condition", "restriction" or "penalty" imposed in this sphere must be proportionate to the legitimate aim pursued.
From another standpoint, whoever exercises his freedom of expression undertakes "duties and responsibilities" the scope of which depends on his situation and the technical means he uses. The Court cannot overlook such a person's "duties" and "responsibilities" when it enquires, as in this case, whether "restrictions" or "penalties" were conducive to the "protection of morals" which made them "necessary" in a "democratic society". ” (HANDYSIDE v. THE UNITED KINGDOM)
اسی طرح اوٹومری سنگر انسٹی ٹیوٹ ،ایک وڈیوساز ادارہ، نے عیسائیت کے خلاف ایک متنازعہ فلم بنائی تورومن کتھیولک چرچ نے اس کے خلاف فوجداری کارروائی کاآغاز کردیا۔ فلم کوقبضہ میں لے لیاگیا اوربعدازاں عدالتی حکم کے تحت فلم کو ضبط (Forfeit) کردیاگیا۔مقدمہ جب یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں پہنچا توعدالت نے یہ قرار دیاکہ:
ترجمہ : کوکی ناکی کے فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل ۹ کے تناظر میں ریاست ایسے رویوں بشمول ایسی معلومات اور خیالات کی ترویج جو آزادی خیال، شعور اور کسی مذہبی آزادی سے متصادم ہوں، کی روک تھام کے لیے قانونی طور پراقدامات کرے۔
قانونی طور پر ایسا سمجھا جا سکتا ہے کہ مقدس مذہبی شخصیات کی اشتعال انگیز تصاویر سے، مذہبی احساسات کا احترام ، جس کی ضمانت آرٹیکل ۹ میں دی گئی ہے، بری طرح مجروح ہوا ہے اور ایسی تصاویر سے جذبۂ برداشت کی روح کی خلاف ورزی /بے حرمتی ہوئی ہے،جوکہ ایک جمہوری معاشرے کا خاصہ ہونی چاہیے۔اس کنونشن کو بحیثیت مجموعی پڑھا جانا چاہیے اور اسی لیے آرٹیکل ۱۰کی تشریح اور اس کیس پر اس کا اطلاق، اس کنونشن کی منطق کے موافق ہونا چاہیے۔(دیکھیں میوٹیٹس میوٹینڈس، کلاس ودیگر بنام جرمنی، فیصلہ مورخہ۶ستمبر۱۹۷۸ء سیریز اے نمبر۸۲،پیرا۶۸۱)
جن اقدامات کی شکایت کی گئی وہ آسٹریا کے مجموعہ تعزیرات کی دفعہ ۱۸۸کی بنیاد پرجس میں ایسے رویوں کی روک تھام کی گئی ہے جو مذہبی تقدس کے خلاف اور جن سے اشتعال انگیزی پیداہونے کااحتمال ہو۔اس کا مقصد شہریوں کے حقوق کا تحٖفظ تھا کہ دوسرے لوگوں کے عوامی سطح پر اظہارِ رائے سے کسی بھی شخص کے مذہبی احساسات و جذبات مجروح نہ ہوں۔آسٹریائی عدالتوں کے فیصلے جن دلائل کے تحت کیے گئے اِن کی روشنی میں یہ عدالت تسلیم کرتی ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد قانونی طور پر دفعہ ۱۰پیرا۲پرعمل درآمد ہے۔جس کا عنوان ہے ’’دوسروں کے حقوق کی حفاظت‘‘۔
“In the Kokkinakis judgment the Court held, in the context of Article 9 (art. 9), that a State may legitimately consider it necessary to take measures aimed at repressing certain forms of conduct, including the imparting of information and ideas, judged incompatible with the respect for the freedom of thought, conscience and religion of others (ibid., p. 21, para. 48).The respect for the religious feelings of believers as guaranteed in Article 9 (art. 9) can legitimately be thought to have been violated by provocative portrayals of objects of religious veneration; and such portrayals can be regarded as malicious violation of the spirit of tolerance, which must also be a feature of democratic society. The Convention is to be read as a whole and therefore the interpretation and application of Article 10 (art. 10) in the present case must be in harmony with the logic of the Convention (see, mutatis mutandis, the Klass and Others v. Germany judgment of 6 September 1978, Series A no. 28, p. 31, para. 68).
48. The measures complained of were based on section 188 of the Austrian Penal Code, which is intended to suppress behaviour directed against objects of religious veneration that is likely to cause "justified indignation". It follows that their purpose was to protect the right of citizens not to be insulted in their religious feelings by the public expression of views of other persons. Considering also the terms in which the decisions of the Austrian courts were phrased, the Court accepts that the impugned measures pursued a legitimate aim under Article 10 para. 2 (art. 10-2), namely "the protection of the rights of others".”
