| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
November 14, 2017 | 12:00 am
فاروق ستار پر اسٹبلشمنٹ کی نظر،میں ڈی جی رینجرز سے ملتا رہا،مصطفیٰ کمال

Todays Print

فاروق ستار پر اسٹبلشمنٹ کی نظر،میں ڈی جی رینجرز سے ملتا رہا،مصطفیٰ کمال

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئےپاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفٰی کمال نے کہا ہے کہ فاروق ستارکی 6ایف آئی آرکٹ چکی تھیں،فاروق ستارمیری پارٹی کودیگراداروں سےجوڑرہےہیں،فاروق ستار’’را‘‘کےایجنٹ کی باقیات ہیں،فاروق ستارمیری پارٹی کودیگراداروں سےٹیگ کررہےہیں،فاروق ستارہرمیٹنگ میں اتفاق کرکےپیچھےہٹ جاتےہیں،ہماری پریس کانفرنس کے2گھنٹےبعدفاروق ستارکہنےلگےپریشرہے،گورنرسندھ نےخودبتایاکہ فاروق ستارپردباؤہے،فاروق ستار پر اسٹبلشمنٹ کی نظر ہے،میں ڈی جی رینجرز سے ملتا رہا۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دنیا کی عدالتی تاریخ میں کبھی کسی عدالت نے کسی ملزم کو فیصلے میں برا بھلا نہیں کہا، ایساکوئی عدالتی فیصلہ نہیں پڑھاکہ ملزم کی ذاتی ساکھ پرتنقیدکی جائے۔پوری پارٹی نواز شریف کے پیچھے کھڑی ہے۔ماہر قانون جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کی سماعت کرنے والی بنچ میں جسٹس کھوسہ کا نام شامل کرنا رجسٹرار کی غلطی ہے، سپریم کورٹ کا بنچ بنانا چیف جسٹس کی صوابدید ہوتا ہے، یہ دیکھنا رجسٹرار کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ کسی بنچ کے سامنے جو کیس لگایا گیا ہے اس بنچ میں کسی جج نے کوئی ایسا فیصلہ تو نہیں کیا جو اسی کیس سے متعلق ہو، اس صورت میں رجسٹرار بنچ میں سے اس جج کو مائنس کرنے کیلئے نام دیدیتا ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ پاناما کیس میں خاص طور پر حدیبیہ کیس سے متعلق فائنڈنگز دے چکے ہیں۔

چیف جسٹس نے حدیبیہ کیس میں بنچ بنایا تو رجسٹرار کا کام تھا کہ فیصلے کو پڑھتا اور دیکھتا اس بنچ میں کسی جج نے حدیبیہ کیس سے متعلق تو کوئی بات نہیں کی، رجسٹرار کو اس حوالے سے فوراً اطلاع دینی چاہئے تھی تاکہ جسٹس کھوسہ اس بنچ میں نہیں بیٹھتے۔پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفٰی کمال نے کہا کہ فاروق ستار اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی نہیں تو میری طرح نام لے کر پریس کانفرنس کریں، عورتوں کی طرح رونا ، چوڑیاں توڑنا اور چیل کی طرح چِلانا درست نہیں ہے، ہماری پریس کانفرنس کے دو گھنٹے بعد فاروق ستار کہنے لگے دبائو ہے، گورنر سندھ کہتے ہیں انہیں فاروق ستار نے بتایا ان پر دبائو ہے،خواجہ سعد رفیق کو فون کر کے بتایا گیا ان پر کیا دبائو ہے، یہ سب مصطفٰی کمال کی پریس کانفرنس سے پہلے ہوا، فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں کہا انجینئرڈ پالیٹکس نہیں چلے گی۔

