| |
Home Page
جمعہ 26 ربیع الاوّل 1439ھ 15 دسمبر2017ء
December 07, 2017 | 12:00 am
امریکی اقدام کاری ضرب، اثر پوری امت مسلمہ پر پڑیگا،خواجہ آصف

Todays Print

امریکی اقدام کاری ضرب، اثر پوری امت مسلمہ پر پڑیگا،خواجہ آصف

کراچی(ٹی وی رپورٹ) وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکیوں کی القدس کو دار الحکومت بنانے کی کوشش اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ دوستی کا کون سا برتائو کیا ہے، امریکا سے سوائے زخم اور کچھ نہیں ملا، اس وقت تین چار ملکوں میں جنگیں جاری ہیں اور یہ سب امریکا کے مرہون منت ہے۔ فلسطین کا جو مسئلہ تھا جہاں لوگ در بدر ہورہے تھے اسے آج امریکا نے مزید گھمبیر کردیا اور مسلمان جہاں بھی مظلوم ہیں وہاں کہیں نہ کہیں امریکا بیک گرائونڈ میں نظر آتا ہے، فلسطین کا مسئلہ1948میں شروع ہوا وہاں جتنی بھی جنگیں ہوئیں اس میں امریکن اسلحہ استعمال ہوا، آج ہونا یہ چاہئے تھا کہ ایسا لائحہ عمل آتا کہ یہودی اور مسلمان ایک ساتھ مل کر رہتے ،امریکا کا یہ اقدام کاری ضرب کی طرح ہے، اس زخم کا اثر پوری امت مسلمہ پر پڑے گا، قبلہ اول کا تقدس کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔وہ جیو نیوز کے پروگرام’’ آپس کی بات‘‘ میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کررہے تھے۔پروگرام میں پاکستان عوامی تحریک کے رہنما فیض الاسلام،پیپلزپارٹی رہنما چوہدری منظور،مسلم لیگ ن رہنما میاں جاوید لطیف ،سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری نے بھی پروگرام میں حصہ لیا۔ جانتے ہیں کہ یہاں کیا ہوتا ہے اور لوگ ہم سے جمہوریت کے مستقبل کا بھی پوچھتے ہیں۔پروگرام میں پاکستان عوامی تحریک کے رہنما فیض الاسلام نے کہا کہ جو آج ڈاکٹر طاہر القادری نے پریس کانفرنس کی ہے اس کا آئوٹ کم یہ ہی ہے کہ ماڈل ٹائون کیس میں پنجاب حکومت ذمہ دار ہے اور وہ ان سے جان نہیں چھڑا سکیں گے، ہمیں عدالتوں پر اعتما د ہے اور ساتھ عوامی جدو جہد کا بھی آپشن کھلا رکھیں گے۔ن لیگ کے رہنما جاوید لطیف نے کہا کہ کہ جس طرح یہ باقی نجفی رپورٹ پبلک ہوئی حمود کمیشن اور اسامہ بن لادن کیس رپورٹ بھی پبلک ہونی چاہئے ۔پیپلزپارٹی رہنما چوہدری منظور کا کہنا تھا کہ پاکستان عوامی تحریک کو ایک اسٹیپ آگے بڑھنا چاہئے اور جن لوگوں کی طرف اشارے کئے گئے ہیں ان کیخلاف بھی ایف آئی آر کٹوانی چاہئے۔سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے انصاف کا اصل پیٹرن وہ ہی ہونا چاہئے کہ جو روایتی طریقہ کار ہے۔خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ امریکا سے مسلم ممالک کے تعلقات اچھے رہے ہیں لیکن فلسطین معاملہ پر جس طرح امریکا پیش رفت کر رہا ہے یہ مناسب نہیں اور فلسطینیوں کی تباہی کے پیچھے امریکاکا ہاتھ ہے، اس وقت مشرق وسطیٰ میں اپنی پراکسی کو وہ اجاگر کر رہا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے، ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور کشمیر پر قرار داد پر کوئی حکمت عملی نہیں ہوتی جبکہ عراق کیلئے بوگس قرار داد کو گھنٹوں میں پاس کرایا گیا، امریکااگر اس خطے میں انصاف چاہتا ہے تو اس پر وزن ضرور ڈالتا ہے آج اسرائیل اور بھارت مذاق اڑاتے پھر رہے ہیں، اقوام متحدہ بھی اس وجہ سے متنازع ہورہا ہے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ ترک صدر نے او آئی سی اجلاس طلب کیا ہے ہم اسکی پوری حمایت کرتے ہیں، ا ن کا کہنا تھا کہ ہم فلسطینی بھائیوں کیلئے ہر محاذپر لڑیں گے۔ وزیر خارجہ کا نوا ز شریف کی عدلیہ پر تنقید کے حوالے سے کہنا تھا کہ سیاستدانوں نے ہی صرف انصاف سیاستدانوں کیلئے ہی ہے تو یہ ایک بنیادی انصاف کے اصول کی خلاف ورزی ہے، ان کا کہنا تھا کہ چار دفعہ فوجی آمر آئے ہیں اس کی بھی تو تحقیقات ہونی چاہئیں، پرویز مشرف کیخلاف رپورٹ آچکی ہیں لیکن کیوں اس پر کارروائی نہیں ہوتی لیکن نوا زشریف کیس میں اتنی تیز ی دکھا ئی جاتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ بھی آنی چاہئے، امریکا نے اس کیس میں دیکھا جائے تو پاکستان پر حملہ کیا ،اس میں بھی انصاف کے اصول پامال ہوئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کا م چالان بنانا ہوتا ہے کارروائی تو عدالت نے ہی کرنی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ مشرف کو باہر حکومت نے بھیجا ہے یہ عدلیہ نے اس پر ایک ڈبیٹ کرنی چاہئے اور میڈیا کو بھی اس کیس کو دیکھا چاہئے، ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایوب خان کی یحیٰ خان کے ساتھ نہیں بنی ، بھٹو کی جنرل ضیاء سے نہیں بنی پھر آصف نوا ز اور مشرف آگئے اور یہ سلسلہ ہمارے ماضی کی بری مثال ہے،خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم نوا ز شریف کے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں اور لوڈ شیڈنگ بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے تحت جو کابینہ ہے ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسے حالات پیدا نہ ہوں جس سے پاکستان کو اور نقصان پہنچا ہے، دھرنا جو ہوا اس سے جمہوریت بھی سوالہ نشان بنی،دھرنے کے معاہدے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حالات دنیا جانتی ہے اور سب جانتے ہیں کہ یہاں کیا ہوتا ہے اور لوگ ہم سے جمہوریت کے مستقبل کا بھی پوچھتے ہیں۔پاکستان عوامی تحریک کے رہنما فیض الاسلام نے کہا ہے کہ جو آج ڈاکٹر طاہر القادری نے پریس کانفرنس کی ہے اس کا آئوٹ کم یہ ہی ہے کہ ماڈل ٹائون کیس میں پنجاب حکومت ذمہ دار ہے اور وہ ان سے جان نہیں چھڑا سکیں گے، ان کا کہناتھا کہ ہمیں عدالتوں پر اعتما د ہے اور ساتھ عوامی جدو جہد کا بھی آپشن کھلا رکھیں گے، اس رپورٹ کی اہمیت ہے رانا ثنا اللہ چاہئے کوئی بھی موقف اختیار کریں وہ ان کا حق ہے، ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین سال بعد ہم باقر نجفی رپورٹ کو جاری کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں ہمارے استغاثہ کو کہانی نہ کہا جائے، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کوئی غیر آئینی قانونی کا م نہیں کیا، جب ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہورہی تھی تو ہم حکومت گرانے گئے تھے۔پیپلزپارٹی رہنما چوہدری منظور کا کہنا تھا کہ پاکستان عوامی تحریک کو ایک اسٹیپ آگے بڑھنا چاہئے اور جن لوگوں کی طرف اشارے کئے گئے ہیں ان کیخلاف بھی ایف آئی آر کٹوانی چاہئے، جوڈیشل کمیشن حکومت کی درخواست پر بنایا گیا تھا، ان کا کہناتھا کہ عوام تحریک اور تحریک انصاف کے ساتھ بہت زیادہ ظلم ہوا ہے، ان کا کہنا تھا کہ مدعی کا حق ہے کہ وہ ایف آئی آر درج کرائے ، پاکستانی عوامی تحریک کا حق نہیں چھیننا چاہئے، اسی طرح پولیس کی طرف سے بھی ایف آئی آر درج ہونی چاہئے لیکن نہیں ہوئی۔مسلم لیگ ن رہنما میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ ماڈل ٹائون واقعہ بہت زیادہ افسوس ناک تھا لیکن جو پولیس والے شہید ہوئے تھے وہ بھی کسی کے رشتے دار تھے، اس کیس میں تین انکوائریاں ہوئی ہیں اگر باقر نجفی رپورٹ کو دیکھیں تو خلیل الرحمان کی رپورٹ بھی دیکھنی پڑے گی، جے آئی ٹی میں انٹیلی جنس ادارے کے لوگ بھی شامل تھے اس لئے وہ بھی دیکھنی ضروری ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ کوئی یہ بتادے کہ عوامی تحریک کسی جگہ جا کر مطمئن ہوگی، پہلے لانگ مارچ ہوتے تھے اب دھرنے ہوتے ہیں، پہلے کسی اور کے کاندھے استعمال ہوتے تھے استعمال کرانے والوں میں ہم بھی شامل تھے، آج پھر دھرنے کرائے جارہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جس طرح یہ رپورٹ پبلک ہوئی حمود کمیشن اور اسامہ بن لادن کیس رپورٹ بھی پبلک ہونی چاہئے ،سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے انصاف کا اصل پیٹرن وہ ہی ہونا چاہئے کہ جو روایتی طریقہ کار ہے، ماڈل ٹائون کیس میں جانیں گئی ہیں اگر کوئی اس کیس میں انصاف کو ڈسپیوٹ کرتا ہے تو وہ انسان کہنے کے قابل نہیں اور اس کیس میں ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہئے اور سزا ملنی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھٹو ٹرائل میں بھی لوگوں نے کہا تھا کہ انصاف ہوگیا ہے ، اب اس کیس میں بھی انتظار کرنا چاہئے، ان کا کہنا تھا ماڈل ٹائون رپورٹ فالٹی نظر آتی ہے کہ جس میں کسی کو چارج نہیں کیا گیا۔