| |
Home Page
جمعرات18؍ ربیع الثانی 1439ھ 18 ؍ جنوری2018ء
December 14, 2017 | 12:00 am
قومی اسمبلی، فاٹا بل پھر پیش نہ ہوسکا، اپوزیشن نے مستقل بائیکاٹ کردیا

Todays Print

قومی اسمبلی، فاٹا بل پھر پیش نہ ہوسکا، اپوزیشن نے مستقل بائیکاٹ کردیا

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) فاٹا اصلاحات کا ترمیمی بل ایجنڈے سے نکالنے کا ایشو بدھ کے روز بھی قومی اسمبلی میں جاری رہا۔ فاٹا اصلاحات بل تیسرے دن بھی ایوان میں پیش نہ ہوسکا، اپوزیشن نے بل دوبارہ ایجنڈے پر لانے تک قومی اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے تمام ممبران اجلاس سے واک آئوٹ کر گئے، جس کے بعد حکومت ایک پھر کورم پورا کرنے میں ناکام ہوگئی، وزیروں کی اکثریت بھی ایوان سے غیر حاضر تھی، کورم کی نشاندہی کے بعد اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی ملتوی کر دی۔ ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی 35منٹ کے بعد 11بجکر 29منٹ پر ایوان میں آئے۔ انہوں نے گنتی کرائی تو کورم پورا نہیں تھا لہٰذا کارروائی جمعرات کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ اس طرح کورم مسلسل پانچویں دن بھی ٹوٹ گیا۔ پیپلزپارٹی کے رکن نوید قمر کا کہنا تھا کہ حکومت نے بل سیاسی بنیادوں پر واپس لیا، ہمارا اصولی موقف ہے کہ جب تک حکومت فاٹا اصلاحات کا بل دوبارہ قومی اسمبلی میں نہیں لائیگی، اپوز یشن ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لے گی، ہم واک آئوٹ کرتے ہیں۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ صرف دو افراد کے چاہنے یا نہ چاہنے کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ اسپیکر ایاز صادق نے آبزرویشن دی کہ حکومت کو بل لانے سے پہلے اپنا ہوم ورک مکمل کرنا چاہیے تھا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے جونہی وقفہ سوالات شروع کرنے کا اعلان کیا تو پیپلزپارٹی کے رہنما سید نوید قمر اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے۔ نوید قمر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر بتا چکے ہیں کہ ہمارا اصولی موقف ہے کہ جب تک حکومت فاٹا اصلاحات کا بل دوبارہ قومی اسمبلی میں نہیں لائیگی اپوزیشن ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لے گی۔ انہوں نے کہاکہ فاٹا کیلئے عدالتوں کے دائرہ کار کی توسیع فاٹا اصلاحات کی جانب پہلا قدم ہے۔ حکومت نے یہ بل سیاسی بنیادوں پر واپس لے لیا ہے پوری قوم ایک طرف کھڑی ہے قوم کا مطالبہ ہے کہ اس بل کو پاس کیا جائے۔ حکومت بل دوبارہ ایوان میں لائے۔ انہوں نےواک آئوٹ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم واک آئوٹ کرتے ہیں حکومت اکیلے ایوان چلانا چاہتی ہے تو چلائے۔ اسپیکر نے کہا کہ میرے پاس عبدالستار بچانی، رانا اسحٰق اور چند ممبران آئے تھے وہ چاہتے ہیں کہ گنے کے کاشتکاروں کا ایشو زیر بحث لایا جائے۔ سید نوید قمر نے کہاکہ یہ انفرادی نہیں اجتماعی مسئلہ ہے۔ کل بھی اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا ہے جس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ فاٹا اصلاحات بل ایجنڈے پر آنے تک بائیکاٹ جاری رہے گا۔ عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد نے کہاکہ دنیا میں بحران کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے داعش کو افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے پاس منتقل کیا جا رہا ہے بھگوڑوں کو سرحد کے قریب جمع کیا جا رہا ہے۔ فاٹا اصلاحات بل کے بارے میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ صرف دو افراد کے چاہنے یا نہ چاہنے کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر حکومت سمیت تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔ میں نے اپنی سیاسی زندگی میں ایسے نہیں دیکھا کہ ایجنڈے پر بل آئے اور اسے پھر نکال دیا جائے۔ اس سے پورے ایوان کا استحقاق مجروح ہو ا ہے۔ بتائیں کے ایجنڈے میں کس طر ح تبدیلی آئی ہے یہ حساس مسئلہ ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا نہ ہو فاٹا کے ممبران کا استعفیٰ دینے کا وقت آ جائے اور دوسرے ممبران بھی انکے ساتھ استعفے دینے کیلئے کھڑے ہو جائیں۔