| |
Home Page
جمعرات18؍ ربیع الثانی 1439ھ 18 ؍ جنوری2018ء
حذیفہ رحمٰن
December 14, 2017 | 12:00 am
نیب کا دہرا معیار اور شہباز شریف

Nab Ka Dohra Maiyar Or Shahbaz Sharif

شہباز شریف آج مسلم لیگ ن کی وجہ مضبوطی سمجھے جاتے ہیں۔ گزشتہ دس سالوں کے دوران پنجاب میں مسلم لیگ ن کی جڑیں جتنی مضبوط ہوئیں پہلی کبھی نہیں تھیں۔ مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کی پہلی وزارت اعلیٰ کے دوران شریف خاندان نے پنجاب کو اپنا قلعہ بنانے کی بنیاد رکھی تھی۔ مگر سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ ن کو پنجاب میں بے حد کمزور کردیا گیا۔ میاں صاحبان کی غیرموجودگی میں مسلم لیگ ق کی بنیاد رکھی گئی۔ سیاسی پنڈتوں کی رائے تھی کہ آئندہ چند دہائیوں تک مسلم لیگ ق پنجاب کی واحد حکمران جماعت رہے گی۔ 2007میں شریف خاندان کی واپسی کے بعد پنجاب میں مسلم لیگ ن کو سادہ اکثریت نصیب ہوئی۔ بیساکھیوں کے سہارے پنجاب حکومت کو شفافیت سے چلانا بہت کٹھن مرحلہ تھا۔ شہباز شریف کی انتھک محنت اور بھرپور انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے مسلم لیگ ن ایک بار پھر سے پنجاب کی واحد مقبول ترین جماعت بن گئی۔ فارورڈ بلاک اور آزاد اراکین کی مدد سے چلنے والی حکومت کو 2013 میں 300سے زائد اراکین اسمبلی کا اعتماد حاصل ہوا۔ پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ ن نے کلین سوئپ کیا۔ شخصیات کے بجائے مسلم لیگ ن کے اوسط درجے کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ عبدالغفار ڈوگر جیسے کارکن نے یوسف رضا گیلانی اور شاہ محمود قریشی جیسی مضبوط سیاسی شخصیات کو شکست دی۔ پنجاب کے دیہات میں مسلم لیگ ن کا ووٹ بنک تیزی سے بڑھا۔ سیلاب کے بدترین دنوں کو عوام آج تک نہیں بھول سکے۔ جنوبی پنجاب کے دیہی حلقوں کے عوام شہباز شریف کو مسیحا قرار دیتے ہیں۔ بڑے بڑے جاگیر داروں اور وڈیروں سے غریب عوام نے صرف شہباز شریف کے سہارے پر اپنا حق حاصل نہیں کیا بلکہ چھینا۔ شاہوالی سے لے کر دائرہ دین پناہ تک ہر مظلوم کی پکار ہوتی تھی کہ ’’ظالمو ڈرو شہباز شریف آرہا ہے‘‘۔ بہرحال المختصر نوازشریف کی قائدانہ اور شہباز شریف کی انتظامی صلاحیتوں کے میلاپ سے پنجاب حقیقی معنوں میں مسلم لیگ ن کا گڑھ بن گیا۔ آج عمران خان جیسے بدترین مخالف بھی نجی محفلوں میں شہبازشریف کی انتظامی صلاحیتوں کی تعریف کئے بنا نہیں رہ سکتے اور ناقد بھی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ جیسے مرضی حالات ہوں، جس کا بھی دباؤ ہو آئندہ انتخابات میں پنجاب مسلم لیگ ن کے پاس رہے گا۔
نوازشریف کے بعد آج ان کے بھائی شہباز شریف نشانے پر ہیں۔ مخالفین نے اپنی توپوں کا رخ پنجاب حکومت کی طرف کرلیا ہے۔ گزشتہ رات تحریک انصاف کے دو صف اول کے رہنما گھر تشریف لے آئے۔ طویل نگران حکومت کے تحریک انصاف کو نقصان اور فوائد پر بحث عروج پر تھی۔ اچانک ایک ٹی وی چینل پر مسلم لیگ ن سے شدید ناراض ایک ممبر اسمبلی کہنے لگے کہ شریف خاندان سے تمام تر اختلافات کے باوجود میرا دل نہیں مانتا کہ شہباز شریف سانحہ ماڈل ٹاؤن کا حکم دے سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے دونوں رکن قومی اسمبلی اس شخص کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ ٹھیک کہہ رہا ہے، جس شہبازشریف کو ہم جانتے ہیں وہ ایک چڑیا پر ظلم نہیں کرسکتا، سانحہ ماڈل ٹاؤن تو بہت دور کی بات ہے۔ گفتگو طویل ہوگئی تو لب لباب یہی نکلا کہ شہبازشریف ایک گہری سازش کا شکار ہوئے ہیں، ایک ایسی سازش جس کا مقصد مسلم لیگ ن کو پنجاب میں مضبوط کرنے کا بدلہ لینا تھا۔ آج بھی توپوں کا رخ شہباز شریف کی طرف اسی وجہ سے ہے کہ بہت سے لوگوں کی خواہش تھی کہ نوازشریف کی نااہلی کے بعد شہبازشریف وزارت عظمیٰ اور مسلم لیگ ن کی صدارت سنبھال لیں اور تناؤ کو کم کرنے کے لئے کردار ادا کریں۔ مگر مری میں ہونے والی خاندانی نشست میں شہبازشریف نے خود وزیراعظم بننے سے معذرت کی، جبکہ میری اطلاع کے مطابق تمام تر صورتحال کے دوران شہباز شریف کو واضح پیغام دیا گیا کہ آپ وزیراعظم بن جائیں اور مسلم لیگ ن کی باگ ڈور سنبھال لیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اس پر شہبازشریف نے خوبصورت جواب دیا، مسکرائے اور کہنے لگے کہ ’’بھائی جان کے بغیر تو سیاست کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایسا سوچ بھی کیسے لیا کہ میں وزارت عظمیٰ جیسی مادی چیز کے لئے نوازشریف کو نظر انداز کردوں گا‘‘ یہ سب وہ عوامل ہیں جنہوں نے مخالفین اور ہمارے دوستوں کو شہبازشریف سے انتقام کے لئے مجبور کیا۔ آج آصف زرداری جیسا شخص بھی احتساب اور شفافیت کی بات کرتا ہے۔ جس ملک میں آصف زرداری کرپشن اور قومی خزانے کو لوٹنے کے مقدمے میں باعزت بری ہوجائے وہاں میرٹ اور شفافیت کے معیار کیا ہونگے۔ آج شہباز شریف سے پرانا اسکور سیٹل کرنے کے لئے زرداری صاحب میدان میں ہیں۔ مگر شاید پی پی پی کے بانی چیئرمین یہ نہیں جانتے کہ عوامی تاثر کسی فیصلے یا کیس کی تحقیقات سے نہیں بنتا۔ مثال ہمارے سامنے ہے۔ احتساب عدالت نے آصف زرداری کو بری کیا مگر عوام تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ پیپلزپارٹی کے ایک سنجیدہ رہنما نے کہا کہ آصف زرداری کا بری ہونا اس صدی کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔
حدیبیہ کیس میں بھی جان بوجھ کر روح صرف اس لئے پھونکی گئی ہے کہ مسلم لیگ ن کی وجہ مضبوطی کو کمزور کیا جائے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ناکامی کے بعد اب معاملہ احتساب سے جوڑا جارہا ہے۔ کچھ معاملات کا میں عینی شاہد ہوں۔ گزشتہ چار سال کے دوران نیب پنجاب نے کچھ انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مل کر شہباز شریف سے متعلق ہر کاغذ کو کریدا مگر بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ شہباز شریف ایک ایماندار آدمی ہے۔ نیب کے موجودہ چیئرمین بیشک اس معاملے کی تصدیق کرلیں۔ آج بھی کوشش ہے کہ من پسند افراد کی موجودگی میں حدیبیہ کیس کو آگے بڑھایا جائے۔ مگر شاید سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ اللہ کی شان دیکھیں کہ پراسیکیوٹر جنرل نیب کی غیر موجودگی میں ایک من پسند شخص کو اسپیشل پراسکیوٹر لگا کر حدیبیہ کیس کی نمائندگی شروع کردی گئی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج جسٹس قاضی فائز عیسی کا ایک کیس میں تفصیلی فیصلہ موجود ہے۔ جس کے مطابق سرکاری لا آفیسرز کی موجودگی میں پرائیویٹ لا آفیسرز تعینات نہیں کیا جاسکتا۔ جبکہ اس وقت نیب میں بیس کے قریب سرکاری پراسیکیوٹر موجود ہیں۔ حدیبیہ کیس میں شاہ خاور کی بطور اسپیشل پراسیکوٹر تعیناتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی نہیں؟ نیب کو شفافیت اور میرٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی کرنی چاہئے۔ تاثر ہے کہ ایک مخالف جماعت سے وابستگی کے باوجود متنازع شخص کو غیر قانونی طور پر اسپیشل پراسیکوٹر لگایا گیا۔ جس سے احتساب کے ادارے پر بہت انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ کرپٹ شخص چاہے وہ کوئی سیاستدان ہو یا وکیل ہو کبھی بھی ایماندار آدمی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ نئے چیئرمین نیب کو یہ تاثر زائل کرتے ہوئے ایسے پیمانے مقرر کرنے چاہئیں کہ انصاف ہو نہیں بلکہ ہوتا ہوا نظر آئے۔