اسی طرح یورپی عدالت نے ایک دیگر مقدمہ (Dubowska and Skup Vs. Poland میں اسی اصول کو مزید واضح کرتے ہوئے لکھا:
ترجمہ : البتہ جس طریقہ سے مذہبی عقائد یا تعلیمات کی مخالفت یا نفی کی جاتی ہے ایک توجہ طلب امر ہے جو کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان عقائد و تعلیمات کے حامل افرادکے پرامن طوردفعہ ۹ میں دیئے گئے حق کے استعمال کو یقینی بنائے۔لہٰذا مذہبی پیروکاروں کے جذبات کا احترام جو کہ دفعہ ۹ میں وضع کیا گیا ہے کی بعض صورتوں میں اشتعال انگیز اقدامات کے ذریعے مذہبی طور پر مقدس چیزوں کی خلاف ورزی بھی ہو سکتی ہے۔نتیجۃ ً، دفعہ ۹ میں دیئے گئے حقوق کی حفاظت کی غرض سے ریاستوں پر یہ بدیہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں کہ جن کے ذریعے مذہبی آزادی کے حق کو افراد کے مابین تعلقات کے ضمن میں بھی موثر انداز میں محفوظ کیا جا سکے۔ایسے اقدامات، بعض حالات میں، ایک قانونی راستہ وضع کرتے ہیں کہ فرد اپنی عبادت کے معاملات میں کسی دوسرے کی وجہ سے تنگ نہ ہو۔
“However, the manner in which religious beliefs and doctrines are opposed or denied is a matter which may engage the responsibility of the State to ensure the peaceful enjoyment of the right guaranteed
under Article 9 (Art. 9) of the Convention to the holders of those beliefs and doctrines. Thus, the respect for the religious feelings of believers as guaranteed in Article 9 (Art. 9) may in some cases be violated by provocative portrayals of objects of religious veneration
(see Eur. Court HR, Otto-Preminger-Institut v. Austria judgment of 20 September 1994, Series A no. 295-A, p. 18, para. 47).
As a consequence, there may be certain positive obligations on
the part of a State inherent in an effective respect for rights guaranteed under Article 9 (Art. 9) of the Convention, which may involve the adoption of measures designed to secure respect for freedom of religion even in the sphere of the relations of individuals between themselves (see, mutatis mutandis, Eur. Court HR, X and Y v. the Netherlands judgment of 26 March 1985, Series A no. 91, p. 11, para. 23). Such measures may, in certain circumstances, constitute a legal means of ensuring that an individual will not be disturbed in his worship by the activities of others.”
(Dubowska and Skup Vs Poland: (Appl. Nos 33490/96 and 34055/96.)
19۔مغرب میں پائے جانے والے توہین رسالت کاتصور اسلام کے قانون توہین رسالت سے یکسر مختلف ہے۔مغرب کی اپنی ایک تاریخ ہے جس میں خُدا یا مقدس ہستیوں کی تضحیک و توہین (Blasphemy) کے قانون کا کلیسا نے اپنے مقاصد کے تحت استعمال کیا اور حتیٰ کہ اہل کلیسا کی رائے کی مخالفت کوبھی توہین کے ہم پلہ (Blasphemy) شمار کرتے ہوئے معصوم لوگوں کو سخت سے سخت سزائیں دی گئیں۔ اس موضوع پرمغرب میں متعددکتب تصنیف کی گئیں۔مغرب اورکلیسا کی اس حوالے سے ظلم بھری تاریخ کےلئے ڈیوڈناش کی کتاب Blasphemy in the Christian World (A History) اور لیونارڈ لیوی کی کتاب Blasphemyچشم کشائی کے لئے کافی ہیں۔ اس موضوع پر ڈاکٹر محمود احمد غازی کی کتاب " قانون توہین رسالت " کا ایک اہم اقتباس نقل کرنا ضروری ہے جس میں وہ لکھتے ہیں :
" توہین رسالت کی تاریخ کو ذہن نشین رکھنا ضرور ی ہے ، خصوصاً اس وقت جب دفعہ 295 سی کے متعلق ذہنی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہو ۔ مسلمان جو مختلف سیاسی آرا ، مذہبی تقسیم ، جغرافیائی ، علاقائی تفریق اور گروہی و نسلی پس منظر کے حامل ہوں ۔ اس موضوع پر گہری جذباتیت رکھتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی شخصیت کی حرمت اور آپ کے مقدس مشن کی توقیر پر بھی مصالحت نہیں کرتے ، حالانکہ توہین رسالت کے قانون کے اصول اور نظریات کی بنیاد مغربی ممالک میں توہین رسالت کے نظریہ کے تصور سے مختلف ہے اور اس لیے مختلف ادوار میں قوانین توہین رسالت کی تاریخ کے ساتھ کسی طرح کا موازنہ کرنے کا جواز پیش نہیں کرتے ۔
