| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
جی این مغل
October 20, 2017 | 12:00 am
بے نظیر بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کے تعلقات ۔ چند حقائق

Benazir Bhutto Aur Murteza Bhutto Ke Taluqaat

کئی سیاسی محققین اور ہمارے صحافی بھائیوں میں یہ تاثر عام تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ڈکٹیٹر ٹائپ سیاستدان ہیں، اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے میں نے اپنے حوالے سے ایک قصہ پچھلے کالم میں بیان کیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ یہ نامناسب نہیں ہوگا کہ اس حوالے سے میں ایک اور قصہ اس کالم میں پیش کرتا چلوں، ہم صحافی، رپورٹرز اور سیاستدانوں کے درمیان مختلف ایشوز پر ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی ہیں تو بات چیت ہوتی رہی ہے‘ ایک بار مجھے محترمہ سے ایک ایشو پر بات چیت کرنا تھی، میری معلومات کے مطابق محترمہ اس دن نہ صرف کراچی میں تھیں مگر بلاول ہائوس میں تھیں لہٰذا میں نے ان سے بات چیت کرنے کے لئے بلاول ہائوس ٹیلی فون کیا، شاید اس وقت محترمہ بلاول ہائوس سے کہیں جاچکی تھیں مگر بلاول ہائوس کے جس اسٹاف ممبر نے میرا ٹیلی فون اٹینڈ کیا اس کا رویہ انتہائی نامناسب تھا، ایک لحاظ سے وہ مجھ سے بدتمیزی کررہے تھے اس رویے کی وجہ سے میں نے ٹیلی فون بند کردیا، دوسرے یا تیسرے دن پی پی کے ایک رہنما کا مجھے ٹیلی فون آیا اور کہنے لگے محترمہ کچھ صحافیوں سے ملنا چاہتی ہیں جن میں آپ بھی شامل ہیں‘ تو میں آپ کو لینے آرہا ہوں، میں نے بلاول ہائوس جانے سے معذرت کی، انہوں نے اس کا سبب معلوم کیا تو میں نے انہیں بتا دیا کہ بلاول ہائوس کا اسٹاف کتنا بدتمیز ہے، پی پی کے اس رہنما نے شاید یہ بات محترمہ بے نظیر بھٹو کو بتائی، مجھے اس وقت بے حد حیرت ہوئی جب دو تین دن کے بعد مجھے ڈاک کے ذریعے محترمہ کا ایک خط ملا جس میں انہوں نے بلاول ہائوس کے اس رویے پر مجھ سے معذرت کی، اس خط پر میرا نام اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا تھا، کیا ایک ڈکٹیٹر نما شخصیت مجھ جیسے معمولی شخص کو خط لکھ کر معذرت کرسکتی تھی، اب بھی اکثر مختلف فائلیں کھولتے ہوئے جب محترمہ کے اس خط پر نظر پڑتی ہے تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں، اب میں اس بات کو آگے بڑھاتا ہو جو میں نے پچھلے کالم میں نامکمل چھوڑی تھی۔ میرے اس کالم کا آخری جملہ یہ تھا کہ جب محترمہ نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا کہ ’’اچھا مغل، بات ختم، میرے اور میر کے درمیان ثالثی آپ کرائیں‘‘۔ یہ سن کر مجھے ایک جھٹکا لگا، میں محترمہ کی طرف سے کسی ایسے اقدام کے لئے تیار نہیں تھا، سچی بات یہ ہے کہ محترمہ کی یہ بات سن کر میں ایک دو سیکنڈ کے لئے سکتے میں آگیا، میں نے فوری طور پر خود کو سنبھال کر محترمہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ محترمہ ثالثی کرانا ہر ایک کے بس کا کام نہیں پھر مجھے ایسا کوئی تجربہ بھی نہیں، مگر محترمہ اپنے موقف پر ڈٹی رہیں اور کہنے لگیں کہ مغل صاحب اس سلسلے میں آپ سے بہتر کوئی اور شخص نہیں، آپ میرے اور میر دونوں کے ہمدرد ہیں، میں نے کہا کہ محترمہ مجھ پر اتنا اعتماد کرنے کی مہربانی، یہ آپ کی طرف سے بڑی عزت افزائی ہے مگر مجھے یہ ٹاسک انتہائی مشکل لگتا ہے، اس مرحلے پر میں نے ان کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرائی کہ ’’میری تو اب تک میر سے ایک بھی ملاقات نہیں ہوئی‘‘ وہ تو مجھے پہچانتے بھی نہیں مگر محترمہ پھر بھی اپنے موقف پر ڈٹی رہیں اور کہنے لگیں آپ کو کیا پتہ، جب آپ میر سے ملیں گے تو آپ حیران ہوجائیں گے کہ وہ تو آپ کو اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ محترمہ نے جب میرے اس بہانے کو بھی مسترد کردیا تو میں نے ان سے مخاطب ہوکر انتہائی عاجزی سے یہ دلیل دی کہ محترمہ میں ایک صحافی ہوں یہ تو ایک سیاسی کردار ہوگا، ایک صحافی ایسا بھاری بھر کم سیاسی کردار کیسے ادا کرسکتا ہے؟ محترمہ نے میری یہ دلیل بھی رد کردی اور کہا کہ ’’میں دنیا کے ایسے پانچ چھ سینئر صحافیوں کے نام گنوا سکتی ہوں جنہوں نے ایسے سیاسی کردار ادا کئے‘‘ اب میری محترمہ کے سامنے ایک بھی نہیں چل رہی تھی۔ انہوں نے آخر یہ کردار ادا کرنے کے لئے مجھے راضی کرلیا، ان دنوں میں ایک اخبار کا بیورو چیف تھا اور میں نے سندھ بیورو کا آفس حیدرآباد میں قائم کر رکھا تھا، مگر چونکہ اس کا کراچی کا بیورو آفس بھی میرے ماتحت تھاتو مجھے اکثر کراچی بیورو کی دیکھ بھال کرنے کے لئے کراچی بھی آنا پڑتا تھا، بہرحال چند دنوں کے بعد اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ میر مرتضیٰ بھٹو71کلفٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے، اس دن میں کراچی پہنچ گیا اور اس پریس کانفرنس کو کور کیا، پریس کانفرنس کے بعد میر مرتضیٰ بھٹو71کلفٹن سے 70 کلفٹن جا رہے تھے، راستے میں ان کے کارکنوں نے دونوں طرف قطاریں بنا رکھی تھیں جن میں ہر ایک سے میر ہاتھ ملا کر اس سے خیر و عافیت معلوم کر کے آگے بڑھ رہے تھے، میں نے میر سے بات کرنے کے لئے یہ موقع غنیمت سمجھا، میں ایک کنارے پر کھڑا ہوگیا تاکہ جب میر اس طرف بڑھیں گے تو نزدیک آنے پر میں ان سے ہاتھ ملا کر مطلوبہ بات کرسکوں، میر صاحب اور ان کی تنظیم کا ایک کارکن ساتھ ساتھ چل رہے تھے اور قطاروں میں کھڑے کارکنوں کا میر صاحب سے تعارف کرارہے تھے،‘ جب میر اور یہ سینئر کارکن ایک میری طرف بڑھنے لگے تو اس کارکن نے میر صاحب کو ہاتھ سے پکڑا اور میری طرف اشارہ کرکے کہنے لگے کہ سر پہلے ان صاحب سے ملیں،یہ کہہ کر وہ کارکن میر صاحب کو میرے پاس لے آیااور میرا زبردست تعارف کرانے لگا، یہاں میں یہ بات بھی ریکارڈ پر لاتا چلوں کہ میر مرتضیٰ اپنے کارکنوں سے عشق کی حد تک پیار کرتے اور ان کی عزت کرتے تھے اور ان کی ہر بات مانتے تھے، اس کارکن کا اس وقت نام یاد نہیں رہا، یہ کارکن میرے ساتھ چند دن حیدرآباد سینٹرل جیل کے ایک ہی سیل میں رہا تھا، میں صحافیوں کی تحریک کے دوران گرفتار ہوکر کراچی سینٹرل جیل میں قید کیا گیا تھا جبکہ یہ پی پی کارکن بھٹو کو پھانسی دینے کے فیصلے کے خلاف کئے گئے مظاہرے کے دوران گرفتار ہوکر کراچی جیل کے اس سیل میں لایا گیا تھا، اس مرحلے پر میں جیل کے ایک واقعہ کا بھی بیان کرتا چلوں تو کوئی حرج نہیں ہوگا، اس کارکن کے ساتھ کراچی اور خاص طور پر لیاری کے کئی پی پی کارکن بھی گرفتار ہوکر ہمارے ساتھ اس سیل میں تھے، ان کارکنوں نے پتہ نہیں کہاں سے ہلکی لوہے کی پلیٹیں حاصل کر لی تھیں‘ سیل میں روزانہ سونے سے پہلے پی پی کے یہ کارکن ایک جگہ جمع ہو کر ذوالفقار علی بھٹو کے لئے انتہائی جوش سے ایک ترانہ گاتے تھے، جب وہ اس ترانے کی اس سطر کو گاتے تھے کہ ’’بچہ بچہ کٹ مرے گا‘‘ بھٹو پھانسی نہیں چڑھے گا‘‘ یہ سطر گاتے وقت یہ کارکن اتنے زور سے اپنی انگلیاں ان لوہے کی پلیٹوں پر مارتے تھے کہ ان کی انگلیوں سے خون کی پھوار پھوٹ پڑتی تھی، یہ سلسلہ روزانہ جاری رہتا تھا، پھر مجھے کراچی سینٹرل جیل سے حیدرآباد سینٹرل جیل منتقل کیا گیا۔ اب میں اس بات کا ذکر کرتا چلوں کہ جب پی پی کا یہ کارکن میر صاحب کو میرے پاس لیکر آیا اور میری تعریف کرتے ہوئے میر صاحب سے سفارش کی کہ آپ مغل صاحب سے بات کریں، میر صاحب خوشی سے آگے بڑھے اور مجھ سے ہاتھ ملایا، ان کا ہاتھ میرے دونوں ہاتھوں میں تھا، میں نے ان سے انتہائی احترام سے گزارش کی کہ میر صاحب مجھے آپ سے ملاقات کرنی ہے، میں فوری طور پر آپ سے تنہائی میں ملنا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے آپ سے ایک انتہائی اہم ایشو پر بات کرنا جس کا آپ اور آپ کی پارٹی سے گہرا تعلق ہے، میں انہیں اس مرحلے پر یہ نہیں بتاسکتا تھا کہ مجھے محترمہ بے نظیر بھٹو کے حوالے سے بات کرنا ہے، میر صاحب ہنس پڑے اور پارٹی رہنمائوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ مغل صاحب اس وقت ملاقات مشکل ہے کیونکہ مجھے ان رہنمائوں کے ساتھ کہیں جانا ہے مگر کسی اور وقت ملاقات ہوسکتی ہے۔(جاری ہے)