| |
Home Page
اتوار 3؍ جمادی الاوّل 1439ھ 21 ؍ جنوری2018ء
January 12, 2018 | 12:00 am
دہشتگردی کیخلاف تمام اداروں میں تعاون ناگزیرہے،فوجی ترجمان

Todays Print

دہشتگردی کیخلاف تمام اداروں میں تعاون ناگزیرہے،فوجی ترجمان

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن ہم نے اپنی طرف امن قائم کر لیا ہے اور اب افغانستان کو بھی امن قائم کرنا ہوگا ٗپاکستان کے بغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا۔روس کے ساتھ دفاعی تعلقات بڑھ رہے ہیں ۔جمعرات کو میجر جنرل آصف غفور نے ایک انٹرویو کے دوران کہاکہ پاک آرمی سپاہی سےجنرل تک جنگ کی تجربہ کارفوج ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کوپُرامن ملک بناناچاہتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ ڈاکٹرائن ملک میں پائیدارامن لائےگا۔عمومی امن کوپائیدارامن میں بدلناجنرل باجوہ کا مشن ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کےخلاف تمام ادا رو ں میں تعاون ناگزیرہے۔مربوط منصوبےکےتحت دہشتگر د ی کے خلا ف جنگ لڑی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حاصل کیاگیاامن خراب نہیں ہونےدیں گے۔ ہم چاہتے ہیں افغانستان میں امن قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ جنرل کیانی نےانسداددہشتگردی جنگ کی منصوبہ بندی کی۔ افغا نستا ن میں ناکامی کاذمہ دارپاکستان کونہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاک افغان بارڈ رمینجمنٹ امن کےلئےضروری ہے۔ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کےدوران تمام آرمی چیفس نےاچھاکام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے بیان سے متعلق حکومت پاکستان جواب دے چکی ہے لیکن پاکستان کے بغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ایک مشکل مرحلہ تھا کیونکہ فاٹا کی 7 ایجنسیوں میں طالبان کا اثرورسوخ تھا جب کہ سوات آپریشن مختلف تھا کیونکہ وہاں آبادی ہے اور شمالی وزیرستان کے آپریشن سے قبل ایک آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی گئی۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف تمام آپریشنز مختلف تھے لیکن پاکستانی قوم نے ثابت کیا کہ ہم پُرعزم قوم ہیں۔ پاکستان نے اس جنگ میں 100 فیصد نتائج دیئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ عملی طور پر تو ہوچکی ہے لیکن موجودہ مرحلہ مشکل ہے، اب ہماری جنگ ایک اَن دیکھے دشمن کے خلاف ہے اور اْس اَن دیکھے دشمن کو ہمیں ڈھونڈنا اور ختم کرنا ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے کچھ اقدام پاکستان اور کچھ افغانستان کو کرنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ افغان سرحد پرفوج تعینات کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سرحد پار سے حملوں کا خطرہ موجود ہے، ایسی صورت حال میں فوج کم کر کے کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ اگر افغانستان سے خطرہ ختم ہو جائے تو آج ہی اپنی 50 فیصد فوج واپس بلا لیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ جڑی اپنی 2600 کلومیٹر سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا ہے، اگر بارڈر میکنزم طے پا گیا تو سرحد کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بارڈرمینجمنٹ سے متعلق میکنزم پر افغا نستا ن کو دستاویزات بھی بھیجی ہیں، اگر آنے والے سالوں میں بارڈر مینجمنٹ کر لی جائے تو حالات میں بہت بہتری آ جائے گی۔