| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
آصف علی بھٹی
November 14, 2017 | 12:00 am
وزارت عظمیٰ سےگرا،احتساب میں اٹکا!

Wizarat Uzma Se Gira Ehatasab Mein Atkaa

 سب کچھ جلدی اور تیزی میں بدلا جارہا ہے، کہیں نئے انجنیئرڈ اتحاد بنانے کی کوششیں تو کہیں تیز رفتاری سے ’’کرپشن‘‘ کیسز کی تحقیقات مکمل کی جارہی ہیں، چکر کیا ہے؟ سنا ہے، نااہل کئےجانے والے وزیراعظم کے خلاف احتساب عدالت میں ایک ریفرنس کی سماعت کے دوران وکیل صفائی نےجب کئی مقدمات چھ ماہ کی قلیل مدت میں زبردستی نمٹانے کو ’’انصاف کے قتل‘‘ کے مترادف قرار دیا تو فاضل عدالت کے معزز جج صاحب بولے ’’اگر کہیں تو چھ ماہ سے پہلے ہی فیصلہ کردیں! کوئی بتائے کہ آخر یہ چاہتے کیا ہیں، وفاقی دارالحکومت کےپانچ دن سے جاری محاصرے کا اصل مقصد محض جلد انتخابات کے لئے دبائو اور مارچ میں سینیٹ الیکشن سے پہلے مرضی کی حکومت بنانا نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ اپنے چھوٹے سے کرایہ کے فلیٹ کی بالکونی میں بیٹھے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے مسلسل الٹے سیدھے سوال پوچھے جارہا تھا، میرے بار بار نظر انداز کئے جانے اور سوالات کا مناسب جواب نہ ملنے پر جھنجھلا کر میرے پاس آبیٹھا اور میری گم آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا، بھائی تم لوگ تو اندر کی باتیں جاننے کا بہت دعویٰ کرتے ہو، بتائو کہ ہمارے پیارے وطن میں یہ کیا کھیل تماشہ چل رہا ہے؟ ایسا کب تک چلے گا؟ کیا کبھی ہمارے ہاں بھی حالات ٹھیک ہوں گے؟ کبھی کوئی اچھی خبر ہمیں بھی سننے کو ملے گی؟ کبھی ہمارے ہاں بھی عام و خاص کے لئے انصاف کا ترازو برابر ہوگا؟ کبھی ہم بھی کرپشن فری اور میرٹ کی حکمرانی کا نظام دیکھ پائیں گے؟ کبھی عام آدمی کے دیرینہ مسائل حل اور تمام حقوق مل پائیں گے؟ کبھی ہمارے ہاں بھی جمہوریت کو پنپنے کا موقع دیا جائے گا؟ پتا نہیں کیا کیا سوالات تھے جو اس کےمنہ سے جھاگ کی صورت نکل کر فضا میں معلق ہورہے تھے، بالآخر وہ گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکلا اور بولا ’’پرائےدیس میں مزدوری کرتےجوانی اب ادھیڑ عمر میں رل رہی ہے، کیا ہمارے بچے اور ان کی نسلیں بھی اسی غریب الوطنی کا عذاب جھیلیں گی؟ قوم قرضوں میں کب تک ڈوبتی چلی جائے گی؟ کیا ہمارا شب روز محنت کا وطن بھجوائے جانے والا زرمبادلہ کرپٹ اشرافیہ کے ہاتھوں اسی طرح لٹ کر ضائع ہوتا رہے گا؟ آپ بھی تو ہماری آواز نہیں اٹھاتے، میری جاب کا وقت ہوگیا ہے، صبح ملاقات ہوگی اور وہ اندھیرے میں غائب اور دروازہ خود بخود بند ہوگیا۔ امریکہ میں برسوں سے مقیم کئی رشتہ داروں، دوستوں اور جاننے والوّں کی کہانی اور زبانی ایک سی ہی ہے، وہ ہروقت ٹی وی اور سوشل میڈیا پر اپنے وطن سے آنے والی ہولناک ’’خبروں‘‘ پر دل برداشتہ، جلتے بھنتے اور دل پھٹتا محسوس کرتے ہیں، اس صورت حال میں شاید ’’سب جلد اچھا ہوجانے‘‘ کےجھوٹے دلاسے دینے کے سوا ہمارے پاس کوئی بھی جواب نہیں ہوتا، تاہم فاروق مرزا ایسے وطن کا درد دل رکھنے والے پردیسی بھی ہیں، جو طرز حکمرانی اور نظام ٹھیک کرنے کے لئے قومی میڈیا کو ’’آداب‘‘ سکھانے چل نکلے ہیں، وہ میڈیا کو ذمہ دار، غیرجانبدار اور مضبوط ’’فورتھ پلر‘‘ بنانے کے لئے سینکڑوں صحافیوں کی مفت تربیت کررہے ہیں اب اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن کہتے ہیں امید اچھی رکھنی چاہئے۔ ادھر نوبیاہتا جوڑے ایم کیو ایم اور پی ایس پی کی فوری طلاق کے بعد دولہا یا دلہن میں سے ایک نے ’’کمال‘‘ کیا اور اس بے جوڑ اور زبردستی کی شادی کرانے والوں کی ہنڈیا بیچ چوراہے خود ہی پھوڑ ڈالی، دعویٰ کیا کہ یہ سب اسٹیبلشمنٹ نے کرایا۔ سوچنےکی بات ہے کہ نئے مہرے کو بغیر تربیت اتارنے کا نقصان کس کو ہوا؟ تاہم ناقدین کی نظرمیں اس سے ’’ان کی‘‘ ساکھ پر کوئی فرق پڑتا ہے نا یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے، دولہا اور دلہن نہ صرف ایک ہی خانوادے کےچشم و چراغ ہیں بلکہ آج بھی جنم دینے والوں کے رحم وکرم پر ہی ہیں، اب محسن جو کہےگا وہی کریں گے نا، ہاں کمال کی کم عقلی نے کراچی پر کنٹرول کو مضبوط اور وسیع کرنے کے عزائم کو بےنقاب کردیا ہے، کیونکہ مسٹر خان کی کسی نافرمانی پر امپائر کی انگلی میں عین وقت پر پھر کوئی درد نکل آیا تو پی پی پی کو منہ زور بننے سے روکنے کے لئے سندھ میں طاقت کی تقسیم اپنی مرضی سے کرنے کے لئے پریشر گروپ بنانا بھی ضروری ہے۔
دوسری طرف وفاق کے شیر حکمرانوں کو بھی اپنی کھال اتر جانے کے بعد غیرمحفوظ کچھار میں بیٹھ کر چین ہے نہ سکون، ان کےسازشی ذہن میں ایک ہی بات سمائی ہےکہ کوئی کٹھ پتلی تماشہ کررہاہے ،کسی نے سرکس لگائی ہوئی ہے،کوئی ڈوریاں ہلا رہا ہے، کوئی اس نظام کو تباہ کرنے کے درپے ہے، کوئی ان کو بتائےکہ اب آپ جو بھی سازشی تھیوری گھڑیں اسٹیبلشمنٹ کئی مرتبہ میڈیا پرآکر واضح کرچکی ہے کہ وہ جمہوریت کے ساتھ، آئین اور حکومت کے تابع ہیں،ہونا تو یہ چاہئے کہ اب اپنی حالیہ اور سابقہ ادائوں پر ذرا غور فرمائیں تو شاید موجودہ پیدا شدہ حالات کی وجوہات کا جواب ضرور مل جائے،کہ کیا آپ نے اپنے سنہری چارسالہ دوراقتدار میں اپنے ووٹر کےووٹ کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھا؟ کیا ووٹ دینے والے کے مسائل کا ازالہ کیا؟ کیا قومی مسائل کےحل کے لئے وسیع تر اور جامع حکمت عملی بنائی؟ منشور اور وعدوں کے مطابق جدید طبی سہولتوں کے لئے اسپتال اور تعلیمی ادارے بنا کر عوام کو شعور دیا؟ پارلیمنٹ کو عزت و توقیر بخش کر فیصلوں کا مرکز بنایا؟ کیا ملک کی اندرونی و بیرونی سیکورٹی اور تعلقات کےحوالے سے دورس اور ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیا؟ کیا معاشی و اقتصادی معاملات کو شفاف بنا کر ترقی کے راستے پر ڈالنے کا کوئی قابل عمل نظام بنایا؟ کیا اداروں کو مضبوط اور بااختیار بنانے کا حوصلہ کیا؟ فوج کو طاقتور بنانے اور اس کو پیشہ ورانہ سلامتی و دفاعی نظام کے تحفظ تک محدود کرنے کا موقع فراہم کیا؟ کیا قدرتی آفات سے لے کر مردم شماری اور جمہوریت کی بنیاد انتخابی عمل میں کردار کےاضافی بوجھ کو کم کرنے کی سعی کی؟ متعلقہ قومی سرکاری اداروں کو خودکار نظام کےتحت اپنا کام کرنے کے قابل بنایا؟ خود کو مزید طاقتور بنانے کی بجائے عوامی انتخاب سے بننے والی مقامی حکومتوں کو اختیارات دئیے؟ اپنے رویوں کوجمہوری بنا کر جمہوری اداروں کو پروان اور طاقتور بنایا؟ بیرون ملک سے پاکستان میں سرمایہ لانے کی دوسروں کو ترغیب دینے کی بجائے اپنا سرمایہ وطن واپس لانے کی کوشش کی کرپشن کے خاتمے کے نعرے کا عملی مظاہرہ ازخود شروع کیا؟ وزیراعظم بن کر کسی دوسرے ملک میں نوکری اور سکونت کا اقامہ ترک کیا؟ عدالتوں کے احترام کا درس دوسروں کو دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی کبھی عمل کیا؟ دو مرتبہ اقتدار کے تجربے سے کچھ سیکھا؟ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نےیہ سب کچھ کیا ہے تو آج آپ کو ملک کا مضبوط اور مقبول ترین وزیراعظم ہونا چاہئے تھا۔ آپ ایسے بے داغ سربراہ مملکت ہوتےکہ کسی کو آپ پر الزامات کی جرات ہوتی نہ کوئی تحقیقات کا مطالبہ کرتا۔ واٹس اپ پر جے آئی ٹی بنتی اور نہ ہی آپ کو کٹہرےمیں نااہلی کا سامنا کرنا پڑتا، لیکن اب تو ’’وزارت عظمی سے گرا، احتساب عدالت میں اٹکا‘‘ کےمصداق ایک طرف آپ اور آپ کا خاندان ہے اور دوسری طرف سخت سزا سنانے والے منصف، شاید اب تیسرا راستہ مقفل ہوچکا ہے، اب آپ ’’رہبری‘‘ کے سوال پر ’’منصفی‘‘ کا سوال اٹھائیں یا سرکاری اجتماعات میں جاکر اپنا دکھڑا سنائیں، معصوم عوام بھی اب بہت کچھ سمجھ چکےہیں اور سمجھ آپ کو بھی یقینی طور پر آچکی ہےکہ آپ کو کیوں اور کس نےنکالا۔
اب مانیں نہ مانیں قصور کسی اور کا نہیں آپ ہی کا ہے کہ جو اس زعم یا غلط فہمی میں تھےکہ اب کی بار آپ کو کوئی اقتدار سے باہر نہیں کرسکتا، یہ آپ ہی تھے جس نے تیسری مرتبہ عوام کے عطاکردہ اقتدار کا حق ادا کرنے کی بجائے اس کو مطلق العنانیت کی بھینٹ چڑھادیا، یہ آپ ہی تھے جس نےعوامی نمائندگی کے مینڈیٹ کو ایسا بےتوقیر کیا کہ پیپلزپارٹی سمیت کئی دیگرسیاسی نظریاتی جماعتیں بھی آپ کے جمہوریت بچائو نعرے کا حصہ نہیں بلکہ موجودہ تنائو کو آپ کی ذاتی پرخاش سمجھتے ہیں ۔ آپکی کوتاہیوں کی سزا حقیقی اور مضبوط جمہوریت کے طلوع ہوتے روشن سورج کو گرہن کی مانند ملے گی جس کی آب و تاب کی واپسی کےلئے اب پھر شاید برسوں انتظار کرنا پڑے۔بقول شاعر
کہیں وہ بادشاہ تخت نشین، کہیں وہ کاسہ لئےگدا دیکھا