پھر بھی یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مغرب میں توہین رسالت کا تصور کی مختصر تاریخ کو تلاش کیا جائے ۔ یہ تجزیہ ضروری ہے کیو نکہ پاکستان میں اس قانون کے بہت سے نقاد اسےلوگوں کی اکثریت کے جذبات اور اُمنگوں کی روشنی میں سمجھنا چاہیے اور اسی حوالے سے اس کی تشریح بھی ہونی چاہیے ۔
کچھ لوگ قانون توہین رسالت کے بارے میں بڑے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں آئین کی رو سے جن انسانی حقوق کی ضمانت فراہم کی جاتی ہے یہ اس سے ہم آہنگ نہیں ۔ اس بنیاد پر اس احساس کی بمشکل توثیق ہوتی ہے اس لیے کہ آئین نے خود کچھ حدود و قیود مقرر کر رکھی ہیں ۔ سیاسی طور پر بھی پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کو ہم یہ مشورہ دیں گے کہ وہ اس قانون پر معترض نہ ہو ں ۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں اور اگر نہ جانتے ہوں تو انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ پاکستان کے مسلمان کسی کا بھی، جن میں اقلیتیں شامل ہیں ، یہ حقوق نہیں تسلیم کرتے کہ وہ کسی بھی بنیادپر یہ دعویٰ کریں کہ انہیں اپنے ہمساے کے مذہب کی توہین کرنے یا آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کا کوئی حق حاصل ہے ۔ پاکستانی مسلمان تو درحقیقت اس منطق کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کوئی پوری تاریخ بنی نوع انسان کی سب سے زیادہ قابل احترام اور محبوب شخصیت کی توہین کرنے کی آزادی کا حق کس طرح مانگ رہا ہے ۔"
اسے مغرب کی تاریخ توہین رسالت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس قانون کا سہارا لے کر کلیسا اور ریاست نے بے اعتدالیاں کیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رفتہ رفتہ اس کے خلاف ردِ عمل بڑھتا گیا اور بالآخر کچھ ممالک میں اسے کالعدم کر دیا گیا اور کچھ ممالک میں اس کا وجود برائے نام رہ گیا تھا ، کلیسا نے اپنے آپ کو نہ صرف یسوع مسیح کا جانشین ثابت کرنے کی کو شش کی بلکہ اس کا ترجمان بن کر خود خدا کی نمائندگی کی۔
کلیسا نے غور کیا کہ اس کے اپنے نظریات میں جو تضاد تھا وہ توہین رسالت کے مترادف تھا اور سخت سزا کا مستوجب تھا ۔ ایک مشہور محاورہ ہے " جو میں چاہتا ہوں تم وہ مت کرو" اس سے معاملے میں کلیسا کے رویے کی عکاسی ہوتی ہے ۔ اس طرح کا رویہ آزاد علم اور بامعنی چھان بین یا تحقیق کے تما م دروازے بند کر دیتا ہے ۔ پادریوں نے اپنے علم و فضل کی گرتی ہوئی سطح اور اپنی سیاسی طاقت کی بڑھتی ہوئی دھاک کی وجہ سے ہر اس رائے یا نقطہ نظر کو جو ان کی پالیسیوں اور دعوؤں سے ہم آہنگ نہیں تھے توہین رسالت اور کفر و الحاد کہا ۔ ریاست نے کلیسا کے اثر و رسوخ کو ترقی دینے اور یکجا کرنے کے لیے اپنی ہدایات کے نفاذ کے ذریعے معاونت کی ۔
1553ء میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ نے کچھ لوگوں کو محض اس لیے زندہ جلا دیا کیونکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یسوع مسیح خدا نہیں تھے اور یہ کہ معصوم بچوں کوبپتسمہ نہیں دینا چاہیے۔
20۔عدالت عالیہ لاہور نے اپنے فیصلہ اسلامک لا یٔرز موومنٹ بنام فیڈریشن آف پاکستان(۲۰۱۲ سی ایل سی صفحہ۱۳۰۰)میں اسی نوعیّت کے معاملہ میں درج ذیل ہدایات جاری کیں، لیکن بد قسمتی سے اِن پر عملدر آمد نہ ہوا۔ نتیجتاََ پراگندہ سوچ کے حامل افراد کو مزید شہ ملی اور انہوں نے اپنے مکروہ عزا یٔم کی تکمیل کی خاطر کا ئنات کی سب سے مقدس اور معتبر ہستی نبیٔ آخر الزماںﷺ کی شان میں ناقابل تحریر و بیان گستاخی کے انداز اپنائے اور ایسا مواد پھیلایا جس کو دیکھنے کی کسی میں سکت ہے اور نہ سننے کا یارا۔ عدالت عالیہ لاہور نے مذکورہ بالا مقدمہ میں حکومت اور متعلقہ اداروں کو درج ذیل ہدایات جاری کیں:
(ترجمہ )گزشتہ فقرات میں کی گئی بحث سے اخذ کردہ نتائج کی رو سے درج ذیل ہدایات فوری اورسختی سے عملدرآمد کے لیے مسئول علیہ کو جاری کی جاتی ہیں:۔
