| |
Home Page
جمعہ 26 ربیع الاوّل 1439ھ 15 دسمبر2017ء
سہیل وڑائچ
November 18, 2017 | 12:00 am
Forgive and Forget

Forgive And Forget

پاکستان کے سیاسی حالات اور معاشرتی صورتحال پر منیر نیازی نے یہ الہامی شعر کہا تھا
منیراس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کی نااہلی کے بعد ہم ایک بار پھر دائروں میں سفر کرتے ہوئے لگتے ہیں۔ ظاہر ہے ریاست ایسے نہیں چلتی۔ تاریخ دیکھیں تو اقوام عروج و زوال سے گزرتی ہیں حادثات، سانحے، خوشیاں اور غم سب ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ سیاستدانوں کو بھی نشیب و فراز سے گزرنا پڑتا ہے ان کے ساتھ زیادتیاں ہوتی ہیں، جیلوں میں جانا پڑتا ہے، دکھ اور درد جھیلنا پڑتے ہیں، مشکلات کے دریا پار کرنے ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود انہیں غصہ، انتقام اور انا سے بچنا ہوتا ہے۔ 27سال جیل کاٹنے والے نیلسن منڈیلا نے ملک کو آگے چلانے کا حل ان تین لفظوں میں دیا Forgive and Forgetیعنی معاف کرو اور بھول جائو۔ غصہ پالنے، انتقام لینے یا انا میں ڈوبنے سے ملکوں کا راستہ کھوٹا ہوتا ہے ۔یاد رکھیے’’معاف کرو اور بھول جائو‘‘ ہی قوم کے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
بے نظیر بھٹو کے والد ذوالفقار علی بھٹو جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے ان کا تختہ الٹا اور پھر بغاوت کے جرم میں سزا سے بچنے کے لئے بھٹو کو پھانسی چڑھا دیا۔ عدلیہ اور فوج کے دو مقدس اداروں کو سیاسی انتقام کے لئے استعمال کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو کو کبھی سکھر جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں اور کبھی قید تنہائی کی اذیت۔ مگر جب 1988ء میں وہ جیت کر وزیراعظم بنیں تو عدلیہ اور فوج کے کردار کی تلخ یادوں کے باوجود انہوں نے برداشت کی پالیسی اپنائی کسی ایک جرنیل یا جج سے اس کے ماضی کے کردار پر بازپرس نہیں کی گئی حتیٰ کہ بھٹو کو پھانسی دینے والے بنچ کے ایک رکن جسٹس نسیم حسن شاہ، محترمہ بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان بھی رہے۔ جنرل حمید گل نے آئی جے آئی بنوائی مگر محترمہ اس کے باوجود ان سے میٹنگز کرتی رہیں۔ پھر جنرل مشرف کے دور میں جب محترمہ واپس پاکستان آنا چاہتی تھیں تو طالبان اور القاعدہ نے انہیں دھمکیاں بھیجنی شروع کر دیں محترمہ نے جواباً امن کا سفید جھنڈا لہرایا اور ’’مفاہمت‘‘ کے نام سے ایک لمبی چوڑی کتاب لکھ ڈالی جس میں معاف کرو اور بھول جائو کے فلسفے کے تحت لڑائی کی بجائے بقائے باہمی کے حق میں دلائل دیئے۔ امن کی اس فاختہ اور صبر و برداشت کی اس آبرو کو جب دن دیہاڑے سڑک پر مار دیا گیا تو اس کے وہی مخالف جو اس کو غدار اور ’’سیکورٹی رسک‘‘ کہہ کر اس کے گرد گھیرا تنگ کرتے رہے تھے پھولوں کی چادریں بھجوانے پر مجبور ہو گئے۔ معاف کرنا اور بھولنا ہی قوموں کو آگے لے جاتا ہے وگرنہ انتقام، لڑائی اور غصے سے سفر رائیگاں جاتا ہے۔ نواز شریف کا اپنی نااہلی کے بعد ایک ادارے کی جانبداری اور دوسرے ادارے کی خاموش پشت پناہی کا الزام تینوں فریقوں کو بند گلی کی طرف لے جا رہا ہے۔ آپ اسے محاذ آرائی کہہ لیں یا نواز شریف کی طرف سے اپنی عزت بحال کرنے کا واحد راستہ، دونوں صورتوں میں ملک کے سیاسی نظام میں عدم استحکام رہے گا اس سے بچنے کا واحد طریقہ Forgive and Forgetہے۔
