| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
محمد سعید اظہر
November 15, 2017 | 12:00 am
یوم تاسیس، ڈاکٹر مبشر حسن ! تاریخ آپ کی شکر گزار ہے

Youm E Tasees Doctor Mubashir Hassan Tareekh Aap Ki Shukar Guzaar Hain

30؍ نومبر اور یکم دسمبر 1967ء کو منعقدہ دو روزہ کنونشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی تاسیس کے حوالے سے اعلان کردہ اس دو روزہ کنونشن کے باعث ایوب حکومت نے لاہور ضلع اور لاہور شہر میں دفعہ 144کا نفاذ کر دیا، کسی عوامی جگہ پر اجتماعی مجمع پر اس پابندی کے سبب، یہ دو روزہ کنونشن ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ، 4۔ کے گلبرگ کے پائیں باغ میں ایک شامیانہ لگا کر منعقد کیا گیا۔ اس تاریخی موقع پر کنونشن کی جانب سے ملک حامد سرفراز نے ڈاکٹر مبشر حسن کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل لمحات میں نہ صرف اعلیٰ معیار کی ذاتی میزبانی دکھلائی، ہر قسم کے حالات کے دبائو کا بھی پوری خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔ دونوں دن ذوالفقار علی بھٹو نے پارٹی چیئرمین کی حیثیت سے کنونشن کی صدارت کی۔
پارٹی کا حتمی نام طے کرنے کے سلسلے میں شرکائے اجتماع کے سامنے تین نام پیش کئے گئے۔
(1)پیپلز پروگریسو پارٹی (پی پی پی)
(2)پیپلز پارٹی (پی پی)
(3)سوشلسٹ پارٹی آف پاکستان (ایس پی پی)
کنونشن کی جانب سے تینوں نام مسترد کر دیئے گئے، اتفاق رائے سے نئی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے معرض وجود میں آئی۔
مجوزہ کنونشن میں پورے ملک سے شرکائے وفود کے نام رجسٹر کرنے کے بعد 30؍ نومبر 1967کی صبح کا پہلا اجلاس چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی صدارت میں شروع ہوا۔ مولوی محمد سعد نے تلاوت قرآن پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ اس تاریخی مرحلے کی آمد پر اسلم گورداسپوری اور ڈاکٹر حلیم رضا نے اپنی اپنی نظمیں پڑھیں۔
ابتدائی کلمات میں ملک حامد سرفراز نے ان مشکلات اور رکاوٹوں کی تفصیل بیان کی جن کے سائے میں یہ دو روزہ کنونشن عمل پذیر ہوا، ایوب حکومت نے ہر لحاظ سے اسے ناکام کرنے کی کوشش کی، مشرقی پاکستان میں ملک امیر محمد خان گورنر مغربی پاکستان کے قتل کے بناء پر کنونشن کے منسوخ کئے جانے کی افواہیں پھیلائی گئیں، سندھ اور بلوچستان سے شرکت کے لئے آمادہ لوگوں کو بھی دھمکایا گیا، بہرحال ایوب حکومت کی ان تمام مذموم کارروائیوں کے علی الرغم مغربی پاکستان کے ہر حصے کی نمائندگی کنونشن میں موجود تھی، ان میں سے متعدد حضرات قیام پاکستان کی تاریخی جدوجہد میں شامل رہے تھے، اب پاکستانی عوام کے بنیادی حقوق اور بہتر معیار زندگی کی منزل پانے کے لئے ایک بار پھر پا بہ رکاب تھے۔
ملک حامد سرفراز نے 30؍ نومبر 1967ء کی صبح تشکیل دی جا رہی تاریخ میں شامل چیدہ چیدہ شریک کرداروں کا بھی ذکر کیا، اس تاسیسی اجلاس میں موجود ان ناموں کو ریکارڈ پر رکھتے چلیں۔ آج کی پیپلز پارٹی اور آج کے عوام کو ان ناموں کی صدائے بازگشت پیپلز پارٹی کے مقام و مرتبہ کا ادراک کرانے کا لازمی تقاضا ہے۔
یہ شخصیات تھیں :(1) میر رسول بخش تالپور، (2) شیخ محمد رشید، (3) مسٹر جے اے رحیم، (4) بیگم آباد احمد خان (5) کامریڈ غلام احمد، (6) خان محمد حیات خان، (7) مسٹر پیر بخش بھٹو، (8) میر حامد حسین، (9) مسٹر اے ڈبلیو کپڑ، (10) مسٹر نثار احمد خان، (11) مسٹر معراج محمد خان، (12) مسٹر خورشید حسن میر، (13) مسٹر عبدالرزاق سومرو، (14) مسٹر شوکت علی جونیجو، (15) مسٹر غازی قدرت اللہ، (16) مولوی محمد یحییٰ، (17) میاں محمد اسلم، (18) مسٹر مرتضیٰ کھر، (19) مسٹر محمد امان اللہ خان، (20) راجہ منور احمد، (21) ملک محمد پرویز (22) مسٹر فاروق بیدار، (23) مسٹر احمد رضا خان، (24) مسٹر عبدالرحمان، (25) ملک نوید احمد، (26) مسٹر محمد احسان۔
کنونشن کے شرکائے وفود میں سے بعض حضرات کو اس سے خطاب کی دعوت بھی دی گئی۔