۱۔ یہ کہ بین الوزارت کمیٹی جوکہ سال۲۰۱۰ء میں اس وقت کےوزیراعظم نے تشکیل دی تھی، ویب سائٹس پر چوکس نظررکھے گی اور کسی بھی گروہ کے مذہبی عقائد کے حوالے سے متنازعہ/قابل اعتراض مواد کے فتنہ شہود پر آنے کی صورت میں فوری ایکشن لے گی۔قبل اس کے کہ ایسا مواد عامۃ الناس تک پہنچ سکے اور کسی کوتاہی کی صورت میں متعلقہ افراد/افسران کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور حکومت ایسی کمیٹی میں نجی طبقہ سے بھی افراد کو نمائندگی دے گی۔
۲۔ یہ کہ سروسز ڈویژن، اسلام آباد کے تحت کام کرنے والے کرائسز سیل کو ایسے میٹریل/مواد کے سوراغ اور متعلقہ ویب سائٹ/ URL کی بلاتاخیر بندش کی جانے اور کسی کوتاہی کی صورت میں غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی اقدام کیا جائے۔
۳۔ حکومت اپنے مستقل مندوب کے توسط سے اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں اُجاگر کرے گی۔تاکہ بین الاقوامی سطح پرایسے افعال کے اداروں کے لیے قانون سازی ہوسکےاور عالمی برادری کوامت مسلمہ کے تحفظات سے بالعموم جبکہ پاکستان کے تحفظات سے بالخصوص آگاہ کریں جوکہ ایسے قابل اعتراض مواد کی اشاعت سے متعلق ہیں۔
۴۔ حکومت دیگررکن ممالک سے مشاورت سے اس مسئلے کواسلامی ممالک کی تنظیم او۔آئی۔سی میں اُجاگر کرے گی اور آئندہ ایسے اقدامات کے تدارک کے لیے واضح لائحہ عمل اختیار کرے گی۔
۵۔ حکومت ایسے اقدامات پر بھی غور کرے گی کہ جن کے ذریعے غیراخلاقی اور غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ویب سائٹس کومستقل طور پربند کیا جاسکے۔
۶۔ حکومت اس مسئلے پر دیگر اسلامی ممالک اور چین کی طرز پرقانون سازی کے لیے تحرک کرے گی۔
۷۔ حکومت پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کے توسط سے ایسی ویب سائٹس کے استعمالات و مضمرات سے عوامی آگاہی کا انتظام کرے گی اور
۸۔ آئندہ ایسےجرائم کے اقدام کی صورت میں حکومت متعلقہ ذمہ دارمحکموں کے خلاف متعلقہ فورمز پر قانونی کارروائی کرےگی۔
14. As a necessary corollary to the discussion in the foregoing paragraphs the following guidelines are formulated for immediate and strict action by the respondents:
(i)That Inter ministerial committee constituted by the then Prime Minister in the year; 2000 would keep a vigilant eye on the websites and in the eventuality of any objectionable material concerning the religious faith of any group would take prompt action before it reaches to the public-at-large and in case of failure the concerned persons would be taken to task while initiating disciplinary action against them and the government would also include some members from amongst the private persons in the said committee;
(ii)That the Crisis Cell working in the Services Division ICT Directorate and Enforcement Division shall be used as a tool to unearth such material and to block the relevant website/URL forthwith and in case of failure stern action be taken against the delinquents;
(iii)That the government shall agitate the matter before the United Nations through its permanent delegate for legislation at international level against such acts and convey the reservations of the Muslims of the world in general and that of Pakistan in particular regarding the publication of such objectionable material;
(iv) That the government shall bring matter before the Organization of Islamic Countries (OIC) in consultation with the other member countries and would adopt a clear-cut via media to halt repetition of such incidents;
(v)That the government shall also see the viability of permanent blocking of the websites involved in unethical and illegal activities in the event that such material is again presented on internal;
(جاری ہے)