انہوں نے آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی کو جو خط لکھا وہ شجرکاری مہم کیلئے تو لکھا نہیں ہوگا، اخبارات میں ملاقاتوں کی پوری کہانی بیان کی گئی ہے، فیصل سبزواری نے ایک ایک بندے کو فون کر کے بریف کیا، وسیم اختر کو گورنر سندھ کے پاس بھیجا گیا۔ مصطفٰی کمال کا کہنا تھا کہ فاروق ستار ہر میٹنگ میں اتفاق کر کے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، بائیس اگست کو اے پی سی سے ایک دن پہلے فاروق ستار نے خود پر دبائو کی خبر جاری کی، بائیس اگست کو میں اے پی سی میں جانے کیلئے تیار تھا لیکن انہوں نے وہ منسوخ کردی، فاروق ستار کو مشترکہ پریس کانفرنس کرنے کے بجائے میڈیا کو سب دبائو کے بارے میں بتادینا چاہئے تھا۔فاروق ستار جھوٹ بول رہے ہیں جس کی وجہ سے مجھے سچ بولنا پڑا، فاروق ستار اداروں کو بدنام اور میری پارٹی کو اداروں کے ساتھ جوڑ رہے ہیں، فاروق ستار بائیس اگست 2016ء کو مجرم کے طور پر رینجرز ہیڈکوارٹر گئے صبح ایک پارٹی کے قائد بن کر نکلے۔

فاروق ستار بانی متحدہ کی باقیات ہیں، یہ سیاسی نہیں قومی سلامتی کا معاملہ ہے اس لئے اسٹیبلشمنٹ ان پر نظر رکھے ہوئے ہے، یہ بانی متحدہ کو زندہ کررہے ہیں اورمیئر کے ذریعے بانی متحدہ کو فنڈنگ کی جارہی ہے اس لئے اسٹیبلشمنٹ یہاں شامل ہے۔ مصطفٰی کمال نے کہا کہ میں سیاسی جماعت جبکہ فاروق ستار را کے ایجنٹ بانی متحدہ کی باقیات ہیں، جب بانی متحدہ پاکستان کو گالی بک رہے تھے تو فاروق ستار جی بھائی کررہے تھے، جب رینجرز کی ٹیمیں گرفتاری کیلئے روانہ ہوگئیں تو یہ پریس کانفرنس کرنے آئے، جب الطاف حسین پاکستان کو مردہ باد کہہ رہے تھے تو فاروق ستار پریس کلب پر ہی بیٹھے ہوئے تھے، اسٹیبلشمنٹ نے بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایم کیو ایم پر پابندی نہیں لگائی اور ’را‘ سے جڑی ہوئی پارٹی کے لوگوں کو چھوڑا، گورنر نے بائیس تاریخ کی رات کو انیس قائم خانی کو کال کی تھی کہ وہ چھڑوارہے ہیں، انہوں نے نام لیے تھے کہ کس کس سے بات ہوگئی ہے۔

انہوں نے ہمیں بھی کہا تھا کہ ہم جاکر جوائن کرلیں۔مصطفٰی کمال کا کہنا تھا کہ میں جنرل بلال پر الزام نہیں لگارہا حوالہ دے رہا ہوں، میرے اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہونے پر شبہات ہیں، فاروق ستار کو تو کیمرے کے سامنے اٹھاکر صاحب لے کر گئے اور صبح یہ ہیڈکوارٹر سے نکلے، ایم کیو ایم پر اسی دن پابندی لگادینی چاہئے تھی، فاروق ستار کو گرفتار نہیں کرتے لیکن ان کا مینڈیٹ واپس لے کر نیا مینڈیٹ لینے کا کہا جاتا، تین مہینے بعد الیکشن ہوتے یہ سب اسی طرح ایم این اے، ایم پی اے بن جاتے تو بانی متحدہ کا چیپٹر کلوز ہوجاتا، فاروق ستار کو ایک ٹی وی چینل پر حملے کرنے والی خواتین کی ویڈیوز دکھائی گئیں، مہاجروں کے اس لیڈر نے مہاجر عورتوں کی نشاندہی کی یہ کون کون ہیں۔