اجلاس کی دوسری نشست ساڑھے تین بجے شروع ہوئی، آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، صدارت پارٹی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے کی، ان کی اجازت اور تصدیق سے اس نشست میں مختلف مقاصد پر مشتمل چار کمیٹیاں بنائی گئیں۔
تفصیل درج ذیل ہے۔
(1) اسٹیرنگ کمیٹی (Steering Committee)یعنی قیادت و رہنمائی کا فریضہ ارکان:۔
-1مسٹر زید اے بھٹو چیئرمین (2) ملک شریف (3) ڈاکٹر مبشر حسن (4) ملک اسلم حیات (5) مسٹر عبدالرزاق سومرو (6) حکیم عبدالطیف (7) مسٹر الٰہی بخش خان (8) مسٹر میاں محمد اسلم (9) مسٹر محمد صفدر (10) مسٹر آفتاب ربانی
(2) آئینی کمیٹی (Constitution Committee)یعنی بہ سلسلہ پارٹی آئین اور طریق کار! ارکان:(1) مسٹر زید اے بھٹو چیئرمین (2) مسٹر جے اے رحیم (3) مسٹر خورشید حسن میر (4) ملک اسلم حیات (5) ملک حامد سرفراز (6) مسٹر اے ڈبلیو کپڑ (7) مسٹر ریاض الحق (8) مسٹر محمد عرس (9) مسٹر سعد محمد خان (10) میر محمد حسین (11) مسٹر شوکت علی لودھی (12) مسٹر اقبال احمد۔
(3) قرار داد کمیٹی (Resolutions Committee)یعنی قراردادوں کا تعین اور پیش کرنا۔
ارکان:۔ (1) مسٹر زیڈ اے بھٹو، چیئرمین (2) مسٹر جے اے رحیم (3) میر رسول بخش تالپور (4) ملک حامد سرفراز (5) ڈاکٹر مبشر حسن (6) شیخ محمد رشید (7) مسٹر معراج محمد خان (8) بیگم آباد احمد خان (9) مسٹر خورشید حسن میر (10) مسٹر محمد حیات خان۔
(4) اعلامیہ کمیٹی (Draft Declaration Committe)یعنی کنونشن کے اختتام پر متوقع اعلامیہ کی تیاری!
ارکان:۔ (1) مسٹر ذوالفقار علی بھٹو، چیئرمین (2) مسٹر جے اے رحیم (3) ملک حامد سرفراز (4) مسٹر شوکت خان جونیجو (5) مسٹر مرتضیٰ کھر (6) مسٹر احمد رضا خان (7) مسٹر حق نواز گنڈا پور (8) مسٹر جہانگیر خان (9) مسٹر فتح محمد جاگیردار (10) مسٹر امداد حسین جمالی (11) مسٹر احمد دہلوی۔
یکم دسمبر 1967کی صبح دس بجے، ذوالفقار علی بھٹو کی صدارت میں کنونشن کا تیسراجلاس منعقد ہوا۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت مولوی غازی قدرت اللہ کو نصیب ہوئی، مسٹر اسلم گورداسپوری اور ڈاکٹر حلیم رضا نے اس اجلاس میں اپنی نظمیں سنائیں، ملک حامد سرفراز نے کمیٹیوں کی روشنی میں مختلف قراردادیں پیش کیں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو نے اردو میں مختصر خطاب کیا، بعد ازاں ملک حامد سرفراز نے شرکائے کنونشن کااپنے الوداعی خطاب میں شکریہ ادا کیا۔
چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو اس تاریخی موڑ پر ملک اسلم حیات نے سپاسنامہ پیش کیا۔ کنونشن میں بھٹو صاحب کی ناقابل فراموش تقریر کے چند جملوں پر اکتفاء کرتے ہیں۔ بھٹو صاحب نے کہا تھا:’’میں اکثر اس امر پر حیران ہوتا ہوں کہ ہم آخر اتنی غیر یقینی صورتحال ہی میں ہمیشہ کیوں رہتے ہیں، کیا یہ قدرت نے ہماری تقدیر میں لکھ دیا ہے؟ آیئے، ہم دوسرے ممالک پر ایک نظر ڈال لیں، ان میں سے متعدد ملکوں کو بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہونا پڑا اور ان میں سے اکثر اپنے ان مسائل کو کامیابی سے حل کر چکے ہیں جس کے بعد انہوں نے مختلف ارتقائی مراحل کی جانب توجہ کی جبکہ ہم آج بھی کم و بیش وہیں کھڑے ہیں جہاں 20برس پہلے (1967اور1947) کے مابین 20برس ہی بنتے ہیں) ایک سنسنی خیز تجسس کے عالم میں تھے آج بھی وہیں ہیں (آہ! یہ سنسنی خیز تجسس 2017ء میں بھی ہمارے مقدرات پر مسلط ہے)
سنا ہے، سنا کیا پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر ترین دانشور خالد چوہدری نے مجھے بتایا یوم تاسیس شاید اسلام آباد میں منایا جا رہا ہے؟ اگر ایسا ہوا تب یہ تاریخ کے سامنے گستاخی ہو گی، پورے 50برس کے طویل جنم کی نفی ہو گی، ہونا تو یہ چاہئے تھا، پی پی کی ساری قیادت ڈاکٹر مبشر حسن کی خدمت میں حاضر ہو کر اعترافی اعلان کرتی ’’ڈاکٹر صاحب! تاریخ آپ کی شکر گزار ہے!‘‘