| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
November 15, 2017 | 12:00 am
بھارت نے سی پیک کیخلاف 55 ارب روپےرکھے، ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے، جنرل زبیر

Todays Print

بھارت نے سی پیک کیخلاف 55 ارب روپےرکھے، ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے، جنرل زبیر

اسلام آباد (نمائندہ جنگ‘ایجنسیاں )پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کے خلاف مختلف سطحوں پر سازشیں جاری ہیں ‘بھارت کی خفیہ ایجنسی "را" نے اس منصوبے کو نقصان پہنچانے کے لیے 50 کروڑ ڈالرز (تقریبا55ارب روپے )کی رقم مختص کررکھی ہے ۔ جارحیت اور منفی عزائم کے علاوہ بھارت نے پاکستان کے خلاف جو روایتی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے وہ کسی بھی وقت بڑی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے‘ خطرہ موجود ہے‘ پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ مگردفاع سے غافل نہیں ہےجبکہ بھارت میں متعین سابق ہائی کمشنر عبد البا سط نے کہاہے کہ انڈیاخطے کو غیر مستحکم کر رہا ہے ‘ سینیٹر مشاہدحسین سیدکا کہنا تھاکہ جنوبی ایشیائی خطے کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اسلام آبادمیں دوروزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کو ئی بائی پاس نہیں ہے ،امن کا راستہ کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے ،بھارتی رویہ کسی بھی وقت بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، آگ اور پانی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ بھارت آگ سے کھیل رہا ہے اور بلو چستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ بھار ت سے بہتر تعلقات کا راستہ کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے جس کا کوئی بائی پاس نہیں ہے‘مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی جنوبی ایشیا میں دیرپا امن قائم ہوسکتا ہے ۔جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ خطے میں استحکام تمام فریقین خصوصاً بااثر عالمی و علاقائی قوتوں کے متوازن اور حقیقت پر مبنی رویوں سے ہی ممکن ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انڈیامقبوضہ کشمیر میں جارحانہ کاروائیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے مخاصمانہ حکمت عملی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہتھیاروں سے متعلق بھارتی سرگرمیاں بھی جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک استحکام کے لیے خطرہ ہیں جبکہ پاکستان اپنی کم سے کم دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ وہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے‘ اُن کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر بدستور جوہری جنگ کے خطرات کا پیش خیمہ ہے‘ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم اور پاکستان کی جانب جنگی ہیجان واضح طور پر پاکستان کے خلاف بھارت کے جنگی عزائم کی مثال ہیں‘ انہوں نے کہا کہ ہر 20 کشمیریوں پر ایک فوجی ہے۔ جنرل زبیرمحمودحیات کا کہنا تھاکہ پاکستان اپنی ذمہ داریوں سےآگاہ ہے لیکن اپنے دفاع سے بھی غافل نہیں ہے.

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے کہا کہ بھارت میں انتہا پسندی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور اب بھارت سیکولر سے ایک انتہا پسند ہندو ملک بن چکا ہےاورپاکستان سے روایتی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے جس کی ایک اہم مثال سرجیکل اسٹرائیک جیسے شوشے چھوڑنا ہے بھارت نے 1200 سے زیادہ مرتبہ فائربندی کی خلاف ورزیاں کیں‘بھارتی فوجیوں نے پاکستان کے ایک ہزار شہری اور 300 فوجی شہید کیے بھارت کا یہ جارحانہ رویہ کسی وقت بھی بڑی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے ۔ جنرل زبیر محمود کا کہنا تھا کہ بھارت ٹی ٹی پی‘ بلوچ علیحدگی پسندوں اور "را" کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرارہا ہے ۔وہ پاکستان کے آبی منصوبوں کے خلاف سازشیں کررہا ہے‘ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے تاہم بھارت خون بہاکر ایسا کررہا ہے اور جنوبی ایشیا کے امن سے کھیل رہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ غیر ریاستی عناصر کے ذریعے جنوبی ایشیا کو عدم استحکام کا شکار کیا جارہا ہے‘ اس وقت جنوبی ایشیا کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جن میں بھارت کا کولڈ اسٹارٹ اور پروایکٹو ڈاکٹرائن ، بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم شامل ہیں۔