ان میں سے ایک ایک عورت پکڑی گئی ہے، مہاجر عورتوں کو پہلی دفعہ رینجرز نے گرفتار کیا ، عدالت لے کر گئی اور جیل بھیجا، فاروق ستار جہاں سے خود ڈرائی کلین ہورہے تھے وہاں سے ان عورتوں کو بھی ڈرائی کلین کروالیتے، فاروق ستار کی چھ ایف آئی آرز کٹ چکی تھیں، یہ ایف آئی آرز پر بند ہوجاتے تو سارا معاملہ ٹھیک ہوجاتا پھر عدالت فیصلہ کرتی، آپ نے رات کو گرفتار کر کے صبح بغیر کسی عدالت میں پیش کیے چھوڑ دیا، میرے صدر کو تو جھوٹے مقدمے میں نہیں چھوڑا گیا۔ مصطفٰی کمال کا کہنا تھا کہ بائیس اگست کو الطاف حسین کومہ میں چلا گیا تھا مگر انہیں دفن نہیں ہونے دیا گیا، فاروق ستار نے ڈیڑھ برسوں میں انہیں خون پلا کر زندہ کردیا ہے، الطاف حسین نے جتنی گالیاں بائیس اگست تک پاکستان کو دی تھیں اب اس سے زیادہ روزانہ بکتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ یا کوئی اور روڈ پر نہیں مارا جارہا میرے لوگ مارے جارہے ہیں، الطاف حسین کھڑا ہوگا تو وہ خون پئے گا، وہ را کا ایجنٹ ہے میرے بچوں کا خون پئے گا۔

مصطفٰی کمال نے کہا کہ میری وطن واپسی کے وقت اسٹیبلشمنٹ نے کوئی یقین دہانی نہیں کروائی تھی، اسٹیبلشمنٹ میرے ارادوں کے بارے میں نہیں جانتی تھی۔ ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر سے رابطے کے سوال پر مصطفٰی کمال کا کہنا تھا کہ میں نے اور انیس قائم خانی نے جس طرح ’را‘ کے ایجنٹ کو چیلنج کیا،کون کہہ سکتا ہے کہ میں نے یہاں آواز لگائی اور پاکستان کی حکومت اور اداروں کو جس طرح مجھے سپورٹ کرنی چاہئے تھی اس طرح سپورٹ نہیں کی، بانی متحدہ کیخلاف آواز لگانے پر میرے ساتھ حکومت اور اداروں کے لوگ کیوں نہیں آئیں گے، ہم نے بغیر کسی معاوضے یا ستائش کے آواز لگائی۔

میں ڈی جی رینجرز سے ملتا تھا، میں پریس کانفرنس کر کے اور فائلیں دکھا کر ڈی جی رینجرز سے ملنے گیا ہوں اور واپس آنے کے بعد دوبارہ پریس کانفرنس کی کہ ایم کیو ایم کے اتنے لوگوں کی لسٹ میں دے کر آیا ہوں اس کے بعد لوگ چھوٹنا شروع ہوئے، مجھ سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بات نہیں کرتا لیکن میں ان کا ایجنٹ نہیں ہوں، تین سو لاپتہ افراد کی باتیں عبدالستار ایدھی سے تو نہیں کروں گا اسٹیبلشمنٹ سے ہی کروں گا، میں اسٹیبلشمنٹ کے ہر دروازے پر دستک دیتا ہوں۔مصطفٰی کمال نے بتایا کہ میرا جنرل راحیل شریف سے کوئی رابطہ نہیں تھا، مجھے ملک میں واپس آئے ڈیڑھ پونے دو سال ہوگئے ہیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے نئے سیٹ اپ کو ایک سال ہوگیا ہے، پرانے سیٹ اپ کے زمانے میں میرا صدر گرفتار ہوا اور چار مہینے جیل میں رہنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوا، کراچی ، حیدرآباد اور میرپور خاص میں جہاں جارہا تھا لوگ مجھے مار رہے تھے، اگر پرانا سیٹ اپ میرے ساتھ تھا تو مجھے کیوں نہیں بچایا، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال سے میری درجنوں میٹنگیں ہوئی ہیں۔

