| |
Home Page
جمعہ 26 ربیع الاوّل 1439ھ 15 دسمبر2017ء
صادق خان…میئر لندن
December 07, 2017 | 12:00 am
میرا دورہ پاکستان

Mera Doura Pakistan

میرا پاکستان کا دورہ تاریخ میںکسی بھی لندن کے مئیر کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ بطور ایک پاکستانی نژاد ہونے کے اس دورے کی خاص اہمیت ہے۔ مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ پاکستان اور برطانیہ، دونوں ممالک کے روابط مزید مستحکم کرنے اور لندن اور پاکستان کے عظیم شہروں میں نئی اور دیرپا رفاقت کو فروغ دینے میں، میں اپنا کردار ادا کر رہا ہوں۔
اپنے دورے کے دوران میں لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں کاروباری حضرات، سرکاری افسران، نمایاں ثقافتی شخصیات، سول سوسائٹی کے ممبران اور اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علموں کے ساتھ ساتھ عام پاکستانیوں سے بھی ملاقات کروں گا۔ میری توجہ بہت سے شعبوں میں ہمارے روابط کو مزید مستحکم کرنے پر ہے۔ نا صرف کاروبار اور تجارت بلکہ ثقافتی اور تخلیقی شعبوں میں بھی تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی توجہ مرکوز ہے۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ چاہے وہ فیشن ہو یا فٹ بال، کرکٹ ہو یا کوک اسٹوڈیو، میں یہ جانتا ہوں کہ ثقافتی رابطوں کو مزید فروغ دینے میں ہم سب کا فائدہ ہے۔
میرا ماننا ہے کہ مشترکہ بڑے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جن کا سامنا دونوں ملکوں کو ہے، ہم ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ آپس میں خیالات اور Best Practices، نیز اپنی بصیرت اور مہارت کے تبادلے کے ذریعے ہم ماہولیاتی آلودگی اور موسمی تبدیلی جیسے عالمی مسائل حل کر سکتے ہیں، اور اپنے شہریوں کے لئے صاف، سستی اور قابل اعتماد توانائی کی فراہمی یقینی بنا سکتے ہیں جو ہمارے شہروں اور گھروں کو چلانے کیلئے ضروری ہے۔ مزید یہ کہ ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہم اپنے شہریوں کو وہ تمام بنیادی سہو لتیں اور مواقع فراہم کریں جو ان کو اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اجاگر کرنے ، خوشحال اور صحت مند زندگی گزارنے میں معاون ہوں۔
آپس میں مل کر کام کرنے سے ہم جدت اور معاشی ترقی میں تیزی لا سکتے ہیں جس سے برطانوی اور پاکستانیوں، لندن اور لاہور کے شہریوں، کاکنی (Cockney) اور کراچی والوں تمام کا یکسر فائدہ ہو۔ یقینا UK اور پاکستان کے موجودہ تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق ہماری باہمی تجارت کا حجم 2.5 بلین پائونڈ سالانہ تھا، اور لندن کی پاکستان مین انویسٹمنٹ دبئی اور بیجنگ کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ان روابط کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے اور انویسٹمنٹ اور تجارت میں مزید اضافہ کی بے پناہ گنجائش ہے۔
BREXIT ووٹ کے بعد ۔ UK کے یورپین یونین (European Union) سے انخلا کے فیصلہ کے بعد۔ کچھ ملکوں نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ میرا ملک باقی دنیا سے منہ موڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔ میں یہاں آپ سے یہ کہنے آیا ہوں کہ جہاں تک لندن کا سوال ہے تو ایسی قطعی کوئی بات نہیں ہے۔ ہمارا شہر آپ کو خوش آمدید کہتا ہے اور کاروبار کرنے کیلئے دنیا کا موزوں ترین شہر ہے۔ ہماری بنیادی خصو صیات، جیسے کہ ہماری نہایت پڑھی لکھی افرادی قوت، کاسموپولیٹن کلچر (Cosmopolitan Culture)، تیزی سے ترقی کرتا ٹیکنالوجی کا شعبہ، دنیا کی صف اول کی یونیورسٹیاں، اور دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جانیوالے قانونی اور معاشی ادارے، یورپین یونین (European Union) ریفرنڈم کے نتیجے سے قطع نظر اپنی جگہ موجود ہیں ۔ اور بطور مئیر ، میں لندن میں دنیا بھر کے کاروباری حضرات کو خوش آمدید کہنے کی تاریخی روایت کو جاری رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں۔
دیگر سیاستدان اور ممالک کے سربراہان کے بر عکس جو صرف کاروباری مواقع کے بارے میں ہی بات کرتے ہیں، میںلندن میں پاکستانیوں کیلئے کام، سیر اور تعلیمی مواقع میں بھی بے حد دلچسپی رکھتا ہوں۔ پچھلے ہفتے مجھے پاکستانی ہائی کمشنر کے ہمراہ قائد اعظم کے مجسمے کی رو نمائی کرنے کا موقع ملا۔ پاکستان کے بانی لندن میں تعلیم حاصل کر کے بیرسٹر بنے تھے۔ لندن کا صدیوں سے کامیابی کا راز یہی ہے کہ دنیا کے بہترین ذہن جن میں بہت سے پاکستانی بھی شامل ہیں نے اس شہر کا رخ کیا۔ اس وقت لندن کی چالیس فیصد آبادی UK سےباہر پیدا ہوئی تھی، اس لئے ہمیں امیگریشن اوراس کی ہماری معیشت، معاشرے اور کلچر میں اہمیت کا اندازہ ہے۔
ہمیں فخر ہے کہ لندن دنیا کا سب سے ترقی پسند اور متنوع شہر ہے۔ لندن ہر مذہب ، شہریت اور طبقے کے افراد کو خوش آمدید کہتا ہے۔ یہ بات سب کیلئے عیاں ہے، لندن نے ناصرف مجھے ،ایک مسلمان کو اپنا مئیر منتخب کیا بلکہ ہم ٹریفیلگر کے تاریخی چوک میں عید، بیساکھی، دیوالی، چانوکھا اور ہر سال دیگر کئی تہوار مناتے ہیں۔
میرا اس دورے کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ لندن نا صرف نئی کمرشل اور کاروباری پارٹنرشپ، بلکہ نئے ثقافتی تعلقات اور پاکستانی عوام ، چاہے آپ کاروبار کرتے ہیں، طالب علم ہیں یا سیاح ہیں، کا خیر مقدم کرتا ہے۔
مجھے علم ہے کہ ہمارے ملک اور شہروں کو بہت سے مشترکہ چیلنجز (challenges) کا سامنا ہے ،اور یقین ہے کہ ہم اپنے تعلقات، جن کی بنیاد کاروبار، ثقافت اور افراد پر ہو، کو مزید مستحکم کر کے آنے والے کئی سالوں تک بے پناہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اورمستقبل کو مزید روشن دیکھنے کی امید کر سکتے ہیں۔