جنوبی افریقہ میں نسلی تعصب کے خلاف ’’لانگ واک ٹو فریڈم‘‘ لکھنے والے نیلسن منڈیلا سفید فام اقلیت کے تعصب اور زیادتیوں کا شکار رہے۔ 27سال تک جیل میں رہے مگر غصہ، بغض اور نفرت کو اپنے دل میں جگہ نہ دی بلکہ ’’بھولو اور معاف کرو‘‘ کی پالیسی کو اپناتے ہوئے Truth and Reconciliation Commissionبنایا تاکہ ماضی کی غلطیوں کا اندازہ لگایا جائے اور مستقبل کا راستہ تلاش کیا جائے۔ یاد رہے کہ محترمہ اور میاں صاحب کے درمیان ہونے والے میثاقِ جمہوریت نے بھی مفاہمت کے اسی جذبے کے تحت جنم لیا تھا۔
ایک اور مثال دو مرتبہ اسرائیلی وزیراعظم رہنے والے اضحاک رابن کی ہے۔ وہ 1974ء تا 1977ء اور پھر 1992ء سے 1995ء یعنی اپنے قتل تک وزیر اعظم رہے۔ اسرائیلی انہیں چھ روزہ جنگ کا ہیرو گردانتے تھے۔ عربوں سے شدید مخاصمت کے بعد رابن کے ذہن میں ایسا انقلاب آیا کہ وہ فلسطینیوں سے مفاہمت کے باقاعدہ وکیل بن گئے انہی کے دور میں اوسلو معاہدہ ہوا اور انہوں ہی نے یاسر عرفات سے پہلا باقاعدہ مصافحہ کیا۔ غصے میں ایک انتہا پسند صہیونی نے انہیں قتل کر دیا مگر ان کا فلسفہ مفاہمت اب بھی زندہ ہے۔
نیلسن منڈیلا کا مشہور قول ہے ’’بہادر لوگ امن کی خاطر معافی دینے سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ ‘‘ نیلسن منڈیلا کو 27سال کی جیل نہ ڈرا سکی نہ توڑ سکی مگر جب وقت آیا کہ وہ اپنے غصے اور نفرت سے پورے ملک کو اپنے مخالفوں کے لئے جہنم بنا سکتا تھا اس نے انہیں معاف کر کے ملک کو جنت بنا دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی کئی بار فتح ملی ایسے موقع پر انہوں نے مخالفوں کو روندنے کی بجائے انہیں اپنے ساتھ بٹھانے کی پیشکش کی۔ نواز شریف کے سیف الرحمٰن جیسے ساتھیوں نے محترمہ کے ساتھ کونسا ظلم نہیں کیا ان کے ریڈ وارنٹ جاری کروا دیئے، ایجنسیاں ان کے پیچھے لگی رہتیں، ذاتی زندگی میں مداخلت کرتیں لیکن جب بھی موقع آیا انہوں نے بدلہ لینے یا انتقام کی بجائے مفاہمت اور مصالحت سے کام لیا وہ زندہ رہتیں تو مفاہمت کے عمل کو مزید آگے بڑھاتیں۔ اگر ایسا ہوتا تو آج پاکستان جنت نظیر ہوتا۔
پاکستان میں موجود کنفیوژن، بے یقینی اور بے چینی کا حل صرف اور صرف Forgive and Forget میں ہے۔ محاذ آرائی، تصادم، انتقام، سیاسی رسوائی اور زور زبردستی بہت دفعہ ہوئی ہر دفعہ اس کا نتیجہ اچھا نہ نکلا۔ میری تجویز ہے کہ اس دفعہ سارے فریق ایک نیا تجربہ کریں جو ہونا تھا ہو گیا، اس بار Forgive and Forgetکرتے ہوئے آگے بڑھیں۔ سوچیں ملک کو آگے کہاں لے کے جانا ہے؟ انتخابات کا اعلان ہو، ایک مشترکہ اور متفقہ معاشی پالیسی بنائی جائے اور یہ طے کیا جائے کہ جاپان کی مثال مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھی حکومت آئے معاشی پالیسی یہی رہے گی۔ اس سے دنیا بھر میں ملکی استحکام اور معاشی پالیسی میں تسلسل کا پیغام جائے گا۔ ملک کو آگے بڑھانا ہے تو Forgive and Forgetپر عمل کرنا ہوگا۔