| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
ادارتی نوٹ
October 20, 2017 | 12:00 am
درختوں کی غیر قانونی کٹائی

Darakhton Ki Ghair Qanooni Katai

 پاکستان میں جنگلات کا جو کل رقبے کا صرف 2.2 فیصد ہیں1990ء سے 2010ء کی دو دہائیوں میں اوسطاً سالانہ 1.66 فیصد حصہ کاٹ لیا گیا یہ رقبہ 42 ہزار ہیکٹربنتا ہے جبکہ جنگلات کا کل رقبہ 16 لاکھ 87 ہزار ہیکٹر ہے بدھ کے روز سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس شیخ عظمت سعید کا ایک کیس کے دوران درختوں کی غیر قانونی کٹائی کا نوٹس لیتے ہوئے ٹمبر مافیا کو تنبیہ کرنا کہ ملکی وسائل مال غنیمت نہیں کہ جس کا جو جی چاہے لے لے۔ حکومت، متعلقہ اداروں اور عوام کے لئے لمحہ فکریہ ہے قومی دولت خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو اس کی حفاظت ہم پر فرض ہے درخت کسی بھی معیشت کا سہارا، زمین کا حسن، ماحولیاتی استحکام اور موسمی شدت اور تبدل و تغیر کے مضر اثرات سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بدقسمتی سے ہم نے جنگلات کی قدر نہیں کی قیام پاکستان سے 1960ء کی دہائی تک جنگلات کو بے دریغ کاٹ کر درختوں کو عمارتی لکڑی میں اور ایندھن کے طور پر استعمال کیا گیا۔ 1990ء اور 2010ء کے 20 سال کے عرصہ میں 33.2 فیصد درخت کاٹ لئے گئے شمالی علاقہ جات کے بعد خیبر پختونخوا کے چار اضلاع چترال، سوات، دیر اور کوہستان میں جنگلات زیادہ ہیں جو اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں ایک رپورٹ کے مطابق شمالی علاقہ جات میں دریائے سندھ کے مغربی کنارے کے اکثر علاقوں پر ٹمبر مافیا کا راج ہے اسی طرح کے پی کے، مری، آزاد کشمیر کے بیشتر جنگلات میں لکڑی چوری ہو رہی ہے دنیا بھر میں سائنس و ٹیکنالوجی کی بدولت اور عمارات کی تعمیر اور ایندھن کے لئے بہت سے متبادل ذرائع استعمال کئے جا رہے ہیں ہماری حکومت کو بھی چاہئے کہ ٹمبر مافیا کے قلع قمع کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور لوگوں کو عمارتی لکڑی اور ایندھن کے متبادل ذرائع کی طرف راغب کیا جائے عوام کو شعور دیا جائے کہ درخت کاٹے نہ جائیں بلکہ لگائے جائیں۔
www.jang.com.pk