| |
Home Page
اتوار 3؍ جمادی الاوّل 1439ھ 21 ؍ جنوری2018ء
ظفر محمود
January 12, 2018 | 12:00 am
بلاول اور مریم، اثاثہ یا سیاست پر بوجھ

Bilawal And Maryam Assets To The Country Or A Burden On Politics

نہ کبھی بلاول بھٹو سے ملاقات ہوئی اور نہ مریم نواز سے۔ اِس لئے یہ دو اُبھرتے ہوئے سیاستدانوں کا شخصی خاکہ نہیں بلکہ سیاسی وراثت کے موضوع کا مختصر جائزہ ہے۔ سب کو یقین ہے کہ مریم اور بلاول پاکستان کی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے رہیں گے۔ مگر اِن دونوں کی میدانِ سیاست میں آمد ہر کسی کو ہضم نہیں ہو رہی۔ 2009ء میں راقم سیکرٹری کابینہ اور آصف زرداری صدرِ پاکستان تھے۔ اِن دِنوں بے نظیر بھٹو کے دور کی فائلیں ایوانِ صدر منگوائی گئیں۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ بلاول آکسفورڈ یونیورسٹی سے چھٹی پر پاکستان آیا ہوا ہے۔ وہ اپنی ماں کی زیرِ صدارت کابینہ اور ای سی سی کے اجلاسوں کی کارروائی پڑھتا ہے۔ چاہے ماں کی محبت تھی یا حکومت کے امور میں دلچسپی، مجھے اِس اطلاع سے خوشی ہوئی۔ البتہ میرے ایک ساتھی جل بھُن گئے۔ کہنے لگے ’’ولی عہد کو بادشاہت کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ جمہوریت میں وراثت نہیں ہوتی مگر یہ کم عمر اور ناتجربہ کار لڑکا، حکمران خاندان میں پیدا ہونے پر پارٹی کا چیئرمین ہے اور کل اقتدار میں آیا تو ہم پر بھی حکم چلائے گا۔‘‘ اُن کی بات سُن کر میں جنوبی ایشیا میں خاندانوں کی سیاست کے بارے میں غور کرتا رہا۔
نواز شریف نے اپنے ہر دورِ حکومت میں پڑھے لکھے نوجوانوں کے روزگار کا منصوبہ بنایا۔ پہلے دور میں پیلی ٹیکسی کا تجربہ ہوا۔ دوسرے دور کے دوران ستمبر 1999ء میں ایرانی سپاہِ دانش کی طرز پر پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا ارادہ کیا۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کابینہ نے اٹھارہ ارب روپے کی منظوری بھی دے دی مگر چند دن بعد اُن کی حکومت ختم ہو گئی۔ اِس دفعہ اُنہوں نے خود روزگار اسکیم کے تحت نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرض دینے کی ٹھانی۔ اِس اہم کام کی نگرانی اُنہوں نے اپنی بیٹی مریم کے سپرد کر دی۔ مریم کی ذمہ داری عدالتی فیصلے کی زد پر آئی اور مریم بی بی نے بالآخر سوشل میڈیا میں مسلم لیگ (ن) کا مؤقف پیش کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اُن کی حکمت عملی متنازع رہی۔ مگر الیکشن کی سیاست میں عوام کو متحرک کرنے کی صلاحیت کا اظہار، حلقہ 120کی انتخابی مہم کے دوران ہوا۔ اب سمجھا جا رہا ہے کہ نواز شریف اُنہیں ہی اپنا سیاسی جانشین بنانا چاہتے ہیں۔
انسان مرنے کے بعد بھی، اولاد کے ذریعے، اپنے نام اور کام کا دوام چاہتا ہے۔ اگر نواز شریف، مریم اور آصف زرداری بلاول کو سیاسی وراثت سونپنا چاہتے ہیں تو اِس خواہش کی جڑیں اِسی انسانی کمزوری سے جُڑی ہوئی ہیں۔ زمانہ بادشاہت میں حکمرانی کی وراثت کا دستور تھا مگر جنوبی ایشیائی جمہوریت میں خاندانی سیاست کو بُرا نہیں سمجھا جاتا۔ جواہر لعل نہرو نے اِسی ارادے سے اندرا کی سیاسی تربیت کی۔ اندرا کا دور آیا تو سنجے گاندھی، ماں کی وراثت کے لئے تیار کئے گئے۔ اتفاقاً ایک حادثے میں اُن کی موت ہوگئی۔ ماں نے دوسرے بیٹے راجیو گاندھی کو جہاز کی کاک پٹ سے نکال کر راج نیتی کے لئے تیار کیا۔ راجیو کی ہلاکت کے بعد اُن کی اطالوی پتنی نے نہرو خاندان کے اقتدار کا چراغ منموہن سنگھ کے ذریعے جلائے رکھا۔ کانگریس آج کل اپوزیشن میں ہے مگر چند ہفتے پہلے پارٹی کی سربراہی راجیو کے بیٹے راہول کے سپرد ہوئی ہے۔
