| |
Home Page
بدھ 24 ربیع الاوّل 1439ھ 13 دسمبر2017ء
محمد سعید اظہر
November 18, 2017 | 12:00 am
آغا شورش کاشمیری کی یاد میں

Agha Shorish Kashmiri Ki Yaad Main

آغا شورش کاشمیری کی یاد میں 16نومبر 2017 بعد از دوپہر لاہور پریس کلب کے زیر اہتمام سیمینار منعقد ہوا ۔ کلب کے متحرک صدر شہباز میاں اور کلب کے تاحیات متحرک رکن علامہ صدیق اظہر جیسے سینئر دانشوروں اور اخبار نویسوں کی کاوشیں اس مجلس مذاکرہ کی روح رواں تھیں۔ صدارت گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ نے کی۔ ’’صدارت شہباز میاں نے کی‘‘ اس طرح لکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ گورنر تو اصل میں مہمان خصوصی تھے۔ ان کی شخصیت نے اہل اقتدار کے روایتی تصور میں تھوڑی سی د راڑ بھی پیدا کئے رکھی۔ سب لوگوں نے انہیں ظاہراً نہیں ذہناً سماعت کیا۔ آہستہ رو متکلم گورنر کی معنویت سے آراستہ ایک مثال اس وقت سامنے آئی جب سیمینار سے قبل صدر پریس کلب کے کمرے میں چائے کی نشست پرمعروف تجزیہ کار سلمان غنی نے ان سے بات چیت کا آغاز موسم کی خوشگواریت سے کیا اور پوچھا ’’اسلام آباد کا موسم کیسا ہے؟‘‘ گورنر نے زیر لب مسکراہٹ سے موسم کی لطافت کا اعتراف کیا، ساتھ ہی یہ بھی کہہ گئے ’’وہاں کاموسم بھی ایسا ہی ہے بس دعا کریں بارش خیر کی ہو، نمونیے والی کیفیت پیدا نہ کردے‘‘ پاکستان کی قومی تاریخ کے ’’نمونیوں‘‘ کا شاید یہ نہایت ہی بھرپور ابلاغ تھا!
سیمینار سے سب حضرات نے، واقعہ یہ ہے، اپنے خیالات کے بیانئے میں مختصر تین کلیدی اہمیت کے نکات کی رمزیت کا بہت ہی فکری مضبوطی کے ساتھ استعمال کیا۔ مثلاً برادر ِ محترم و مکرم مجیب الرحمٰن شامی صاحب نے اس حوالے سے جو کہا اس کا ایک ایک لفظ ایسے ہی پیرایہ ٔ افکار کا پرتو تھا، کہنے لگے ’’ہم نے ان سے سیکھا، وہ مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا ظفر علی خان اور سید عطا اللہ شاہ بخاری کی تکون کے مکین تھے ‘‘۔مقتدر اینکر پرسن اور تجزیہ کار جناب سہیل وڑائچ نے یاد دلایا ’’قادیانیوں کے پس منظر میں ذوالفقار علی بھٹو نے جس تاریخی فیصلے کا اعلان کیا اس کے بعد انہوں نے آخری دم تک کبھی بھٹو صاحب کی مخالفت نہیں کی جبکہ باقی علما اور دوسرے حضرات اپنی پرانی روش پر ہی رہے۔‘‘ گورنر صاحب نے سیمینار سے قبل شہباز میاں کے کمرے کے اسلوب ِ اظہار کو اپنے خصوصی خطاب میں بھی برقرار رکھا۔ ایک مقام پر کلام کیا ’’پہلے اپنے حلف کی پاسداری کرنی چاہئے اسی طرح ان کوبھی جنہو ںنے دس دس بار حلف اٹھایا ہوا ہے۔ جناب! ایسی متحمل بردباری میں اتنی نوکیلی سیاسی جارحیت جس میں پاکستان کی تاریخ ایسے بند ہوگئی جیسے اسے کسی ڈبی میں ڈال دیا گیا ہو۔‘‘ گورنر صاحب کا زیادہ تذکرہ و تعریف ہمارے بدگمان معاشرتی کلچر کا ہدف بن سکتا ہے بصورت ِ دیگرحقیقتاً ملک رفیق رجوانہ نے پاکستان کے بدقسمت سیاسی عدم توازن کو مطلوب بصیرت کے ساتھ متعین بیان اور متشکل کردیا۔
جوشؔ نے کہا تھا الفاظ کو بخشتا ہوں رائے اضام! آغا اسی تخلیقی قدرت کا ایک طرح سے شاہکار تھے۔ حضرت جوش کے بارے میں پروفیسر آل احمد سرور نے لکھا تھا: ’’وہ سرمایہ داروں کی چیرہ دستیوں، کسانوں کی زبوں حالی، غداروں کی سیاست، مولویوں کی ریاکاریوں، معاشرے میں روپے کی کارفرمائی برداشت نہ کرسکے، ان کی آواز میں کرختگی آگئی۔‘‘ اسی سچائی کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے آغا شورش کاشمیری کو ایسے ہی فریم میںپیش کرنا ہوگا، کرنا چاہئے یعنی ’’انہو ںنے بھی سرمایہ داروں کی چیرہ دستیوں، کسانوں کی زبوں حالیوں، غداروں کی سیاست، مولوی کی ریاکاریوں، لفظ فروشوں کی ضمیر فروشیوں، طاقتوروں کی کم ظرفیوں، سرداروں کی برتریوں، ریاستی انتظامیہ کی قانون شکن دست درازیوں، پاکستانی عوام کی ناگفتہ بہ خواریوں، اہل علم کی نظریاتی کج رویوں کو اپنے قلم کی نوک سے پرزے پرزے کر ڈالا، انسانیت دشمن دنیاداروں کے حلق میں ضمیر کے کانٹے کی طرح پیوست رہے!‘‘ 
