| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
علی معین نوازش
November 14, 2017 | 12:00 am
ا ئو ے چھڈ ا ں گا نہیں۔۔!

Aoy Chahdan Ga Nahi

1979ء میں ایک فلم ریلیز ہوئی جس کا نام مولا جٹ تھا اس فلم نے پاکستانی فلم انڈسٹری اور ثقافت میں نئی روایات قائم کیں اس فلم سے وابستہ افراد کے باصلاحیت ہونے پر شک نہیں کیاجاسکتا تاہم یہ اس وقت فلم انڈسٹری کے زیادہ بڑے نام نہ تھے ، ناصر ادیب اس فلم کے لکھاری تھے اور یونس ملک اس کے ڈائریکٹر تھے۔ فلم میں کام کرنے والے بھی کوئی زیادہ بڑے کردار ادا کرنے والے فنکارنہ تھے اور اگرکام کیا بھی تھا تو اس میں زیادہ نام نہیں کمایا تھا، سلطان راہی جنہوںنے اس فلم میں ہیرو کا کردار کیا تھا ، مو لا جٹ ان کی زند گی کا اہم مو ڑ ثا بت ہو ئی تھی۔ اس فلم کے بعد اسی طرز کے درجنوں فلمیں بنائی گئیں اور سب فلموں میں تقریباً سلطان راہی کا ایک ہی طرح کا کردار تھا، جبکہ ولن کا کردار ادا کرنے والے مصطفیٰ قریشی جو پہلے بھی ولن کا کردار ادا کرتے رہے تھے لیکن اس فلم میں نہ صرف ان کا کردار بڑا مشہور ہوا بلکہ ایک ڈائیلاگ’’نواں آیاں ایں سوہنیا‘‘ بڑا مقبول ہوا۔ دوسرے اداکاروں میں معروف کامیڈین رنگیلا اور آسیہ بھی قا بل ذکر ہیں۔ اس فلم نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ اس وقت باکس آفس پر اس فلم نے کروڑوں کا بزنس کیا۔ اس فلم کی ایک اور خاص بات ہیرو سلطان راہی کے ہاتھ میں دیا جانے والا ایک گنڈاسہ تھا اس خون آلود گنڈاسے نے ہمارے معاشرے میں ایک ایسا تشدد روشناس کرایا جو خاص طور پر ہمارے دیہاتی علاقوں میں آج بھی قائم ہے، گو کہ رائیٹرنے یہ کوشش کی کہ ہیرو کو اچھا پینٹ کرے لیکن جس طرح ہماری عادت ہے کہ ہم کسی کے اچھے بھلے نام میں بھی تھوڑا سا بگاڑ پید ا کر دیتے ہیں ،اسی طرح مولا جٹ کا اگر مثبت کردار تھا بھی تو اس نے ایک پرتشدد شخص کا کردار متعارف کراکے لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں کو مار دھاڑ کرکے زندگی میں آگے بڑھنے کی راہ دکھائی، پھر ہماری فلم انڈسٹری میں اس طرح کی فلمیں بننا شروع ہوگئیں ،جس میں ہیرو ،قانون اور پولیس کو بھی خاطر میں نہیں لاتا اور مار دھاڑ سے، بدمعاشی اور زور سے معاشرے میں اپنا حق لینے یا حق دلانے کی جدوجہد میں نظر آنے لگا۔اس سے ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ پنجاب کے کلچر پر میٹھے سروں سے سجی ہوئی فلموں اور اردو زبان کی روما نٹک اور تفریح لئے ہوئے فلموں کی جگہ پروڈیوسرز نے اپنا سرمایہ ان اردو یا ثقافت اور مٹی کی خوشبو لئے ہوئے فلموں کی بجائے باکس آفس پر ہاٹ کیک کی طرح پیسہ کمانے والی فلموں میں سرمایہ کاری کرنا شروع کردی اور لوگوں کے مزاج کو تبدیل کردیا۔ اکادکا فلمیں ضرور بنتیں رہیں جو فلم انڈسٹری کو سہارا دینے کی کوشش تھی لیکن فلم انڈسٹری اور سینمائوں کے ساتھ ساتھ معاشرے میں مولا جٹ چھاچکا تھا ، تفریح کے متلاشی یا تو انہی مولا جٹ فلموں کے اسیر ہوگئے یا بھارتی فلمیں چوری چھپے دیکھی جانے لگیں اور فلم انڈسٹری تباہ ہوگئی اور معاشرہ ’’اوے چھڈاں گا نہیں‘‘ کا شکار ہوگیا اور پھر ہم نے دیکھا کہ یہی مولا جٹ کا کلچر ہماری سیاست میں آگیا، بڑے بڑے جلسوں میں ایک دوسرے کو گالیاں دی جانے لگیں، الٹے سیدھے ناموں سے پکارا گیا سیاست دانوں کو بلو رانی اور نہ جانے کیا کیا نام دیئے گئے۔عوام نے شاہراہوں پر خودساختہ عدالتیں لگانا شروع کردیں، آتے جاتے غلطی سے ٹکرانے والے لوگ ایک دوسرے کے دست و گریباں ہونے لگے۔ مار دھاڑ سے بھرپور اور کھڑکی توڑ معاشرے نے ایسا جنم لیا کہ جرائم بھی بڑھنے لگے ۔میں یہ نہیں کہتا کہ ساری وجہ مولا جٹ کلچر ہی ہے لیکن ایک بڑی وجہ ضرور ہے۔ گزشتہ روز کے ایک تعلیمی ادارے میں ایک تقریب کے دوران اس وقت ایک مرتبہ پھر مولا جٹ کلچر دیکھنے میں آیا جب تعلیمی ادارے کے باہر کھڑے ہوئے سکیورٹی گارڈ کو مارنا شروع کردیا جس نے تعلیمی ادارے کے باہر نوجوانوں کو اندر جانے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ اندر سے مجھے منع کردیا گیا ہے اور میں مجبور ہوں، اس ادھیڑ عمر سکیورٹی گارڈ نے کچھ دیر تو ان لڑکوں کو روکے رکھا لیکن تھوڑی دیر میں ناراض لڑکوں نے پہلے دھکے دے کر اس سکیورٹی گارڈ کو ہٹانے کی کوشش کی لیکن بچوں کی بھوک اور زندگی کی ہچکولے کھاتی زندگی کی گاڑی کو چلاتے رہنے کیلئے یہ سکیورٹی گارڈ ان لڑکوں کے دھکوں اور گالیوں کو برداشت کرتا رہا اور پھر گھونسوں، لاتوں اور تھپڑوں نے اسے بیچارے سکیورٹی گارڈ کو چاروں شانے چت کردیا، کیا ہم اتنے بے حس ہوچکے ہیں یا ہمارے گھروں سے ہمیں اتنا درس بھی ملنا بند ہوگیا کہ ہم ایک بوڑھے غریب کو اس کے فرائض کی ادائیگی پر پیٹنا شروع کردیتے ہیں،یہ و ا قعہ لکھتے ہو ئے بس صرف آہ ہی نکل سکتی ہے ، صرف آہ ۔