| |
Home Page
بدھ 24 ربیع الاوّل 1439ھ 13 دسمبر2017ء
حذیفہ رحمٰن
December 07, 2017 | 12:00 am
سانحہ ماڈل ٹاؤن۔پیچھے کون؟

Saniha Model Town Peechay Kaun

ہر وار کی ناکامی کے بعد نیا وار تیار ہوتا ہے۔مسلم لیگ ن کے اقتدار کی کشتی ایک بھنور سے نکلتی ہے تو دوسرا طوفان آ جاتا ہے۔ ایک کے بعد ایک وار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ’’مسیحاؤں‘‘ کی کوئی چال بھی کامیاب نہیں ہوپا رہی۔ گزشتہ چار سالوں کے دوران جو کچھ مسلم لیگ ن کی حکومت کے ساتھ کیا گیا اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی جمہوری حکومت کو اتنی آزمائشوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا مسلم لیگ ن کی حالیہ حکومت کو کرنا پڑا ہے۔ مگر نوازشریف ہار ماننے کا نام نہیں لے رہے۔ ہر وار کا پوری قوت اور حوصلے سے مقابلہ کرتے آرہے ہیں۔ لیکن سابق وزیراعظم نوازشریف رائیونڈ میں بیٹھ کر طاقتوروں کو کہتے ضرور ہوں گے کہ
اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہے
اے چارہ گرو،درد بڑھا کیوں نہیں دیتے
اس بار نشانہ پنجاب حکومت ہے۔ شہباز شریف کی حکومت کو متنازع بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر رپورٹ کو ایک مرتبہ پھر پبلک کیا گیا ہے۔جی ہاں سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی رپورٹ کو دوسری مرتبہ پبلک کیا گیا ہے۔ خفیہ ہاتھ بہت طاقتور ہوتے ہیں مگر یہی خفیہ ہاتھ شاید بھول جاتے ہیں کہ ہماری یادداشت اتنی بھی کمزور نہیں ہے۔ تین سال قبل اسی رپورٹ کو ایجنسیوں کے ذریعے لیک کیا گیا تھا اور مجھ سمیت ہمارے بہت سے دوستوں تک اس کی کاپیاں پہنچائی گئی تھیں۔ اسی رپورٹ پر کھل کر پروگرام اور تبصرے کئے گئے تھے۔ جس کے بعد اس وقت کی عسکری قیادت کی مداخلت کے بعد یہ سلسلہ تھم گیا اور واقعہ کی ایف آئی آر درج کرکے ایک نئی جے آئی ٹی بنانے پر اتفاق ہوا۔ مگر میرا سوال ہے کہ اب تین سال بعد ایسا کیا ہوا کہ اس رپورٹ کو دوبارہ پبلک کیا گیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں اس رپورٹ کو پبلک کیا جانا ،جب مسلم لیگ ن کی حکومت کا ہر طرف سے محاصرہ کیا ہوا ہے۔ اس طرح کے اقدامات اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگادیتے ہیں؟ چند حقائق قارئین کے گوش گزار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ آج ہم سب کو مل کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ تین سال بعد اس رپورٹ کو دوبارہ پبلک کرنے کا مقصد کیا ہے؟ جبکہ تین سال قبل اسی رپورٹ کے انہی مندرجات پر درجنوں ٹاک شوز کئے جاچکے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس رپورٹ کی حتمی سفارشات کیا ہیں؟ رپورٹ میں ملک کے وزیراعظم سے لے کر نچلے افسر تک ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ حالانکہ حکومت انکوائری ایکٹ 1956کے تحت اس رپورٹ کی کسی بھی سفارش کو ماننے کی پابند نہیں ہے اور انکوائری ایکٹ 1956میں واضح درج ہے کہ اس قسم کی کوئی انکوائری رپورٹ کیس پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ لیکن بہرحال عوامی تحریک نے ایک درخواست تیار کرکے ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور ملک کے وزیراعظم ،وزیر داخلہ،وزیر ریلوے، وزیراعلیٰ پنجاب ،وزیر قانون سمیت درجنوں افراد پر ایف آئی آر درج کروانے کا حکم حاصل کیا۔ حکومت نے عوامی تحریک کی جو درخواست ہائیکورٹ میں جمع ہوئی تھی،اسی متن کی ہوبہو کاپی کرکے مقدمہ درج کیا۔ یعنی کے جسٹس باقر نجفی صاحب کی انکوائری رپورٹ کی سفارش پر پہلے ہی عمل ہوچکا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مقدمے کی کسی سیاسی شخصیت کو طلب نہیں کیا۔ میری اطلاع کے مطابق اس وقت کی عسکری قیادت کی گارنٹی کے بعد عوامی تحریک کا دھرنا ختم ہوا اور ایک غیرمتنازع جے آئی ٹی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ عسکری قیادت اس جے آئی ٹی میں ضامن تھی۔ پولیس سروس آف پاکستان کے ایک نیک نام افسر عبدالرزاق چیمہ کی سربراہی میں جے آئی ٹی نے کام شروع کیا۔ کوئٹہ میں تعینات عبدالرزاق چیمہ کی جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، ایم آئی ،آئی بی سمیت تمام متعلقہ اداروں کے لوگ شامل تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے خود پیش ہوکر جے آئی ٹی کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ اس جے آئی ٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو بے گناہ لکھا۔ اس سے قبل ایڈیشنل آئی جی عارف مشتاق کی سربراہی میں بننے والی جے آئی ٹی نے بھی شہباز شریف کو بے گناہ لکھا تھا۔ دلچسپ بات ہے کہ عوامی تحریک نے جو شکایت ہائیکورٹ میں جمع کرائی اور اس پر مقدمہ درج کروایا، اس کے متضاد ایک اور شخص نے ایک مزید شکایت درج کروائی۔ یعنی کہ ہر مرتبہ نیا جھوٹ بولا گیا۔ مگر تحقیقات میں اس کی شکایت بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالے سے ماڈل ٹاؤن بلایا جانا جھوٹ ثابت ہوا۔ تحقیقات کے دوران پولیس ملازمین کے علاوہ عوامی تحریک کے کچھ ملزمان کےبھی چالان ہوئے مگر اس پر کینیڈین پلٹ علامہ نے کبھی کچھ نہیں کہا۔ فرانزک کرنے والے ایک سینئر ڈاکٹر نے مجھےبتایا کہ زندگی کا پہلا اور آخری فرانزک تھا جس میں مرنے والوں کے وائٹل آرگنز پر ایک گولی لگی ہے۔ جبکہ دوسری طرف حقائق بتاتے ہیں کہ پاکستان عوامی تحریک نے پولیس کو اندر گھسنے نہیں دیا۔ پھر ان سب جاں بحق افراد کو کس نے چن چن کر سر اور ماتھے پر گولیاں ماریں۔ یعنی کہ کوئی تیسرا فریق بھی سانحہ کی جگہ پر موجود تھا۔
انگریزی کا محاورہ ہے کہ جب جنگ شروع ہوتی ہے تو پہلی گولی سچ کو لگتی ہے۔ اس معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ا ٓج تک کی پوسٹ مارٹم رپورٹس،ورثا کے بیانات اور عوامی تحریک کی جانب سے درج شدہ ایف آئی آر کے مطابق دس افراد کو گولیاں ماری گئیں مگر اس رپورٹ کے مطابق چودہ افراد کا قتل ہوا ہے۔ جی ہاں رپورٹ میں واضح درج ہے کہ چودہ افراد اس واقعہ میں مارے گئے ہیں۔ افسوس ہوتا ہے یہ کہتے ہوئے کہ مرنے والوں کی تعداد پر سچ نہیں لکھا گیا۔ ایک ایسے وقت میں یہ سانحہ ہوا جب وزیراعلیٰ پنجاب چیف جسٹس کی حلف برداری کی تقریب میں گورنر ہاؤس میں موجود تھے۔ کیا کسی نے اس پر روشنی ڈالی؟ بہرحال پنجاب حکومت نے بہت اچھا فیصلہ کیا کہ اس رپورٹ کے حوالے سے مزید حکم امتناعی لینے کے بجائے اسے پبلک کردیا کیونکہ جو مفروضے اس رپورٹ کے حوالے سے قائم کئے گئے تھے، کم ازکم وہ دفن ہوچکے ہیں۔ اس رپورٹ میں ایسا کچھ نیا نہیں ہے، جس کا پہلا کبھی تذکرہ نہ کیا گیا ہو۔