آغا شورش کاشمیری کی تاریخ، آپ کو عملاً سمجھانےلئے ایک واقعہ بیان کرنے سے تصویر مکمل ہو جائے گی۔ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے بعد، دو قومی ادوار کی ایک ممتاز شخصیت نواب شاہنواز ممدوٹ سے ملاقات، مسجد شہید گنج جس میں مسلمانوں کو بے دریغ موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا، اس تناظر میں انہوں نے آغا صاحب سے اکیلے آنے کا کہا۔ یہ ساری روئیداد شورش نے اپنی سوانح حیات ’’بوئے گل نالہ ٔ دور چراغ محفل‘‘ میں لکھی ہے۔ رقم طراز ہیں:۔
’’کھانا کھایا، باتیں کیں، نواب صاحب یہی زور دیتے رہے کہ سردار صاحب (مراد سردار اسکندر حیات) سے الجھنا بیکار ہے۔ زور خطابت مقصود ہو تو کئی نشانے ہیں۔ مثلاً پنجاب کے اضلاع کا دورہ کیجئے، مسلمانوں کو تیار کیجئے اور کہئے کہ اب کے گائے کی قربانی کریں تاکہ ہندوئوں اور سکھوں کو احساس ہو کہ ایک قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچا کر کیا نتائج برآمد ہوسکتے ہیں؟ ان کے خیال میں مسجد کے انہدام پر سکھوں کے خلاف احتجاج کا یہ بھی ایک طریق تھا، میں نے انکار کیا۔ نواب صاحب چپ ہو گئے۔ جیب میں ہاتھ ڈالا اور پانچ پانچ روپے کے نوٹوں کا ایک پلندہ نکالا۔ میرے ہاتھ تھمانا چاہا۔ فرمایا ’’تانگہ کا خرچ ہے!‘‘ میں نے فوراً ہاتھ کھینچ لیا ’’قبلہ! ہم آپ کی کار پر آئے ہیں، تانگہ کا خرچ نوٹوں کی تھئی نہیں ہوتی ۔‘‘ میں اپنے دونوں ساتھیوں کو چھوڑ کر باہر نکل آیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا گھر آگیا۔ (یہاں آپ یاد رکھیں ہمارے آغا کے حالات حیات کے مطابق یہ وہ دور تھا جب اقتصادی ترساہٹ اور ضرورتوں کا سیلاب گھر کی منڈیروں پر قیام کرتا تھا)
اگلی صبح حسب وعدہ نواب صاحب کے ہاں پہنچا۔ سردار صاحب کا چہرہ ان کے طرّے کی طرح مسکرا رہا تھا۔ لب و لہجہ میں مٹھاس اور کہنے سننے میں شرافت۔ فرمایا ’’کس الجھن میں پھنس گئے ہو، شہید گنج کے لئے سکھوں کو ہراساں کرنا ہے تو گائے کی قربانی بہترین نسخہ ہے؟ ‘‘
آپ ملک میں فساد کرانا چاہتے ہیں؟‘‘
’’بالکل نہیں! یہ حربہ شہید گنج کے واپس دلانے میں ممد ہوسکتا ہے!‘‘
’’اس کا لازمی نتیجہ فرقہ وارانہ فسادات ہیں اور آپ مجھے ایک فسادی مقرر کے طور پر جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں۔‘‘ سردار صاحب مسکرائے ’’یہ نہیں ہوگا، میں ذمہ داری لیتا ہوں۔ تمہارے خلاف کچھ نہیں ہوگا اور اگر قید ہوئی تو بی کلاس میں دوچار مہینے‘‘ میرے منہ سے نکلا ’’میرے گھر والے کہاں جائیں گے؟‘‘ نواب ممدوٹ نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا ’’آپ کے ہاں ہر ماہ سو روپیہ پہنچتا رہے گا‘‘
(کرنسی اصول کے مطابق اس دور کے سوروپے کو آج کی قدر سے ضرب دیں اور ان شب وروز میں جب گھر کے دروازے پر معاشی ابتری کی دستک چوبیس گھنٹے جاری رہتی تھی) میں کھلکھلا کر ہنس پڑا ۔ شاید ان کا خیال ہو، میں رام ہو گیا ہوں۔ فوراً ماتھے پر شکن ڈال کر عرض کیا:’’جناب جذبے کی کوئی قیمت نہیں ہوتی اور عشق روپے کی چیز نہیں!‘‘ قصہ تو یہی ہے آج پاکستان کی تیسری نسل کے ہاتھوں میں آغا شورش کی سوانح ’’بوئے گل نالہ ٔ دل دور چراغ محفل‘‘ تو موجود ہے نواب ممدوٹ کے سو روپے کا وجود معدوم ہوچکا!
کالم کی گنجائش تمام ہوئی، مشہود شورش، ہر برس اپنے والد گرامی کے اثاثے کی جانب نظر اٹھاتا اور ہماری نظریں اٹھواتا ہے۔ سیمینار کے اختتام تک خبر آئی ’’آغا شورش کاشمیری کے سب سے بڑے بیٹے مسعود شورش کو پاکستان ٹی وی کارپوریشن نے ان کی نوکری سے برخاست کردیا ہے‘‘ لیکن شورش کےنقوش قدم ہمارا زادِ راہ رہیں گے! آپ کہانی سنتے رہیں گے!