سری لنکا میں وزیرِ اعظم بندرا نائیکے کے قتل پر اُن کی بیوی نے مسند اقتدار سنبھالی۔ اپوزیشن نے اُنہیں(wailing wife)، ’’ایک روتی دھوتی بیوہ‘‘ کا خطاب دے کر سیاسی منصب کے لئے ناموزوں قرار دیا۔ مگر وہ سیاسی میدان کی کہنہ مشق شاہسوار ثابت ہوئیں۔ تین دفعہ وزیرِ اعظم کے عہدے پر پہنچیں اور اُن کے بعد، اُن کی بیٹی بھی اِسی عہدے پر متمکن ہوئیں۔ بنگلہ دیش میں اقتدار کی رسہ کشی جاری ہے۔ اُسے ’’بیگمات کی جنگ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ آج کل شیخ مجیب الرحمٰن کی بیٹی کا پلڑا بھاری ہے۔ وہ وزیرِ اعظم ہیں اور بیگم خالدہ ضیاء جو اپنے میاں کے قتل کے بعد کئی دفعہ وزیرِ اعظم بن چکی ہیں، حزبِ اختلاف کی سربراہ ہیں۔ انڈونیشیا میں سوئیکارنو کی بیٹی سوئیکارنو پتری نے 1986ء میں سیاست شروع کی اور 2002 ء میں وزیرِ اعظم کے عہدے تک پہنچیں۔ مگر قوتِ فیصلہ کا فقدان بہت جلد اُنہیں کوچۂ سیاست کے گوشۂ گمنامی میں لے گیا۔ سیاسی وراثت کا مظاہرہ امریکہ اور کینیڈا میں بھی ہوتا ہے۔ جیسے کینیڈی، بش یا کینیڈا کے وزیرِ اعظم ٹروڈو کا خاندان، مگر مغرب میں رائے دہندگان اِس رجحان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ امریکہ میں عوام نے سابق صدر کلنٹن کی بیوی کو اپنا صدر نہیں چُنا۔ اِس وجہ سے ٹرمپ کو صدارت مل گئی۔ اِس کا فیصلہ تو تاریخ کرے گی کہ امریکی عوام کا فیصلہ درست تھا یا غلط۔
مریم اور بلاول اب پاکستان کے سیاسی اُفق کا حصہ ہیں۔ والدین اُن کی تربیت کر رہے ہیں۔ اتالیق کی بھی کمی نہیں، مگر سیاسی میدان میں اُنہیں آخرکار عوامی مقبولیت کے پل صراط سے گزرنا پڑے گا۔ کہتے ہیں کہ گھوڑے کو پانی کے ٹب تک لایا جا سکتا ہے، مگر پینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اِسی طرح والدین بچوں کو عوام کی چوکھٹ تک لا سکتے ہیں مگر دل میں داخل ہونے کے لئے اُنہیں خود ہی کوشش کرنی پڑتی ہے۔
مریم اور بلاول میں چند باتیں مشترک ہیں۔ دونوں غیر سیاسی طاقتوں کی مداخلت پسند نہیں کرتے۔ دونوں کے پاس ریاستی انتظام چلانے کا تجربہ نہیں۔ یہ بہت بڑی کمزوری ہے۔ دونوں میں ایک خصوصیت، لوگوں کے مذہبی رجحان سے فائدہ نہ اُٹھانے کی عادت ہے۔ بلاول لبرل سوچ کا حامل ہے۔ جب سلمان تاثیر، گورنر پنجاب قتل ہوئے تو چند دن بعد ایوانِ صدر میں بین الاقوامی تجارت کے معاملات پر میٹنگ ہوئی۔ دورانِ گفتگو صدر زرداری نے شرکاء سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بلاول اِس واقعہ سے بہت پریشان اور حکومت سے ناراض ہے۔ نرم رویے کی سرکاری پالیسی اُسے پسند نہیں آئی۔ وہ قانون کا احترام نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی چاہتا ہے۔
بلاول اور مریم پاکستانی سیاست پر بوجھ بنیں گے یا ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوں گے۔ اِس کا فیصلہ اُن کی طرزِ سیاست اور اقتدار ملنے کی صورت میں طرزِ حکمرانی سے ہو گا۔ کیا وہ سیاسی برداشت اور بالغ نظری کو فروغ دیں گے؟ کیا وہ قومی مفاد میں مشکل فیصلے کر پائیں گے؟ کیا وہ عوامی توقعات پر پورا اُترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ ہمیں اس کا حتمی علم نہیں، مگر کچھ مثبت اشارے ملتے ہیں۔
پاکستان کی سیاست آسان نہیں۔ یہ دُوسرے ملکوں سے مختلف ہے۔ یہاں غیر سیاسی قوتیں عوامی قیادت پر نہ اعتماد کرتی ہیں، نہ اُنہیں ملک کا انتظام چلانے میں آزادی دیتی ہیں۔ ملکی مفاد کے بارے میں نظریات کا اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ قائدانہ صلاحیت کا اصل امتحان ملک میں موجود دوسری سیاسی طاقتوں کو ساتھ ملا کر غیر سیاسی قوتوں کو اپنے نقطۂ نظر پر قائل کرنے میں ہے۔ ایک صحت مند درمیانی راستے کی تلاش قائدانہ صلاحیت کا اصل امتحان ہو گی ورنہ پاکستان میں غیر یقینی صورتِ حال جاری رہے گی اور عوام بیچارے روز شام ٹیلی وژن اسکرین پر اچھے مستقبل کا امکان تلاش کرتے نظر آئیں گے۔