میں جن ستر افراد کی بات کرتا ہوں اس میں زیادہ تر لوگوں کو بلال صاحب نے رعایت دی، میں نے سمجھایا کہ ان کے پکڑے جانے سے الطاف حسین کو فائدہ ہے ، میرے جنرل بلال اکبر سے بہت اچھے تعلقات تھے ، ہم دونوں کھل کر بات کرتے تھے۔ مصطفٰی کمال نے کہا کہ جب مجھے گولی پڑجائے گی تب ہی لوگوں کو یقین آئے گا کہ میں اسٹیبلشمنٹ کا آدمی نہیں ہوں، ایم کیو ایم پاکستان سیاسی جماعت نہیں قومی سلامتی کا ایشو ہے، اس میں الطاف حسین کے لوگ ہیں، ایم کیو ایم پاکستان بانی متحدہ کے قبیلے پر ہی مشتمل ہے، پی ایس پی میں شامل لوگ واضح ذہن کے ساتھ ہیں، ہم نے الطاف حسین اور را کے خلاف واضح موقف اپنا رکھا ہے، جہاں بھی قومی سلامتی کا مسئلہ ہوگا اسٹیبلشمنٹ وہاں مداخلت کرے گی، فاروق ستار نے غلط اندازہ لگایا کہ مصطفٰی کمال کبھی اسٹیبلشمنٹ کا نام نہیں لے گا، اگر کوئی زیادہ جھوٹ بولتا ہے تو مجھے سچ بولنا پڑجاتا ہے۔ مصطفٰی کمال نے کہا کہایم کیو ایم پاکستان سے ہمارا پہلے بھی براہ راست رابطہ تھا۔

ابھی بھی ہے اور آئندہ بھی براہ راست رابطہ ہوگا، فاروق ستار سے یہی گلہ ہے اگر انہیں میری پریس کانفرنس سمجھ نہیں آئی تھی تو پہلے کی طرح کال کرلیتے، میں ان کے پاس جاکر پوچھ لیتا کون سی بات غلط ہوگئی، فاروق ستار کویہ سارا ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی، فاروق ستار نے مقتدر شخصیات کو جو خط لکھا وہ قوم کے سامنے لائیں، فاروق ستار نے اکیلے میں مجھ سے اور انیس قائم خانی سے جو باتیں کیں پھر وہ آنا شروع ہوں گی۔وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ن لیگ نواز شریف کے موقف سے مکمل اتفاق رکھتی ہے، پوری پارٹی نواز شریف کے پیچھے کھڑی ہے، نواز شریف نے اسلام آباد سے لاہور کے سفر میں جو بیانیہ دیا وہی پارٹی کا بیانیہ ہے، اس بیانیہ سے جو پیچھے ہٹے گا وہ پارٹی سے فارغ ہوجائے گا، نواز شریف کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی اسے نواز شریف اور شہباز شریف دونوں برا سمجھتے تھے۔

ایک کا خیال تھا اس ناانصافی کیخلاف آواز اٹھانی چاہئے جبکہ دوسرے کا خیال تھا کہ اسے دل سے برا سمجھنا چاہئے، کچھ ناانصافی اور تجاوزات اٹھائیس جولائی سے پہلے بھی ہورہے تھے جن کی نشاندہی اب کی گئی ہے، نواز شریف بھی ایک وقت تک ان چیزوں کو دل سے برا سمجھتے رہے لیکن اظہار نہیں کیا اب وہ اظہار بھی کررہے ہیں، پارٹی میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو اس ناانصافی کو ناانصافی نہ سمجھے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی قیادت نواز شریف ہی کریں گے۔

