| |
Home Page
اتوار 3؍ جمادی الاوّل 1439ھ 21 ؍ جنوری2018ء
January 12, 2018 | 12:00 am
بچوں کو اسکول میں تربیت دیکر قصورجیسے واقعات کی روک تھام کی جاسکتی ہے،شہزاد رائے

Todays Print

بچوں کو اسکول میں تربیت دیکر قصورجیسے واقعات کی روک تھام کی جاسکتی ہے،شہزاد رائے

کراچی(اسٹاف رپورٹر)معروف گلوکار، سماجی کارکن اوراقوام متحدہ کے پاکستان میں خیر سگالی کے سفیر شہزاد رائے نے کہاہے کہ معصوم زینب کا قتل انسانیت کی تذلیل ہے۔ جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہوگا وہ اس سانحے پر ضرور رویا ہوگا۔ملک میں ہر پانچواں بچہ زیادتی کا شکار ہورہا ہے۔بچوں کو گھر اور اسکول میں تربیت دے کر ایسے واقعات کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔وہ جمعرات کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پران کے ہمراہ اداکارہ ماہرہ خان، صنم سعید، حنا خواجہ بیات ، پائلر کے کرامت علی، سول سوسائٹی کے رہنما جبران ناصرو دیگربھی موجود تھے ۔شہزاد رائے نے کہا کہ یہ سانحہ انسانیت کی تذلیل ہے زینب تو دنیا سے چلی گئی لیکن ہمیں بچوں کے تحفظ کے لیے سوچنا ہوگا ملک میں ہر پانچواں بچہ زیادتی کا شکا ر ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بچوں کو صحیح اور غلط کی پہچان کرانا ہوگی بچوں سے زیادتی مارپیٹ کرنے والے کوسخت سزا دینی چاہئے۔ایسے واقعات سے بچنے کے لیے اسکولوں میں بچوں کوآگاہی ضروری ہے بچوں سے زیادتی میں90فیصدقریبی لوگ ملوث ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ والدین اور بچوں کے درمیان اس معاملے پر بات چیت ہونی چاہئے۔گھر اور اسکول میں بچوں کوتربیت دے کرایسے واقعات سے بچایا جاسکتا ہے۔ ایسے اکثرواقعات ہیں جوسامنے نہیں آتے جبکہ اس سلسلے میں قوانین بھی موجود ہیں۔ انہوںنے کہا کہ زینب کے واقعے پر جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہوگا وہ ضرور رویا ہوگا۔ مارنے لٹکانے سے مسئلہ حل ہوجاتا تو حل ہو چکا ہوتا آج بہت سے بچے اس ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔ دس فیصد باہر کے لوگ زیادتی کرتے ہیں باقی اپنے ہوتے ہیںاور اگر بچہ ماں باپ کو بتائے تو وہ کہتے ہیں کہ ذکر نہ کرو۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں جب تربیت دینے کی کوشش کی گئی تو اسے روکا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں مرد کو رونا نہیں چاہیئے ہم نے تربیت دینی ہے کہ مرد کو رلانا نہیں چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مجرموں کو جلد ازجلد گرفتار کر کے پھانسی دی جائے ۔