| |
Home Page
بدھ 24 ربیع الاوّل 1439ھ 13 دسمبر2017ء
عطا ء الحق قاسمی
November 18, 2017 | 12:00 am
ہمارا میڈیا اور نظام عدل

Hamara Media Or Nizaam E Adal

مجھے لگتاہے کہ صرف عام آدمی ہی نہیں خواص بھی ہمارے نظام عدل سے مطمئن نہیں ہے ۔ عام آدمی بچارہ تو عدالتوں میں دھکے کھاتا پھرتا ہے، کسی کے بھی خلاف کوئی جھوٹا مقدمہ ہی دائر کیوں نہ کر دیا جائے اس کی عمر کا ایک حصہ اسی کارروائی میں ’’خرچ‘‘ ہو جاتا ہے۔ اوپر سے ہماری عدلیہ میں کچھ ایسے لوگ بھی رہے ہیں جو میڈیا کے دبائو میں آجاتے ہیں، مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں نوائے وقت کے دفتر میں بیٹھا بطور سب ایڈیٹر خبریں ایڈٹ کررہا تھا، اتنے میں ایک شخص جو ساٹھ برس کے قریب تھا جس کی شیو اور سر کے بال بے ہنگم طور پر بکھرے ہوئے تھے اور جس کے چہرے سے وحشت ٹپک رہے تھی، نیوز روم میں داخل ہوا اور اس نے پاگلوں کی طرح چیخنا شروع کردیا۔ اس کو بڑی مشکل سے نارمل کیا گیا، پتہ چلا کہ اس پر کسی نے قتل کا جھوٹا مقدمہ قائم کیا اور میڈیا نے اسے اپنی شہ سرخیوں میں باقاعدہ قاتل بنا کر رکھ دیا۔ چنانچہ عدالت میں اس کے خلاف بیس سال مقدمہ چلا۔ یہ سارا عرصہ اس نے جیل میں گزارا اور بالآخر اس کو عدالت نے اپنے فیصلے میں بے گناہ قرار دے دیا۔ اس شخص کے ہاتھ میں اخبارات کا وہ پلندہ تھا جن میں اسے ’’شرطیہ قاتل‘‘ قرار دیا گیا تھا اور اس کے ساتھ ایک اخبار اور جس میں اس کی بے گناہی کی سنگل کالم خبر شائع ہوئی تھی۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ میں آپ لوگوں سے اپنی زندگی کے بیس سال واپس لینے آیا ہوں، میری قید کے دوران میری بیوی مجھے چھوڑ گئی، بچے آوارہ ہوگئے اور میں اپنے خاندان میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ مجھے میرے بیوی بچے بھی واپس کرو، اس کی باتیں دل ہلا دینے والی تھیں۔ ڈیسک پہ بیٹھے میرے سب کولیگ بھی میری طرح شرم سے پسینے پسینے ہورہے تھے، مگر ہم کیا کرسکتے تھے؟
اور اب تو حالات بالکل ہی ناگفتہ بہ ہوگئے ہیں، اب تو ’’قاتلوں‘‘ میں الیکٹرونک میڈیا بھی شامل ہوگیا ہے، چنانچہ جن منصفوں نے زیر اثر آنا ہے وہ ان ’’فیصلوں‘‘ کے زیر اثر بھی آجاتے ہیں جو بعض چینل سے بعض ’’زیر اثر‘‘ آئے ہوئے اینکر سنا رہے ہوتے ہیں۔ مجھے ان کی باتیں سن کر کبھی ہنسی آتی ہے اور کبھی رونا آتا ہے، ہنسی تو ان تجزیوں کی مضحکہ خیزی پر آتی ہے اور رونا اس پر ہے کہ جب قوم کے ’’چوتھے ستون‘‘ میں دراڑیں پڑ جائیں تو ہی آخری فورم سے بھی انسان کی امید ختم ہو جاتی ہے۔ ایک زہرہے جو ذہنوں میں پھیلایا جارہا ہے، ایک جھوٹ اور کذب ہے، ایک بدزبانی اور بدتہذیبی ہے، جو قوم کے رگ و پے میں اتارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میرے یہ دوست لمحہ موجود کو دائمی سمجھ رہے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ بے پناہ ملنے والی مراعات سے اپنے خاندان کی خدمت کررہے ہیں مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ذہنوں میں کینسر ’’کاشت‘‘ کررہے ہیں، جو نسل در نسل چلتا ہے، اگر ملک و قوم تباہی اور بربادی کے سفر پر روانہ ہو جائیں تو آنے والے دنوں میں میرے بچے بھی ان کے بچے بھی اور سب پاکستانیوں کے بچے بھی اس تباہی اور بربادی کی زد میں آئیں گے۔ ہم نے پاکستان بڑی مشکلوں سے حاصل کیا ہے مگر ہر دور میں اسے ترقی کی پٹری سے اتارنے کی کوشش کی جاتی ہے جو آج بھی جاری ہے، کاش ہم لوگ، ہمارا قلم، ہماری زبان ہمارے دلوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں، کاش کبھی ایسا ہو!
میں نے کالم کے آغاز میں نظام عدل کے حوالے سے بات شروع کی تھی، سو مسندانصاف پر تشریف فرما عزت مآب شخصیات سے بھی گزارش ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے بیرونی دبائو سے بالاتر ہو کر فیصلے کریں تاکہ ماضی کی بعض بدصورت روایات کا کفارہ ادا کیا جاسکے۔ اب آخر میں نظام عدل کے حوالے سے شعراء کے تاثرات ملاحظہ فرمائیں؎
تم نے سچ بولنے کی جرات کی
یہ بھی توہین ہے عدالت کی
(سلیم کوثر)
محسوس یہ ہوتا ہے یہ دور تباہی ہے
شیشے کی عدالت ہے پتھر کی گواہی ہے
(حبیب ہاشمی)
ملے تھے پہلے سے لکھے ہوئے عدالت کو
وہ فیصلے جو ہمیں بعد میں سنائے گئے
(اظہر ادیب)
عدالت فرش مقتل دھو رہی ہے
اصولوں کی شہادت ہو گئی کیا
(فہمی بدایونی)
شراب شہر میں نیلام ہوگئی ہوگی
عدالت آج بھی ناکام ہوگئی ہوگی
(طالب حسین طالب)
یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا
ہمارا سچ بھی عدالت کو باغیانہ لگا
(مظفروارثی)
حق بات بھی ارباب عدالت کو کھلی ہے
اظہار حقیقت کی سزا دیکھیے کیا ہو
(کوثر سیوانی)
میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جائوں گا
(سعید دوشی)
سزا بغیر عدالت سے میں نہیں آیا
کہ باز جرم صداقت سے میں نہیں آیا
(سحر انصاری)