| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
November 15, 2017 | 12:00 am
تین ریفرنسز میں مشترکہ فرد جرم عائد کرنے سے متعلق دائردرخواست پر نیب کو پری ایڈمیشن نوٹس جاری کرنے کا حکم

Todays Print

تین ریفرنسز میں مشترکہ فرد جرم عائد کرنے سے متعلق دائردرخواست پر نیب کو پری ایڈمیشن نوٹس جاری کرنے کا حکم

اسلام آباد (نمائندہ جنگ‘ایجنسیاں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے تین ریفرنسز میں مشترکہ فرد جرم عائد کرنے سے متعلق دائردرخواست پر نیب کو پری ایڈمیشن نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی جبکہ ریفرنسز پر کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔ اس موقع پر نوازشریف کے وکیل نے عدالت سے استدعاکی کہ اگر دوریفرنسز کو بھی یکجاکردیاجائے تب بھی مطمئن ہیں۔ احتساب عدالت دو مرتبہ مذکورہ درخواستیں مسترد کر چکی ہے، نواز شریف نے احتساب عدالت کی جانب سے تینوں ریفر نسز کی مشترکہ فرد جرم عائد کرنے کی درخواست مسترد کرنے کے 8 نومبر کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ قبل ازیں عدالت عالیہ نے اسی حوالے سے 19 اکتوبر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے احتساب عدالت کو قانون کے مطابق ان درخواستوں کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم احتساب عدالت نے 8 نومبر کو دوبارہ یہ درخو ا ستیں مسترد کر دیں۔

احتساب عدالت کے 8 نومبر کے فیصلے کیخلاف سابق وزیر اعظم نے منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کیں جن کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈو یژ ن بنچ نے کی، دوران سماعت نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے موقف اختیار کیا کہ احتساب عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں درج نکات کو زیر غور نہیں لایا اور جلد بازی میں فیصلہ سنا دیا، انہوں نے استدعا کی کہ تینوں ریفرنسز میں مشترکہ فرد جرم عائد کرنے کے حوالے سے درخواستوں کو مسترد کرنے کا احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور ان ریفرنسز میں احتساب عدالت میں جاری کارروائی روکی جائے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ نے سپریم کورٹ میں کیا درخواست دائر کر رکھی ہے؟ اس پر اعظم تارڑ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی درخواست اس عدالت میں دی گئی درخواست سے مختلف ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ اس درخواست کے ذریعے بھی تو ایک ہی ٹرائل مانگ رہے ہیں اور سپریم کورٹ سے بھی ایسا ہی ریلیف مانگا گیا ہے۔

اعظم تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں تو نیب کو ایک ریفرنس دائر کرنے کا حکم دینے کی درخواست دی ہے اور وہ درخواست کل جمعرات کو اعتراضات دور کرنے کیلئے مقرر ہے، سپریم کورٹ میں تو وسیع ریلیف مانگا ہے یہاں آٹے میں نمک کے برابر ریلیف مانگنے آئے ہیں۔ اعظم تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ درخواست گزار کیخلاف فلیگ شپ انوسٹمنٹ اور العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنسز میں 9 میں سے 6 گواہ مشترک ہیں ، اگر ان دو ریفرنسز کو یکجا کر دیا جائے تب بھی ہم مطمئن ہیں ، ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کو بے شک الگ چلایا جائے مگر ریفرنسز پر ٹرائل کے بعد فیصلہ ایک ہی روز سنایا جائے۔ ابتدائی دلائل سننے کے بعد فاضل عدالت نے مذکورہ احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت 20 نومبر تک ملتوی کر دی۔