| |
Home Page
جمعہ 26 ربیع الاوّل 1439ھ 15 دسمبر2017ء
انصار عباسی
November 23, 2017 | 12:00 am
غلطی یا سازش؟؟؟

Ghalti Ya Saazish

نئے الیکشن قانون میں ختم نبوت کے متعلق متنازعہ تبدیلی کو درست کر دیا گیا ہے لیکن ایک بنیادی سوال کا جواب ابھی تک نہیں مل سکا کہ کی گئی تبدیلی کیا ایک غلطی تھی یا کسی سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ؟؟ اس سوال کا جواب تلا ش کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی لیکن ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی بات سامنے نہیںآئی۔ جب متنازعہ قانون پارلیمنٹ سے پاس ہوا اور اس پر شور مچا تو میاں نواز شریف نے راجہ ظفر الحق کی زیر نگرانی ن لیگ کی ایک کمیٹی بنائی جسے چوبیس گھنٹوں کے اندر انکوائری مکمل کر کے رپورٹ میاں صاحب کو پیش کرنی تھی۔ کمیٹی نے رپورٹ مرتب کر کے نواز شریف کو بھجوا دی لیکن آج تک اس رپورٹ کو نہ پبلک کیا گیا نہ ہی کسی کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس رپورٹ میں اصل سوال کا جواب موجود نہیں کہ متنازعہ تبدیلی کیوں کی گئی اور آیا وہ کسی غلطی کا نتیجہ تھا یا کوئی سازش۔اس رپورٹ میں ایک فرد کا نام لکھ کر کہا گیا کہ اُس نے کچھ دوسروں کے ساتھ مل کر پارلیمانی کمیٹی کے لیے مجوزہ قانون کا ڈرافٹ تیار کیا۔ رپورٹ میں نہ تو اس بات کی کوئی وضاحت موجود ہے کہ کیا اُس فرد اور کچھ دوسروں نے متنازعہ تبدیلی کو ڈرافٹ میں شامل کیا اور اگر ہاں تو کس کے کہنے پر اور کیوں؟؟ لیکن اس رپورٹ میں میاں نواز شریف سے سفارش کی گئی تھی کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیں۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ ظفر الحق کمیٹی ایک نئی رپورٹ بنا رہی ہے جس کے حوالے سے آج کے ایک اخبار میں جو لکھا گیا وہ اُس رپورٹ سے مختلف ہے جو پہلے ن لیگی قیادت کو پیش کی گئی۔ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری فیض آباد دھرنہ کے تناظر میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ کو پبلک کیا جائے۔ دھرنے والوں نے وہ رپورٹ تو نہیں دیکھی لیکن اُن کا کہنا ہے کہ دھرنا اُس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک کہ وزیر قانون زاہد حامد کابینہ سے استعفیٰ نہیں دیتے۔ اس دھرنے سے لاکھوں لوگوں کو شدید تکلیف کا سامنا ہے لیکن ایک طرف حکومت رپورٹ سامنے لانے کے لیے تیار نہیں ہے تو دوسری طرف دھرنے والے فیض آباد سے اٹھنے کا نام نہیںلے رہے ہیں۔ جہاں تک دھرنے والوں یا کسی دوسرے کا یہ مطالبہ ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کر کے اُن کو برطرف کیا جائے تو یہ بلکل درست بات ہے لیکن بغیر تحقیق کے اور سچائی جانے بنا کسی بھی فرد کا نام لے کر یہ کہنا کہ وہ ذمہ دار ہے درست بات نہیں بلکہ اس سے اُس فرد کی زندگی خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔ بہتر ہوتا حکومت انکوائری کے نتیجے میں ذمہ داروں کا تعین کر کے خود کارروائی کرتی اور ظفر الحق کمیٹی کے رپورٹ پبلک کر دی جاتی تو حالات ا س نہیج پر نہ پہنچتے۔ اب ایک کے بعد دوسری رپورٹ کی تیاری سے سوال مزید جنم لیں گے۔ جہاں تک دھرنا دینے والی مذہبی تنظیم اور اُس کے رہنما کا تعلق ہے تو میری اُن سے صرف یہ گزارش ہے کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں زرا غور فرمائیں کیا اُن کا لاکھوں لوگوں کو تکلیف میں ڈال کر اس انداز میں احتجاج کرنا کہ بیمار، بچے، بوڑھے، مسافر سب پریشان ہوں کسی بھی طرح سے اسلامی فعل ہے؟؟ جیسا کہ پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ اور اب سپریم کورٹ نے کہا کہ اسلام تو دوسروں کو تکلیف دینے کی اجازت نہیں دیتا اور یہ بھی کہ اسلام میں بدزبانی اور گالم گلوچ کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اپنے حالیہ کالم میں محترم مفتی منیب الر حمن نے فیض آباد دھرنا کو لیڈ کرنے والے مذہبی رہنما کے حوالہ سے لکھا: ’’ماضی میں اپنی دیانتدارانہ سوچ کے باعث ہمیںاُن کے مقاصد سے اتفاق کے باوجود حکمت عملی سے اختلاف رائے رہا ہے، ہماری مخلصانہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں حکمت و تدبر کی نعمت سے نوازے۔‘‘ مفتی صاحب نے قرآن پاک کی ایک آیت مبارکہ کے ساتھ ساتھ سنت رسول ﷺ کے بھی حوالے دیے اور دھرنے کے مذہبی رہنما سے درخواست کی کہ وہ اپنے مزاج میں تبدیلی لائیں۔ جہاں تک اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا تعلق ہے تو دیکھتے ہیں کہ وہ کس حد تک اور کتنی جلدی اس مسئلہ کو حل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن جہاں اسلام آباد اور راولپنڈی کے لاکھوں افراد کی پریشانی کو ختم کرنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے وہاں میں امید کرتا ہوں کہ عدالتی مداخلت سے یہ بھی لازمی طور سامنے آنا چاہیے کہ الیکشن قانون میں متنازعہ ترمیم کسی غلطی کی وجہ سے ہوئی یا سازش کا نتیجہ تھی؟