| |
Home Page
جمعرات18؍ ربیع الثانی 1439ھ 18 ؍ جنوری2018ء
January 12, 2018 | 12:00 am
پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی، 260منی مائیکرو ہائیڈل اسٹیشن شروع نہ ہو سکے

Todays Print

پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی، 260منی مائیکرو ہائیڈل اسٹیشن شروع نہ ہو سکے

پشاور(ارشد عزیز ملک) تحریک انصاف حکومت دعوئوںکے برعکس مقررہ مدت میں 356منی مائیکرو ہائیڈل اسٹیشن تعمیر کرسکی اور نہ ہی نو تعمیر شدہ 260 منی مائیکرو ہائیڈل سٹیشن باضابطہ طور پر چالوکرسکی ۔پیڈو افسروں کی نااہلی اورغفلت کے باعث چارسالوں میںمنصوبے چالو کرنے کے لئے کوئی پالیسی ہی مرتب نہ ہوسکی ۔حکومتی پالیسی کی عدم دستیابی کے باعث صوبے کے 12اضلاع کے پسماندہ ترین علاقوں میں بجلی کی فراہمی ممکن نہ ہو سکی ۔ 5 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے 356 منصوبوں سے صرف 35میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی تاہم حکومت کو ان منصوبوں سے کوئی رقم واپس نہیں ملے گی ۔حکومت پہلا ٹارگٹ حاصل نہیںکرسکی البتہ مزید 672 منی مائیکرو ہائیڈل سٹیشن تعمیر کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے جس کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 8 ارب رو پےکا قرض لیا جارہے ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت ابھی تک 672 سائٹس کا بھی انتخاب نہیں کیا گیا ‘سیکرٹری توانائی انجینئر نعیم خان جن کے پاس پیڈو کے چیف ایگزیکٹو افیسر کا اضافی چارج بھی ہے کا دعویٰ ہے کہ 160 سٹیشن عارضی طور پر چالو کرکے مقامی آبادی کے حوالے کردئیے ہیں جس سے بجلی کی تقریبا 10 میگاواٹ پیداوار شروع ہوچکی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ہائیڈل سٹیشن چلانے کیلئے کوئی پالیسی مرتب نہیں ہوسکی جسکے باعث منصوبوں کو مقامی لوگوں کے حوالے کرنے میں مشکلات درپیش ہیں ۔انھوں نے جون 2018 تک 356 منصوبے مکمل کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق تحریک انصاف حکومت نے صوبہ کے 12اضلاع کے پسماندہ ترین علاقوں میں 356منی مائیکرو ہائیڈل سٹیشن) جنہیں عمران ڈیم قرار دیتے ہیں )تعمیر کرنے کافیصلہ کیا تھا جس پر لاگت کا تخمینہ 5ارب روپے لگایا گیا ‘ پیڈو نےستمبر 2014 میں مقامی این جی اوز کے ذریعے ان منصوبوں کا آغاز کیا جن کو 18ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا‘ جس کی معیاد مارچ 2016ء کو مکمل ہوئی تاہم اس مدت کو بڑھا کر جون 2016ء اور پھر اس مدت کو دسمبر2017 اور پھر جون 2018ء تک بڑھا دیاگیا‘سرکاری دستاویزات کے مطابق جنوری 2018ء تک 260پراجیکٹ مکمل ہوئے حالانکہ حکومت نے ستمبر 2014ء میں دعویٰ کیا تھا کہ18ماہ میں 356 ڈیم تعمیر ہونگے ۔ حکومت اور پیڈو حکام کی نااہلی کے باعث نو تعمیر شدہ 260 پراجیکٹس بجلی کی فراہمی کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں لیکن حکومت نےہائیڈل سٹیشن چلانے ‘ٹیرف اور دیگر لوازمات کو طے ہی نہیں کیا جس کےباعث منصوبے بند پڑے ہیں ۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے 3لاکھ افراد کو بجلی کی سہولت میسرآنی تھی‘پالیسی کے تحت حکومت کو مقامی آبادیوں میں کمیونٹی بیس آرگنائزیشن قائم کرنا تھی تاکہ وہ منصوبے کی نگرانی کرے ‘ان کی رجسٹریشن ہونا تھی۔ہائیڈل سٹیشن کو چلانے کیلئے دو افراد کا انتخاب اور ان کی تربیت ہونا تھی جن کی تنخواہ بھی طے کرنا ہے ۔پالیسی میں بجلی کی قیمت کا تعین بھی شامل ہے جس کو بل کی صورت میں وصول کیا جانا ہے جبکہ منصوبے کی انشورنس کا بندوبست بھی ہونا ہے جس کے تحت کسی سیلاب یا زلزلے کی صورت میںمنصوبے کی دوبارہ تعمیر ممکن ہوسکے ۔پالیسی کا ایک اہم نقطہ ہائیڈل منصوبوں کی مرمت اور مینٹیننس کا بھی ہے جس کیلئے کمیونٹی کو اپنی آمدن کا 30 فیصد پیڈو کو ہرماہ جمع کرانا ہوگا تاکہ کسی بھی خرابی کی صورت پیڈو منی ڈیم کی مرمت کرسکے ۔حکومت نے منی ڈیم کی پالیسی2014 ءمیں تیار کی لیکن مقامی آبادی کو ڈیم حوالے کرنے کیلئےکوئی پالیسی مرتب نہ کرسکی جس کے کے باعث منصوبے چالو نہ ہوسکے۔ پیڈو کےافسر نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سوات کے کئی علاقوں میں مقامی افراد نے کئی منصوبے زبردستی خو د ہی چالو کرلئے ہیںاور لوگوں نے بلوں کی ادائیگی سے بھی انکار کردیا ہے۔قوانین کے تحت حکومت پالیسی کے بغیر کوئی بھی منصوبہ کسی فرد یا ادارے کے حوالے کرنے کی ہرگز مجاز نہیں ‘ اس حوالے سے سیکرٹری توانائی نعیم خان سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ اب تک قواعدوضوابط طے نہیں ہوسکے حالانکہ پی سی ون کے ساتھ ہی پالیسی بن جانی چاہیے تھی تاخیر کی ذمہ داری کے حوالے سے استفسار پر ان کا موقف تھا کہ اس وقت کے پیڈو افسران ہی ذمہ دا ر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی میںمزید تاخیر ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ مشاورت کے باعث بھی ہوئی ہے کیونکہ حکومت ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے دوسرے مرحلے میں مزید 672منی مائیکرو ہائیڈل سٹیشن تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کیلئے بینک 8ارب روپے قرضہ فراہم کرے گا ۔بینک منی مائیکرو منصوبوں کے حوالے سے ایک جامع پالیسی مرتب کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ مستقبل میںکوئی تنازعہ جنم نہ لے ۔ انہوں نے بتایا کہ تاخیر کے باعث پیڈو نے 160پراجیکٹس عارضی طور پر مقامی آبادی کے حوالے کردئیے ہیں تاکہ وہ بجلی پیدا کر سکیں جبکہ پالیسی بہت جلد منظور کرلی جائیگی ۔