| |
Home Page
بدھ 24 ربیع الاوّل 1439ھ 13 دسمبر2017ء
December 07, 2017 | 12:00 am
نئی پالیسی لائیں گے، بجلی کی پیداوار اور تقسیم کیلئے لائسنس کی ضرورت نہیں ہوگی، اویس لغاری

Todays Print

نئی پالیسی لائیں گے، بجلی کی پیداوار اور تقسیم کیلئے لائسنس کی ضرورت نہیں ہوگی، اویس لغاری

اسلام آباد (ناصر چشتی، اسرار خان ) ملک کو انرجی بحران سے نکالنے اور مستقبل میں بجلی کی پیداوار میں اضافے کیلئے جامع نیشنل الیکٹرک سٹی پالیسی لا رہے ہیں اس کے تحت مستقبل کے بجلی کے اہداف اور تقسیم کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوں گے، ملک کو انرجی بحران سے نکالنے کیلئے متبادل ذرائع پر دوبارہ توجہ دینے کی ضرورت ہے بلوچستان کو انرجی کا حب بنائیں گے، وہاں پر ونڈ سے 40 سے 50 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے ہم کوصارف کے انٹرسٹ کا خیال رکھنا ہو گا ملک کی سیاسی قیادت کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے بارے میں مل بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہوگا یہ پرافٹ نہیں ٹیکس ہے جس سے صارف کو مہنگی بجلی ملتی ہے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے خصوصی اقدامات کررہے ہیں اس سلسلہ میں نجی شعبہ کے ذریعے بھی بجلی کی فراہمی کو موجودہ انفراسٹرکچر کے ذریعے ممکن بنائیں گے۔ ان کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرنا ہے۔ 135 ارب روپے کے گردشی قرضہ میں 35 ارب صرف بلوچستان کے ٹیوب ویل کو سستی بجلی فراہم کرنے سے دینا پڑتا ہے ڈسکوز کمپنیوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی ورنہ سارا سسٹم تباہ ہوجائے گا۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے جنگ اور دی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے لوڈشیڈنگ کے شیڈول کو دیہی اور شہری علاقوں کے حوالے سے تبدیل کردیا ہے جہاں لائن لاسز اور چوری زیادہ ہوگی وہاں پر لوڈشیڈنگ زیادہ ہوگی ہم نے 10 فیصد لاسز والے فیڈر پر لوڈشیڈنگ ختم کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں جب بھی بجلی کا بحران پیدا ہوا ہم نے افراتفری میں جہاں سے اور جس قیمت پر بجلی ملی حاصل کی جوکہ ظلم تھا اتنے بڑے المیہ تھے 1988 اور 2013 میں ہم نے پیداوار بڑھانے کیلئے ایسے اقدامات کئے جو ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئے جن کا دیرپا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ملک کو بدقسمتی سے کوئی پاور پالیسی نہیں دی گئی ہم 2ماہ کے اندر جو پالیسی بنا رہے ہیں عوام کے سامنے لائیں گے اس پر کام شروع کردیاہے۔ فروری کے آخر میں مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش کردیں گے اس پالیسی کے فریم ورک کے اندر نیشنل الیکٹرک سٹی پلان بنائیں گے اس کی بھی تیار ی کر رہے ہیں جس طرح 2002 میں ٹیلی کام پالیسی سے انقلاب آیا اس طرح اس میں بھی انقلابی تبدیلی لائیں گے۔ تقسیم کار کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کردیں گے اب کسی بھی علاقہ میں مختلف تقسیم کار کمپنیاں بجلی فراہم کریں گی۔ اب انٹرنیٹ کے ذریعہ اپنی مرضی کی کمپنی سے بجلی حاصل کر سکیں گے اس سے نہ صرف اجارہ داری ختم ہوگی بلکہ مقابلے کا رجحان بڑھے گا اور صارفین کو سستی بجلی مل سکے گی اس کے علاوہ صارف کے ساتھ حکام کے رویوں کو بہتر کرنا ہوگا، ہم ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ جنریشن ٹرانسمیشن اور بجلی کی پیداوار کو لائسنس فری کردیں گے ہم بجلی کی پیداوار کے معاہدے 30,30 سال کے لئے نہیں کریں گے۔ حکومت صرف گرانٹس دے گی جب کہ سب کچھ اوپن بڈنگ سے حاصل کیا جائے گا ہمیں متبادل ذرائع سے بجلی حاصل کرنا ہوگی اس سلسلہ میں کوئلہ سولر ونڈسے بجلی حاصل کرنے کے لئے نجی شعبہ سے بھی سرمایہ کاری کرائیں گے ۔ انرجی مکس کے بارے میں ہم کو اہم فیصلے کرنے ہوں گے ۔ ہائیڈل سے بجلی حاصل کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔ 2سال کے اندر 4ہزار میگاواٹ تک پیداوار کو بڑھانا ہوگا، ہمیں ونڈ سے بجلی حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ونڈ سمیت ہم متبادل انرجی حاصل کرنے کے لئے اوپن بڈنگ کرائیں گے جو بھی سستی بجلی دے گا اس کو کام دیں گے۔ انہوں نے تونسہ بیراج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیپرا نے اسکا ٹیرف12سینٹ مقرر کیا مگر اوپن مقابلے میں ہم اس کو 7سینٹ تک لے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نوشکی کے علاقہ میں ونڈ سے 40 سے 50 ہزار میگاواٹ پیدا کی جاسکتی ہے۔جس کے لیے ہم نے سٹڈی شروع کر دی ہے بلوچستان کو انرجی کا حب بنائیں گے جمپیر میں 1200 میگاواٹ کا ونڈ منصوبہ اوپن بولی کے زریعے دیں گےانہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہماراڈسٹری بیوشن زنگ آلود ہے ہمیں 135ارب کاسالانہ نقصان ہورہاہے جو کہ پی آئی اے کے خسارے سے زیادہ ہے 135 ارب سے35 ارب صرف بلوچستان کے ٹیوب ویل کو بجلی کی فراہمی کی مد میں برداشت کررہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اپنی خامیوں کو چھپارہی ہیں اور بلنگ کی مد میں اہم فیصلہ کررہے ہیں اوور بلنگ کرنےوالوں کو سزاملے گی میرامقصد ہے کسی کوغلط بل نہ جائے کسی صارف کی عزت نفس کو مجروح نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ8لاکھ میٹراس وقت پینڈنگ ہیں 4لاکھ درخواستیں ہیں اور4لاکھ خراب میٹر تبدیل کرنے ہیںہم جنوری میں بیک لاگ ختم کر دیں گے۔ ہم ایسے اقد اما ت کررہے ہیں کہ15دن کے اندرعام آدمی کامیٹرلگ جائے انہوں نے کہا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو چوری لائن لاسز ختم کریں گے تب بھی گردشی قرضہ ختم ہوں گے انہوں نے کہا ہم نے صارف کی معلومات کے لیے ایپلی کیشن بھی بنائی ہے انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کے بورڈ کو باا ختیار بنارہے ہیں۔ میں اپنے پاس اختیارات نہیں رکھنا چاہتا یہ بات گڈ گورننس کے لیے ضروری ہے ٹرانسفرپوسٹنگ کااختیار بھی متعلقہ افسر کے پاس ہوناچاہیے کہ اور وزیر کے پاس نہیں ہوناچاہیے اگلے پانچ سال میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو اپنے پیروں پر کھڑاہوناہوگا ہم جو پالیسی لارہے ہیں اس میں شفافیت ہوگی ساڑھے چار سال میں بہت مسائل ہمیں وراثت میں ملے ہیں ڈسٹری بیوشن کمپنیاں کارکردگی بہتر بنائیں تو گردشی قرضہ آدھے رہ جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرانسفارمرز کی اپ گریڈیشن اور منٹیننس کا کام ہو رہا ہے ہم اس شعبہ میں بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ہمارا ٹرانسمیشن سسٹم کوئی آئیڈیل نہیں ہے مٹیاری تا لاہور ٹرانسمیشن لائن نجی شعبہ سے کروا رہے ہیں۔ ہمارے ہاں متبادل توانائی کے ذرائع بہت زیادہ ہیں دن کو شمسی توانائی اور رات کو ونڈ سے ہم پے پناہ انرجی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرنس آئل سے چلنے والے بعض پلانٹ کے سی او نہیں اور کچھ بند پڑے ہیں۔ اب ہم ان کے سی او لگا رہے ہیں اور ان کو 2ماہ کے اندر بہتر کرنا ہوگا راستہ بنانا ہو گا ہمیں نیٹ ہائیڈل پراجیکٹ کے بارے میں کوئی مشترکہ فیصلہ کرنا ہو گا پانی کے ذخائر بنانے ہونگے جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے بارے میں کوئی مشترکہ فیصلہ کرنا ہو گا۔ پانی کے ذخائر بنانا ہوں گےجو کہ وقت کی اہم ضرورت ہےانہوں نے کہا کہ یہ نیٹ پرافٹ نہیں بلکہ یہ ٹیکس ہے قومی سطح پر اس سلسلہ میں فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ واپڈا 2روپے کی بجلی دیتا تھا اب 5روپے سے زیادہ کی ہے یہ تین روپے پرافٹ کی مد میں جا رہے ہیں اور ا سکا بوجھ عام صارف برداشت کر رہا ہے۔ ہم اس کو ہائیڈل ٹیکس کہہ سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ نیپرا حکومتی اثرورسوخ سے آزاد ہو نا چاہئے۔ حکومت پالیسی بنائے اور ریگولیٹر اس پر عمل کرائے اور ریگولیٹر اور منسٹری میں بھی ورکنگ شپ بہترہونی چاہئے۔ نیپرا کا چیئرمین آزادانہ کام کرے انہوں نے کہا کہ نیپرا کے بارے میں اسمبلی نے قانون منظور کر لیا ہے اب سینٹ سے بھی منظور ہو جائے گا جس سے نیپرا بطورادارہ مظبوط ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ملکی مفاد کے فیصلوں میں اتفاق رائے کرنا ہوگا۔