| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
November 15, 2017 | 12:00 am
اسلام آباد ہائیکورٹ، انتخابی اصلاحات ایکٹ، ختم نبوت حلف نامے سے متعلق شق معطل

Todays Print

اسلام آباد ہائیکورٹ، انتخابی اصلاحات ایکٹ، ختم نبوت حلف نامے سے متعلق شق معطل

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء کی عقیدہ ختم نبوت سے متعلق شق 241 کو آئندہ سماعت تک معطل کرتے ہوئے فریقین سے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔ مذکورہ شق کی معطلی کے بعد گزشتہ تمام انتخابی قوانین میں عقیدہ ختم نیوت سے متعلق شقیں عارضی طور پر بحال ہو گئی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017ء میں چونکہ امیدواروں کے حلف نامے میں کی گئی ترمیم کو واپس لیا جا چکا ہے لہٰذا حلف نامے کی حد تک اس حکم نامے کا اطلاق نہیں ہو گا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے عدالتی معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی ہے اور راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں کمیٹی کی رپورٹ سربمہر لفافے میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

فاضل جسٹس نے قرار دیا ہے کہ بادی النظر میں الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 241 میں ترمیم مینڈیٹ اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔ مولانا اللہ وسایا کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت گزشتہ روز ہوئی تو درخواست گزار کی جانب سے حافظ عرفات احمد چوہدری اور کاشف نیاز اعوان پیش ہوئے۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ پاکستان میں انتخابات کے حوالے سے 8 مختلف قوانین موجود تھے جنہیں حکومت نے ختم کر کے الیکشن ایکٹ 2017ء منظور کر لیا اور 2018ء کے الیکشن اس نئے قانون کے تحت کرائے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نیا قانون بناتے وقت پچھلے تمام انتخابی قوانین منسوخ کر دئیے اور ان قوانین میں عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے جتنی شقیں موجود تھیں وہ الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 241 کے تحت منسوخ کر دی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین پاکستان میں عقیدہ ختم نبوت کا معاملہ واضح کر دیا گیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے اسے چھیڑا ہے، الیکشن ایکٹ 2017ء میں تمام پرانے انتخابی قوانین میں موجودہ عقیدہ ختم نبوت سے متعلق شقیں شامل کرنی چاہئیں تھیں۔

حافظ یاسر عرفات ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ 2 اکتوبر 2017ء کو حیرت انگیز طور پر پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ 2017ء کو منظور کیا جس میں قادیاتی لاہوری گروپ کو غیر مسلم قرار دینے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 260 پر بھی اثر پڑا، عوام کے پرزور اصرار پر پارلیمنٹ نے 19 اکتوبر کو اس حوالے سے کی گئی ترمیم کو واپس لے لیا اور کنڈکٹ آف جنرل الیکشن آرڈر 2002ء کی دفعات 7B اور 7C کو بحال کر دیا گیا جبکہ باقی ترامیم واپس نہیں لی گئیں۔ وزیر اعظم پاکستان نے معاملے کی تحقیقات کیلئے راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق سے متعلق کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا ہے لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت سے متعلق الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 241 کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔

ابتدائی دلائل سننے کے بعد فاضل عدالت نے وفاق، وزارت قانون، وزارت داخلہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے، عدالت نے راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں کمیٹی کی سربمہر رپورٹ بھی طلب کر لی ہے اور اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کیلئے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