| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
مشتاق احمد قریشی
November 14, 2017 | 12:00 am
سیاست بری بلا ہے

Siyasat Buri Bulaa Hai

کراچی کے ساتھ آخر کیا ہو رہا ہے؟ کراچی کرچی کرچی ہو رہا ہے، کراچی میں بسنے والے حیران و پریشان ہیں۔ اہل سیاست و حکمرانوں سے مایوس نظر آرہے ہیں۔ کراچی شہر دن بدن بگڑتا ہی جا رہا ہے۔ نہ یہاں صفائی ستھرائی، سڑکوں کی مرمت اور نہ ہی نکاسی آب پر کوئی توجہ دی جا رہی ہے۔ ایک سیاسی ہڑبونگ مچی ہوئی ہے۔ حکمراں جماعت نے آنکھیں کان بند کر رکھے ہیں۔ جب تک ایم کیو ایم کا رعب و دبدبہ رہا حکمراں اپنی جماعت کے نشان تیر کی طرح سیدھے رہے اب جبکہ ایم کیو ایم کئی دھڑوں میں بٹ چکی ہے، ہر دھڑا اپنا راگ الاپ رہا ہے۔ انہیں کراچی شہر اور اس کے عوام کی کوئی فکر نہیں، ہر طرف شور مچا ہے، اُنہیں عوام کے مسائل سے شاید کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔ تمام ہی سیاسی جماعتوں کو2018 میں ہونے والے انتخابات کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ عوام کے مسائل زبانی کلامی حد تک بیان کئے جا رہے ہیں۔ الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان تمام سیاسی شعبدہ بازیوں کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ کون سرخرو ہوتا ہے کون بے آبرو۔ اب نیا کھیل شروع کیا گیا۔ ایم کیو ایم کے منتشر دھڑوں کو پھر یکجا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایک بار پھر اس جماعت کو نیا نام اور نیا سربراہ دے کر منحرف سیاسی جماعتوں کو لگام دینے کی کوشش کی گئی تاکہ کوئی بھی جماعت بھرپور مینڈیٹ حاصل کرکے تنہا حکومت نہ بنا سکے۔
پیپلزپارٹی کے ایک معروف رہنما کے بقول اس بار پیپلزپارٹی دیکھئے گا کہ کیا جلوہ دکھاتی ہے لوگ حیران و حیران رہ جائیں گے۔ ہم نے ازراہِ تفنن پوچھ لیا کہ جتنی کامیابی ماضی قریب کے الیکشن میں ملی تھی کیا اب کہ اتنی کی بھی امید نہیں، وہ محترم ایک دم بھڑک اٹھے۔ آپ اردو بولنے والوں کا یہی پرابلم ہے۔ بات سمجھتے کو تیار نہیں اور شروع ہوجاتے ہیں بابا اب اردو بولنے والوں کا جنازہ نکل چکا ہے۔ آپ کو یاد نہیں بابا رئیس امروہوی نے ایک زمانے پہلے ہی اردو والوں کا جنازہ یہ کہہ کر نکال دیا تھا کہ ’’اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘‘ بس اب آپ لوگ دیکھنا کہ ایم کیو ایم کا جنازہ کیسے دھوم دھڑکے سے نکالتے ہیں۔ آپ کو خود سوچنا سمجھنا چاہئے کہ ہمارا بڑا سائیں سردار آصف علی زرداری کیسا زبردست سیاستدان ہے اس نے پاکستان کی سیاست کی تاریخ میں اپنا نام سنہرے حروف سے لکھوا لیا ہے، کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کسی مائی کے لعل نے پاکستان کی صدارت کی مدت پوری کی ہو، سائیں زرداری وہ پہلا اور شاید آخری سیاست دان ہے جس نے عزت آبرو کے ساتھ اپنی مدت صدارت مکمل کی اور بڑی عزت کے ساتھ ایوان صدر سے رخصت ہوا، آصف صاحب زبردست سیاسست دان ہیں آپ دیکھئے گا اس بار الیکشن میں کیسا پانسہ پلٹتا ہے حکومت ہماری ہی پارٹی کی بنے گی۔ ہم نے پوچھا کہ عمران خان بھی تو یہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی جماعت کی حکومت ہوگی۔ ایسا ہی دعویٰ مسلم لیگ نون والوں کا بھی ہے ہر پارٹی بائیس کروڑ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کر رہی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو سوچنا پڑے گا کہ وطن عزیز پاکستان کی آخر آبادی کتنی ہے ہر سیاسی جماعت کے حمایتی بائیس کروڑ ہوں تو پھر پاکستان کی آبادی یقیناً کم از کم ستر کروڑ تو بنتی ہے۔ لیکن عوام کے مسائل سے فی الحال کسی کو کوئی دلچسپی نہیں۔ وطن عزیز پر ادھوری حکمرانی کرنے والی سیاسی جماعت نون لیگ بھی فی الحال تو میاں نواز شریف کو تحفظ دینے میں مصروف ہے جبکہ دوسری بڑی پارٹی کو حکمراں جماعت کو گھر بھیجنے کے خوابوں کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا حالانکہ اس جماعت کے سربراہ اور اس کے قریبی ساتھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہیں کس نے سر پر بٹھا رکھا ہے جانے کب اس کا رخ تبدیل ہوجائے اور خوابوں کا شہزادہ کب آنکھیں کھل جانے سے زمیں بوس ہوجائے۔
وطن عزیز میں ہر سو سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے میاں نواز شریف کی تنزلی کے بعد یقیناً نون لیگ کی سیاسی قوت میں بڑا نمایاں فرق پڑا ہے خود نون لیگ میں کئی طرح کی افواہیں گرم ہیں میاں صاحب کے کئی ساتھی میاں صاحب کو سہارا دینے کی بھرپور کوشش تو کر رہے ہیں۔ انہیں صرف اور صرف مسند اقتدار کے حصول سے غرض ہے ملک و قوم سے کچھ غرض نہیں انہیں ہر اقتدار میں آنے والے سے اپنے مفادات کی وجہ سے دلچسپی ہوتی ہے سیاست دراصل اب ایک بڑی تجارت بن چکی ہے جتنا گڑ ڈالو اتنا ہی میٹھا پائو گے۔
اگر سیاستداں اپنی حدود سے باہر ہونے لگیں تو تمام تر مضبوطی اور عوام کی حمایت کے باوجود اس کے پیروں کے نیچے بچھے سرخ قالین کو کھینچ لینے میں دیر نہیں کی جاتی جیسا کہ موجودہ حکمران جماعت کے ساتھ ہوا میاں صاحب نے جب اپنی مقررہ حد سے تجاوز کرنے کی کوشش کی تو اسمبلی میں بھاری اکثریت و حمایت کے باوجود لمحوں میں انہیں گھر بھیج دیا گیا وہ بھی قانونی اور آئینی طریقہ کے ساتھ یہ اور ایسے کئی عبرت ناک واقعات ملکی تاریخ کا حصہ ہیں اس کے باوجود ہمارے سیاسی اکابرین نہ سوچتے ہیں نہ سمجھتے ہیں بس چل سو چل جیسے بھی ممکن ہو اقتدار ملنا چاہئے، چاہے کوئی بھی کمر پر ہاتھ رکھ دے اور مسند اقتدار پر بٹھا دے یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز اللہ تعالیٰ کی تمام تر نعمتوں کے باوجود اب تک ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکا جبکہ ہمارا دوست اور برادر چین جو ہمارے بعد آزاد ہوا جس کی آبادی ہم سے کئی گنا زیادہ اور کاہل تھی۔ آج اس نے بڑی بڑی سپرپاور کے چھکے چھڑا رکھے ہیں وہ دن دور نہیں جب وہ امریکہ اور روس کے مقابلے میں کہیں بڑی اور اہم طاقت کی حیثیت سے بلند ترین مقام پر براجمان ہوجائے گا لیکن ہم ابھی وہیں کہ وہیں کھڑے ہیں جہاں ستر سال پہلے کھڑے تھے۔ ہمارے اکابرین سیاست بانیان پاکستان کے بعد ذاتی مفادات کی دوڑ میں لگ گئے ملک و قوم کو ایک فیکٹری کی طرح چلانے لگے کیونکہ ہر کسی کے سر پر خوف کی تلوار لٹکی ہوئی ہے اسے خوف رہتا ہے کہ ہمیں یہاں تک یا اس بلندی تک پہنچانے والی قوت کہیں کسی لمحے ہماری ٹانگیں نہ کھینچ لے۔ اس خوف سے وہ سرپٹ دوڑنے لگتے ہیں اور خود ہی گرجاتے ہیں۔ تمام دعویدار جھوٹ بولتے ہیں عوام کو بے وقوف بناتے ہیں کیونکہ انتخابات کے موقع پر امیدوار یا اس کی سیاسی جماعت براہ راست عوام سے رابطہ کرنے کے بجائے اس علاقے کے کسی بڑے سائیں سرکار پیر سائیں کی رائے کے مطابق چلتی ہے۔ بدعنوان اور کرپٹ افراد کامیاب ہو جاتے ہیں ، ہر بار ایسا ہی ہوا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا جب تک رائے دہی کے نظام کو صاف شفاف اور ہر قسم کے دبائو سے آزاد نہیں کیا جائے گا۔ یوں ہی بد عنوان مفاد پرست عناصر کامیابی حاصل کر کے ہم پر مسلط رہیں گے اور غریب عوام یوں ہی شکوے شکایت کرتے رہیں گے اور ملک یوں ہی پیچھے سے پیچھے ہوتا رہے گا اللہ ہمارےعوام کو اور اہل سیاست کو ہدایت اور عقل سلیم عطا کرے، ہماری اور ہمارے وطن عزیز کی حفاظت فرمائے، آمین۔