نواز شریف سے جان چھڑائی گئی تو پارٹی کی جان نکل جائے گی، ن لیگ کی عوامی رابطہ مہم کا انیس تاریخ سے آغاز ہونے جارہا ہے، دنیا کی عدالتی تاریخ میں کبھی کسی عدالت نے کسی ملزم کو فیصلے میں برا بھلا نہیں کہا، ایسا کوئی عدالتی فیصلہ نہیں پڑھا جس میں ملزم کی ذاتی ساکھ پر تنقید کی جائے، یہ عجیب فیصلہ ہے جس میں گاڈ فادر اور سسلین مافیا تک کہا گیا، اس قسم کی بات کا جواب دینا یا احتجاج کرنا مزاحمت نہیں ہے، دھرنااول سے لاک ڈائون اور پاناما سے اقامہ اور نظرثانی اپیل کے فیصلے تک ہر نکتے کا جائزہ لیں گے، عوام کو ساری صورتحال سمجھائیں گے جس پر عوام فیصلہ کریں گے۔

میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصطفٰی کمال اور فاروق ستار کی پریس کانفرنس سے شروع ہونے والی بات ختم ہو کر نہیں دے رہی ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ ن لیگ آئندہ انتخابات میں کس ایجنڈے کے ساتھ میدان میں اترے گی، محاذ آرائی کی سیاست کرے گی یا صرف سخت بیانات تک ہی محدود رہے گی، پارٹی قیادت کی رائے میں بڑی تبدیلی آتی دکھائی دے رہی ہے،پیر کو بھی نواز شریف کی قیادت میں ن لیگ کی مرکزی قیادت کا مشاورتی اجلاس ہوا، پانچ گھنٹے کی طویل مشاورت کے بعد ن لیگ نے مستقبل کی سیاست کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں، ایک دفعہ پھر کہا گیا کہ مائنس نواز کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، ذرائع کے مطابق عوامی رابطہ مہم چلائے گی، کیا نواز شریف جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع کرنے والے ہیں۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس کھلنے کا معاملہ آتے ہی حمزہ شہباز کا بیان سامنے آیا کہ یکطرفہ احتساب نہیں ہونا چاہئے اور یہ ہورہا ہے، کچھ دن پہلے حمزہ شہباز اپنے تایا نواز شریف اور مریم نواز کو نصیحت کررہے تھے کہ معاملات ہوتے رہتے ہیں آگے بڑھیں او ر 2018ء پر فوکس کریں مگر اب وہ بھی کہہ رہے ہیں یکطرفہ احتساب ہورہا ہے۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کی سماعت کیلئے بننے والا بنچ پہلی سماعت پر ہی ٹوٹ گیا۔

بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نیب کی اپیل سننے سے معذرت کرلی، جسٹس کھوسہ نے سماعت کے آغاز میں ہی ریمارکس دیئے کہ میرے بنچ کے سامنے حدیبیہ کیس مقرر کرنا رجسٹرار آفس کی غلطی ہے، معلوم ہوتا ہے رجسٹرار آفس نے پاناما کیس میں میرا فیصلہ نہیں پڑھا، میرے سامنے کیس آفس کی غلطی سے لگ گیا ہے، بیس اپریل کو پاناما فیصلے میں حدیبیہ پیپر ملز کیس کے حوالے سے چودہ پیراگراف لکھے تھے، نیب کو حدیبیہ کیس کے معاملہ میں کارروائی کا حکم دے چکا ہوں، اسحاق ڈار کی حد تک تو فیصلہ بھی دے چکا ہوں، جسٹس کھوسہ کی جانب سے معذرت کے بعد اپیل پر سماعت کیلئے بنچ دوبارہ تشکیل دینے کا معاملہ واپس چیف جسٹس کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